رائے پور، (یو این آئی): بانس کی عارضی کمانوں سے تیر اندازی کا آغاز کرنے والی جھارکھنڈ کی کومالیکا باری نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ان کا نشانہ ایک دن انہیں ورلڈ چیمپئن بنا دے گا۔ کومالیکا کے بین الاقوامی اعزازات میں ورلڈ یوتھ چیمپئن شپ ویمنز سنگلز گولڈ (وروسلا، 2021)، ورلڈ کیڈٹ چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل (میڈرڈ، 2019) اور انڈر 17 کیڈٹ ورلڈ چیمپئن سمیت دیگر کئی اعزازات شامل ہیں۔ایک متوسط قبائلی خاندان سے تعلق رکھنے والی کومالیکا کے والد ایل آئی سی ایجنٹ اور والدہ سابق آنگن واڑی ورکر ہیں۔ چھتیس گڑھ میں جاری ‘کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز کے دوران یو این آئی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنی جدوجہد کا ذکر کیا اور اپنی تقدیر بدلنے کا سہرا ٹاٹا آرچری اکیڈمی کے سر باندھا۔ انہوں نے بتایا، "میں نے 2012 میں تیر اندازی شروع کی، میں بانس کی کمان سے مشق کرتی تھی کیونکہ ہمارے پاس ریکرو کمان خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔ میرا ارادہ تھا کہ بانس کی کمان سے ہی نیشنلز کھیلوں گی اور جب پیسے ہوں گے تو ریکرو کمان خریدوں گی۔ لیکن خوش قسمتی سے 2016 میں میرا انتخاب ٹاٹا آرچری اکیڈمی میں ہو گیا، جو میرے لیے سنگِ میل ثابت ہوا۔ اکیڈمی میں کھانا، رہائش، آلات، لباس اور ٹورنامنٹس کے لیے سفری الاؤنس، سب کا خیال اکیڈمی ہی رکھتی تھی۔ میں ان کی وجہ سے ہی یہاں تک پہنچ پائی ہوں۔”کومالیکا، جو ورلڈ کیڈٹ اور ورلڈ جونیئر ٹائٹل جیتنے والی دوسری ہندوستانی خاتون ریکرو آرچر ہیں، نے کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز کی تعریف کرتے ہوئے کہا، "یہاں کی سہولیات قومی اور بین الاقوامی معیار کے برابر ہیں۔ یہ گیمز دور افتادہ علاقوں کے ان کھلاڑیوں کو پلیٹ فارم مہیا کر رہے ہیں جنہیں مراعات حاصل نہیں ہیں۔ اس معیار کے ٹورنامنٹ میں کھیلنے کا موقع کھلاڑیوں کو مزید شدت اور عزائم کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دے گا۔” کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز 25 مارچ سے 3 اپریل 2026 تک چھتیس گڑھ میں منعقد ہو رہے ہیں۔ اس 10 روزہ قومی ایونٹ میں 3,000 سے زائد کھلاڑی سات شعبوں آرچری، ایتھلیٹکس، فٹ بال، ہاکی، تیراکی، ویٹ لفٹنگ اور ریسلنگ میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ ملکھمب اور کبڈی جیسے کھیلوں کے مظاہرے بھی شامل ہیں۔اپنے کیریئر کے عروج و زوال کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "ورلڈ کپ (2021 گوئٹے مالا سٹی) میں چیمپئن بننا اور غیرملکی سرزمین میں اپنا قومی ترانہ سننا میرے لیے سب سے یادگار لمحہ تھا، خاص طور پر اس لیے کہ وہ یومِ آزادی کا موقع تھا۔ میرے کیریئر کا سب سے مشکل وقت 2023 میں آیا جب میں جونیئر سرکٹ سے اوور ایج ہو گئی اور مجھے سینئر ٹیم میں جگہ نہیں مل سکی۔”












