عامر سلیم خان
نئی دہلی، سماج نیوز سروس:کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر بنے رہیں گے۔ یہ خبرپارٹی ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پارٹی نے ان کے استعفیٰ کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیاہے، جو انہوں نے کانگریس صدر کے عہدے کیلئے انتخاب لڑتے ہوئے دیا تھا۔ کھڑگے کے بارے میں پوچھے جانے پر اے آئی سی سی کے کمیونی کیشن سکریٹری جئے رام رمیش نے کہاکہ کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نہ صرف کانگریس پارٹی کے صدر کے طور پر بلکہ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر بھی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بات چیت کی ذمہ داری سنبھالتے رہیںگے۔انہوں نے کہا کہ ہفتہ کی شام سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پر منعقدہ پارلیمانی منصوبہ ساز گروپ کی میٹنگ میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر مسٹرکھڑگے کے برقرار رہنے پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ اس مسئلہ پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیاکیونکہ کانگریس کے کئی سینئر لیڈر ’بھارت جوڑو یاترا‘ میں حصہ لے رہے ہیں۔
مسٹر جئے رام رمیش نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے محروم ہوجائیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس عہدہ کے دعویداروں میں پارٹی کے سینئر لیڈر پی چدمبرم،دگوجئے سنگھ اور کے سی وینوگوپال شامل ہیں۔آج کھڑگے نے اسٹیئرنگ کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں کہاکہمجھے یقین ہے کہ پارٹی اور ملک کے تئیں ہماری ذمہ داری کا سب سے بڑا حصہ ’’اوپر سے نیچے تک تنظیمی احتساب‘‘ ہے۔ اگر کانگریس پارٹی کی تنظیم مضبوط ہے، جوابدہ ہے، عوام کی امیدوں پر پورا اترتی ہے، تب ہی ہم الیکشن جیت سکیں گے اور ملک کے لوگوں کی خدمت کر سکیں گے۔مسٹر کھڑگے نے مزید کہاکہمیں چاہوں گا کہ پارٹی کے جنرل سیکرٹریز اور انچارج سب سے پہلے اپنی ذمہ داری اور تنظیم کی ذمہ داری کو یقینی بنائیں۔ آپ کی ریاست میں جس کے آپ انچارج ہیں، آئندہ 30 دنوں سے 90 دنوں میں عوامی مفاد کے مسائل پر تنظیم اور تحریک کا خاکہ کیا ہے؟ جن صوبوں میں آج سے 2024 کے درمیان اسمبلی انتخابات ہونیوالے ہیں وہاں انتخابات تک پلاننگ اور سرگرمی کا شیڈول کیا ہے، ان ساری چیزوں پر ہمیں نظر رکھنی ہے؟۔
مسٹرملکارجن کھڑگے نے میٹنگ میں کہا کہ جب تک آپ خود، آپ کے سکریٹریز، ریاستی کانگریس صدور، پارٹی کے ایم ایل اے اور ایم پی ان تمام اور دیگر اہم چیزوں کیلئے ایک بلیو پرنٹ تیار نہیں کرتے اور انہیں زمینی سطح پر لاگو نہیں کرتے، ہماری ذمہ داری پوری نہیں ہوسکتی۔ گرچہ پارٹی میں بہت ذمہ دار لوگ ہیں جو اپنا فرض نبھا رہے ہیں، کچھ ساتھیوں نے فرض کر لیا ہے کہ ذمہ داری کی کمی کو نظر انداز کر دیا جائے گا۔ یہ نہ تو درست ہے اور نہ ہی قابل قبول ہے۔ جو لوگ ذمہ داری نبھانے سے قاصر ہیں، انہیں نئے ساتھیوں کو موقع دینا ہوگا۔ذرائع نے بتایا کہ کانگریس کے کئی سینئر لیڈر ’بھارت جوڑو یاترا‘میں حصہ لے رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں شرکت نہ کریں، اس لئے اس معاملہ پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ بتادیں کہ19 اکتوبر 2022 کو کانگریس صدر کے عہدے کے انتخاب کے نتائج آئے۔ اس میں ملکارجن کھرگے نے ششی تھرور کو 6825 ووٹوں سے شکست دی تھی۔












