نئی دہلی، (یو این آئی) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بدھ کے روز مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ضروری اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عام شہریوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے "ملک کی اسٹریٹجک اور معاشی پالیسیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ اس کے اثرات "1.4 بلین ہندوستانیوں” کو محسوس ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج سے روزمرہ کی کئی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، جس سے گھرانے اور چھوٹے کاروبار یکساں طور پر متاثر ہوں گے۔مخصوص شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے کھرگے نے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں زبردست اضافے اور زمینی سطح پر قلت کے الزامات کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا، "سڑک کنارے ڈھابوں پر چائے سے لے کر مڈ ڈے میل تک، ہر چیز منفی طور پر متاثر ہوگی،” جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ فوڈ سروسز اور فلاحی اسکیموں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔انہوں نے ہوائی جہاز کے ایندھن (اے ٹی ایف) کی قیمتوں میں اضافے کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ اس سے فضائی سفر غریبوں کی پہنچ سے باہر ہو جائے گا۔ کھرگے نے کہا، "فضائی سفر اب ان لوگوں کے لیے بھی ناممکن ہو گیا ہے جو کبھی بجٹ فلائنگ پر انحصار کرتے تھے،” انہوں نے قیمتوں کی حد (پرائس کیپس) ہٹانے پر بھی تنقید کی۔کانگریس لیڈر نے مزید الزام لگایا کہ 900 سے زائد ضروری ادویات مہنگی ہو گئی ہیں، جس سے صحت کی سہولیات کی استطاعت کے بارے میں خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاج کی لاگت میں مزید اضافہ ہوا ہے،” اور کورونری اسٹینٹ کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔کھرگے نے ٹول ٹیکس میں اضافے کو "ہائی وے ڈکیتی” قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور اسپیڈ پوسٹ کے چارجز میں مبینہ طور پر 34 فیصد اضافے کا ذکر کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ پلاسٹک کی اشیاء، اسٹیل اور سیرامکس جیسے مواد کی قیمتوں میں اضافے کے کثیر جہتی اثرات ہوں گے۔ انہوں نے کہا، "کسانوں کے ذریعے استعمال کیئے جانے والے پی وی سی پائپ مہنگے ہو گئے ہیں، بٹومین کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، اور تعمیراتی شعبہ شدید دباؤ میں ہے۔”حکمراں بی جے پی پر معاشرے کے اہم طبقات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کھرگے نے کہا، ایسے وقت میں جب عام لوگ، کسان، مزدور اور ایم ایس ایم ای صنعتیں جدوجہد کر رہی ہیں اور ریلیف کی امید لگائے ہوئے ہیں، بی جے پی قیادت انہیں نظر انداز کر رہی ہے اور اس کے بجائے عوام کا استحصال کرنے اور مشکل وقت میں منافع خوری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔”یہ ریمارکس مہنگائی اور زندگی گزارنے کی لاگت کے حوالے سے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جاری سیاسی لفظی جنگ کے دوران سامنے آئے ہیں۔ جہاں اپوزیشن لیڈر مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ان کے معاش پر اثرات کا مسئلہ اٹھا رہے ہیں، وہیں حکومت کا موقف ہے کہ اس کے معاشی اقدامات کا مقصد طویل مدتی استحکام کو یقینی بنانا، مہنگائی پر قابو پانا اور تمام شعبوں میں ترقی کو فروغ دینا ہے۔












