نئی دہلی، مرکزی حکومت کے خلاف حزب اختلاف کی محاذ آرائی کی ناکامی کے درمیان سینئر کانگریسی لیڈر اور مشہور وکیل کپل سبل بھی سیاسی میدان میں کود چکے ہیں اپوزیشن کیمپ میں پھیلی اس مایوسی کے درمیان کانگریس کے سابق لیڈر کپل سبل نے ایک نئی پہل کی ہے۔اور انہوں نے”انصاف کے سپاہی“ نام سے ایک سیاسی پلیٹ فارم پیش کیا ہے جس پر ہر پارٹی کے لوگ جمع ہوسکتے ہیں۔ کپل سبل نے تمام غیر بی جے پی حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ’انصاف کے سپاہی‘نام کے پلیٹ فارم میں شامل ہوں۔انہوں نے اس کےلئے اروند کجریوال، ممتا بنرجی، ٹھاکرے اور کے سی آر سمیت کئی دیگر وزرائے اعلیٰ سے اپیل کی ہے۔ انہوں نے کانگریس کے چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ اروند کجریوال نے نہ صرف اس پلیٹ فارم میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس میں شامل ہونے کو کہا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ کپل سبل کا یہ پلیٹ فارم ایک غیر سیاسی تنظیم ہے جو انڈیا اگینسٹ کرپشن کے خطوط پر قائم کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد، جیسا کہ خود کپل سبل نے کہا ہے، ملک میں کہیں بھی کسی بھی طبقے کے ساتھ ہونے والی غیر آئینی کارروائیوں اور ناانصافی کو روکنا ہے۔ لیکن چونکہ کپل سبل نے یہ بھی کہا ہے کہ آر ایس ایس اپنی شاخوں کے ذریعے ملک میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے، اس لیے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ بی جے پی، آر ایس ایس اور مرکزی حکومت اس کا نشانہ بننے والی ہے۔یہ سوال کیا جانے لگا ہے کہ کیا اس کے ذریعے سبل مرکز کے خلاف تمام پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر پائیں گے؟ ایسا لگتا ہے کہ کپل سبل کے دماغ میں انا ہزارے اور کجریوال کے ذریعہ شروع کئے گئے کانگریس مخالف مہم کا خاکہ ہے۔اور وہ ان خطوط پر ہی کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔واضح ہو کہ انڈیا اگینسٹ کرپشن کا قیام 26 فروری 2007 کو ملک میں بدعنوانی سے لڑنے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس تنظیم نے 2011-12میں یو پی اے-2 حکومت میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف دہلی میں زبردست احتجاج کیا۔ اس کے نتیجے میں منموہن سنگھ حکومت کو 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس تحریک کی کامیابی کا سہرا انا ہزارے اور اروند کیجریوال جیسے لیڈروں کو جاتا ہے۔لیکن کپل سبل کا سب سے بڑا مسئلہ اعتماد کا ہے۔ ان کے پاس عوام میں کرپشن مخالف تحریک کی قیادت کرنے والا کوئی چہرہ نہیں ہے۔ ایسے میں کپل سبل کی یہ کوشش کتنی کامیاب ہوگی اس پر ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔












