بلوچستان۔ ایم این این۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 4 مارچ 2026 کو خضدار کے علاقے کرخ میں ایک بڑا اور مربوط عسکری آپریشن کیا۔ اس آپریشن کا مقصد قابض ریاست کی نام نہاد عمل داری کو پاش پاش کرنا اور مقبوضہ بلوچستان کے شہروں پر بی ایل ایف کے سرمچاروں کی عسکری گرفت کو مستحکم کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ سرمچاروں کے ایک منظم دستے نے 4 مارچ کی صبح 11:30 بجے کرخ شہر کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے کر تمام داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی۔ آپریشن کے پہلے مرحلے میں سرمچاروں نے خضدار۔رتو ڈیرو سی پیک روٹ کے مولہ کراس پر قائم دشمن کی پولیس چوکی پر برق رفتاری سے حملہ کر کے اسے قبضے میں لے لیا اور وہاں موجود اہلکاروں کو یرغمال بنانے کے بعد چوکی میں موجود اسلحہ و دیگر عسکری سازوسامان کو ضبط کردیا۔ سرمچاروں نے مولہ کراس و کرخ کراس پر اسنیپ چیکنگ شروع کیا۔ بعدازاں پولیس چوکی کو نذرِ آتش کر کے دشمن پر واضع کردیا کہ دشمن کی کوئی بھی تنصیب بی ایل ایف کے سرمچاروں کی پہنچ سے دور نہیں ہے۔ترجمان نے کہا کہ آپریشن کے دوسرے مرحلے میں سرمچاروں نے کرخ شہر کے مرکز میں پیش قدمی کرکے انتہائی قلیل وقت میں پولیس تھانہ، نادرا آفس، بینک اور ڈی سی آفس سمیت تمام اہم سرکاری و انتظامی مراکز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ ان دفاتر میں موجود تمام ریاستی علامات اور ریکارڈ کو جلا کر راکھ کر دیا اور وہاں موجود اسلحہ سمیت عسکری ساز و سامان کو قبضے میں لے لیا۔انہوں نے کہا کہ کرخ شہر پر مکمل کنٹرول کے دوران سرمچاروں نے وہاں عوامی اجتماع سے خطاب کیا، جس میں انہیں تحریک کے مقاصد اور قابض ریاست کی بلوچ دشمنی و لوٹ کھسوٹ سے آگاہ کیا۔ انہوں نے تحریک آزادی کی مضبوطی اور دشمن کی کمزوریوں کا بھی احاطہ کیا۔ بلوچستان کے اہم شہروں پر حملے کرکے ان کا نظم و نسق سنبھالنا قابض ریاست کے نام نہاد عمل داری، معاشی اور عسکری نظام کو اپاہج کرنے کے لئے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے مربوط حملوں کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ترجمان نے کہا کہ دورانِ ناکہ بندی ہمارے سرمچاروں نے اعلیٰ عسکری قابلیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پولیس سب انسپکٹر انور علی سکنہ برام، سندھ سمیت چار افراد کو حراست میں لیا۔ تلاشی کے دوران سب انسپکٹر سے ایک پسٹل بھی برآمد کیا گیا۔












