علی گڑھ،سماج نیوز سروس : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی فیکلٹی آف لاء اور ڈاکٹر امبیڈکر چیئر برائے قانونی مطالعات و تحقیق نے جے این ایم سی آڈیٹوریم میں ”ہندوستان میں غریب ترین اور حاشیہ پر موجود طبقات میں احساسِ تحفظ: آئینی ضمانتیں اور عدلیہ کا کردار“ موضوع پر ڈاکٹر امبیڈکر میموریل لیکچر کا اہتمام کیا۔ بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس ستیہ ویر سنگھ نے کہا کہ ’وِکست بھارت‘ کا وِژن صرف اسی صورت میں حقیقت بن سکتا ہے جب غریب اور حاشیہ پر موجود طبقات کو بااختیار بنایا جائے، جو’قوم کی ریڑھ کی ہڈی‘ ہیں۔ انہوں نے حقیقی مساوات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غیر مساوی لوگوں کے ساتھ مساویانہ برتاؤ ناانصافی کو برقرار رکھتا ہے، اس لئے منصفانہ سماجی اصلاحات کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ خطاب کے بعد جسٹس ستیہ ویر سنگھ نے طلبہ کے ساتھ مختلف قانونی موضوعات پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ تعارفی کلمات میں امبیڈکر چیئر برائے قانونی مطالعات کے چیئر پروفیسر ظفر احمد خاں نے امبیڈکر چیئر کے مقاصد اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے وِژن اور فلسفے پر چیئر کی جانب سے کیے جانے والے اہم کاموں کا ذکر کیا۔ استقبالیہ خطاب میں فیکلٹی آف لاء کے ڈین پروفیسر شکیل احمد نے اے ایم یو کی شاندار روایات اور ممتاز وکلاء، ججوں، گورنروں اور پبلک سرونٹس کی تیاری میں اس کے کردار کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں احترام، مساوات اور سلامتی سے متعلق امور کا جائزہ لینے کے لیے امبیڈکر کی وراثت سے بہتر کوئی فکری فریم ورک نہیں ہو سکتا۔ ایڈیشنل کمشنر، سی جی ایس ٹی، الٰہ آباد مسٹر محفوظ الرحمن نے غریب اور حاشیہ پر موجود طبقات کی فلاح کے لیے ڈاکٹر امبیڈکر کی زندگی بھر کی جدوجہد، بالخصوص چھوت چھات جیسی سماجی برائی کے خلاف ان کی کوششوں کو یاد کیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج، باندہ مسٹر گگن بھارتی نے کہا کہ بامعنی سماجی تبدیلی کے لیے سماجی ذہنیت میں تبدیلی ضروری ہے، جو صرف تعلیم سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے حاشیہ پر موجود طبقات کے تئیں اجتماعی اخلاقی ذمہ داری کی ضرورت پر زور دیا۔ ضلع و سیشن جج، علی گڑھ مسٹر پنکج کمار اگروال نے ذات پات پر مبنی امتیاز کو کم کرنے میں سپریم کورٹ کے اہم کردار کو اجاگر کیا اور عدالتی مداخلتوں کو حاشیہ پر موجود طبقات کے لیے انصاف کی فراہمی میں سنگِ میل قرار دیا۔ ایس ایس پی علی گڑھ مسٹر نیرج کمار جادون نے کہا کہ مؤثر حکمرانی اور قانون نافذ کرنے کے عمل کا دارومدار عوام کے فعال تعاون پر ہے۔ انھوں نے سماجی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے شہریوں اور حکام کے درمیان باہمی اعتماد کو ناگزیر قرار دیا۔ صدارتی خطاب میں اے ایم یو کے سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے مظلوموں کے حق میں ڈاکٹر امبیڈکر کی انتھک جدوجہد کو یاد کیا۔ انہوں نے بے روزگاری کو سماجی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا اور تعلیم کو فرد اور معاشرے کی زندگی میں تبدیلی لانے والی قوت بتایا۔ پروگرام میں ضلع عدلیہ کے اراکین، افسران، طلبہ، اساتذہ اور لا ء سوسائٹی کے عہدیداران موجود رہے۔












