(سید مجاہد حسین)
اس میں دورائے نہیں کہ جنگ و جدال اور لڑائی کسی مسئلہ کا حل نہیں ہوتی بلکہ تما م طرح کے ایشوز کو بات چیت اور سلجھے ماحول میں ہی حل کیا جاسکتا ہے یا پھر ان پر باہمی مشاورت اور تدابیر کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔خواہ وہ قومی سلامتی ہو ،ریاستی حدود کا مسئلہ ہو یامختلف طرح کے ہنگامی حالات ہوں ،سماجی ایشوز ہوں یا اقتصادیات میں اتھل پتھل ہو ،جب تک اس کیلئے بہتر تدابیر اختیار نہیں کی جاتیں یا ان کو ایک ٹیبل پر سلجھانے کی کوشش نہیں کی جاتی ،بحث و مباحثہ نہیں ہوتا ،سر جوڑ کر باہمی مشاورت اور تدبیریں نہیں کی جاتیں ،اس وقت تک ان کا حل نکلنا مشکل ہی نہیں ،ناممکن رہتا ہے ۔اس کا نتیجہ یہی ہو تا ہے کہ ملک پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے ۔ہمارے ملک میں بہت سے ایشوز ہیں جن میں حکومت کی عدم سوجھ بوجھ اور مشاورت سے حالات ہنگامی رہے یا ان کو سنبھالا نہیں جاسکا ۔ نتیجہ میںکئی طرح کے مسائل کھڑے ہوئے اور اقتصادی مدو جزر نے لوگوں کی کمر توڑ دی۔الغرض ، کہا جاسکتا ہے کہ غلط سمت میں کی جانے والی کوششوں کی وجہ سے کئی مسائل آج تک حل نہیں ہو سکے ، ان سلجھے رہے یا پھر لوگوں کو اس کا برا انجام بھگتنا پڑا! ۔ملکی سلامتی کا مسئلہ ہو یا دہشت گردی ،کوروانا ور نوٹ بندی ہو ،مسائل پر بات چیت کا فقدان رہا،باہمی مشاورت کا فقدان پایا گیا ۔کورونا کی بات کی جائے تو اس میں ہنگامی حالات یا پھر نوٹ بندی میں لوگوں کو شدید مصیبتوں اور مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ۔ مسائل نے نہ صرف معیشت کو جکڑ لیا تھا بلکہ اس سے آج تک ابر نہیں پائے!۔ ان کا برا اثر لوگوں کی صحت پر بھی پڑا ۔ادھر کورونا جیسی وبائی بیماری نے اپنے پائوں کچھ اس طرح پسارے کہ ملک پریشانیوں میں گھر گیا ،نتیجہ یہ ہو اکہ لاک ڈائون کے حالات پیدا ہو ئے ،جس سے اقتصادی میدان میں بھی سختیاں اور پریشانیاں آئیں ۔ملک کی جی ڈی پی گر گئی اور ا سکا خراب اثر کاروبار سے لیکر نوکریوں اور صنعتوں پر پڑا ،اور حالات ہنگامہ خیز ہوئے ۔لوگوں کو کئی طرح کے خوف نے گھیر رکھا تھا ،ایک طرف وبائی مرض سے گھر جانے کا خوف دلوں پر سوار رہا تو وہیں لاک ڈائون کی حد بندیوں میں ان کے ساتھ انتظامیہ کا بربریت آمیز سلوک رونگٹے کھڑے کرنے والاتھا۔جن لوگوں کے ہاتھ سے نوکریاں چھن گئیں ،ان میں سے بہت سے روزی کی تلاش میں شہروں کو چھوڑنے لگے، وطن جانے کے دوران سفر میں مارے گئے یا سخت آزمائشوں سے دوچارہوئے۔لیکن جو اپنی جگہ رہا وہ بھی مصیبتوں میں قید ہوا ۔بھوک سے لوگوں کا برا حال ہوا ۔
اسپتالوں کا حال تونہایت برا تھا، حالات بتا رہے تھے کہ وہاں مریضوں اور مہلوکین کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جارہا تھا۔اپنے بھی رشتہ داروں کو چھوڑ کر بھاگ رہے تھے ،تو کہیںاکھڑی سانسوں کے درمیان جو جی پار ہے تھے وہ دوسروں کی حالت دیکھ کر دہشت زدتھے ۔مرنے والوں کی تجہیز و تکفیبن کرنے والے یا لاشوں کو جلانے والے ڈرے سہمے تھے ۔اس کی ایک وجہ لوگوں کے پاس پیسوں کی قلت ، وسائل کی کمی اورحالات کی دہشت!ایک وقت ایسا بھی آیا جب ندیوں میں لاشیں بہائی جانے لگیں !۔حالانکہ ایسے حالات دنیا بھر میں رہے لیکن اندرون ملک تصویر زیادہ بھیانک تھی۔
دوسر جانب نوٹ بندی کے دور کو دیکھا جائے تو اس وقت بھی حالا ت کم لرزہ خیز نہیں تھے۔اس وقت نا تو لوگوں کو اس کی پیشگی کوئی اطلاع دی گئی نا ہی حکومت نے اپوزیشن لیڈروں سے رائے مشورہ کیاگیا۔اچانک بڑے نوٹوں کے اعلان سے لوگ ششدر رہ گئے ۔ان کے پاس دو ہزار اور پانچ سو کے نوٹ ایک اعلان سے بے کار ہو چکے تھے ،انہیں بینکوں میں جمع کرانے کیلئے حکم صادر کر د یاگیا تھا۔امراء پر تو کم لیکن متوسط اور غریبوں پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ۔اشیائے ضروری کے دام آسمان چھونے لگے ۔ کرانہ کی دوکانوں پر بھیڑ امڈ پڑی تا کہ غلہ کو ذخیرہ کیا جا سکے ۔بنکوں اور اے ٹی ایم مشینوں کے باہر لوگوں کی لمبی قطاریں ان پر مزید آفت بن کر ٹوٹیں،کچھ لوگ ان قطاروں میں کھڑے کھڑے ہی دم توڑ گئے۔کسی نے نوٹ نالوں میں بہائے تو کچھ لوگوں کے پاس معمولی جمع پونجی کو بنک اکائونٹ میں جمع کرا لیا گیا۔کہا گیا تھا کہ اس سے دہشت گردی ختم ہوگی،کالا دھن نکلے گا ،نقلی نوٹوں کی پہچان ہوگی اور سرحد پر در اندازی رکے گی ،لیکن شاید ہی ان میں کسی ایک پر لگام لگی ہو!۔اس لئے اپوزیشن چیخ چیخ کر کہتا رہا کہ وزیر اعظم نے کسی مسئلہ پر عوام کو بھروسے میں نہیں لیا یا پھر اپوزیشن سے بات تک نہیں کی !۔بہر کیف، آج وزیردفاع راجناتھ سنگھ کا کہنا کہ تنازعات اور اختلافات کو صرف بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے،درست ہے ۔لیکن اس کے لئے اخلاص نیت اور نیک پہل ضروری ہے۔ نوٹ بندی اور کورونا کا سخت انجام ہم بھول نہیں سکتے۔اس میں مشاورت کی کمی تھی ! ۔جس سے بڑی مشکل سے نجات ملی ،وہیں سرحدی معاملے اور دہشت گردی کے مسائل پراب بھی چیلنج برقرار ہے ۔ہمارے سامنے موسمیات سے وابستہ مسئلہ بھی منہ پھاڑے کھڑا ہے ۔بلا شبہ مسائل اور بحرانوں میں سوجھ بوجھ اور بہتر تدابیر اور لائحہ عمل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ہمارے سرحدی تنازعات خواہ وہ چین کے ساتھ ہوں یا پاکستان کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ ہو ،جب تک بات چیت نہیں کی جائے گی ،حل نہیں نکالا سکتا ناہی وہ حل ہوتے ہیں۔کیونکہ مشترکہ کوشش ہی ترقی اورخوشحالی کی ضمانت ہے ،جو سب کو ساتھ لیکر چلنے میں ہی مضمر ہے۔












