• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
بدھ, مارچ 18, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

یادوں کے چراغ ،پروفیسر ڈاکٹر منظر اعجاز

مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مارچ 29, 2023
0 0
A A
یادوں کے چراغ ،پروفیسر ڈاکٹر منظر اعجاز
Share on FacebookShare on Twitter

ڈاکٹر ، پروفیسر سید محمد مظہر الحق قلمی نام منظر اعجاز اے این کالج ، پٹنہ اور پاٹلی پترا یونیورسیٹی کے سابق صدر شعبہ اردوکا 19 مارچ 2023ئ مطابق 28 شعبان المعظم 1444ھ بروز اتوار بوقت صبح کے تین بجے جگدیش اسپتال پٹنہ میں انتقال ہو گیا، کم وبیش اکہتر(71) سال عمر تھی ، کورونا کے مریض ہو گئے تھے، اس سے بچ گیے، لیکن اعضا وجوارح کمزور ہوتے چلے گیے، 14 جنوری 2023ءسے مستقل صاحب فراش تھے، اور بالآخر ملک الموت نے اپنا کام کر ڈالا، جنازہ کی نماز اسی دن بعد نماز عصر کنکر باغ میں ہوئی ، مولانا دانش قاسمی امام کنکڑ باغ مسجد نے جنازہ کی امامت کی اور سیکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں شاہ گنج قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ، پس ماندگان میں اہلیہ ناہید سلطانہ اور دو بیٹیاں فرخندہ اعجاز اور رخشندہ اعجاز ہیں، لڑکا کوئی نہیں تھا، وہ چار بھائی اور دو بہن تھے، وہ سید محمد عبد المنان، سید علی عباس کے بعد تیسرے نمبر پر تھے، سب سے چھوٹے بھائی کا نام سید محمد احسن ہے۔
پروفیسر منظر اعجاز کی ولادت 12 دسمبر 1953ءکو موجودہ ضلع ویشالی کے گاؤ ں ترکی رسول پور بھگوان پور ویشالی میں سید مقبول احمد (والد) اور سائرہ خاتون (والدہ) کے گھر ہوئی ، ان کے مورث اعلیٰ مخدوم سید شاہ فیروز علی عرف ترک شاہ تھے، شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے عہد میں ترکی رسول پور وایا بھگوان پور موجودہ ضلع ویشالی وارد ہوئے، شہنشاہ نے بہ لحاظ بزرگی وعظمت انہیں جاگیر عطا فرمائی تھی۔ (تذکرہ مسلم مشاہیر ویشالی صفحہ 75 بحوالہ حدیقتہ الانساب جلد ۱ 235)
سلسلہ نسب ان کے دادا سید شاہ نعیم اللہ بن سید شاہ ولایت حسین بن دائم علی بن قائم علی بن نائم علی ، بن لطف علی بن قاضی روشن علی کا ذکر آتا ہے، سید شاہ ولایت حسین عرف ابو جان ساتویں پشت میں ملک شاہ فیروز کے آتے تھے، ڈاکٹر منظر اعجاز کی نانی ہال بھی رسول پور ترکی تھی، ان کے ناناکا نام سید شاہ ولی اللہ تھا، دادا اور نانا دونوں حقیقی بھائی تھے، شادی بہار شریف ضلع نالندہ سید محمد صالح (م 1982) بن سید نور الحسن صاحب عرف نور محمد کی صاحب زادی ناہید سے اپریل 1986) میں ہوئی تھی، رسول پور ترکی گاؤ ں مظفر پورشہر سے چوبیس میل اور بھگوان پور ریلوے اسٹیشن سے دو میل کی دوری پر واقع ہے۔ آباؤ اجداد زمیندار تھے، اس لیے ناز ونعم میں پرورش ہوئی، ابتدائی تعلیم والدہ سے حاصل کرنے کے بعد قریب کے گاؤ ں بہاری کے پرائمری اسکول میں تعلیم پائی اور بھگوان پور اسکول سے مڈل اور ہائر سکنڈری کی تعلیم مکمل کی ، امتحان کا سنٹر مظفر پور تھا اس لئے پہلی بار 1980ءکے آخر یا 1981ءکے اوائل میں مظفر پور وارد ہوئے اور کوئی چار ماہ مظفر پور میں قیام پذیر رہے، اسی دوران منظر اعجاز صاحب کی ملاقات ظفر عدیم سے ہوئی اور پھر دوستی اس قدر پکی ہوئی کہ ایک جان دو جسم ہو کر رہ گیے۔ 1982ءکے نصف آخر میں منظر اعجاز مستقل قیام کی غرض سے مظفر پور آئے، اور یہیں سے آئی اے، بی اے اور ایم اے اردو فارسی میں کیا، اقبال ان کے محبوب شاعر تھے، اس لیے پی اچ ڈی بہار یونیورسٹی مظفر پور سے کے لیے اقبال اور قومی یک جہتی کا انتخاب کیا اور پروفیسر قمر اعظم ہاشمی کی نگرانی میں مقالہ لکھ کر 1989ءمیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، اس طرح عنفوان شباب کے قیمتی مہ وسال انہوں نے مظفر پور کی نظر کی۔ ظفر عدیم کی صحبتوں سے پروفیسر منظر اعجاز کی صلاحیتیں پروان چڑھیں اور ان میں نکھار آیا، اپنے ایک مضمون ، ظفر عدیم : شخص ، عکس اور جہتیں میں منظر امام صاحب نے خود ہی اس کا اعتراض کیا ہے ، لکھتے ہیں:”سچی بات تو یہ ہے کہ عدیم صاحب کی صحبتیں راس آئیں اور شعر وادب کا ذوق جو مجھ میں عرصہ سے دبا دبا اور گھٹا گھٹا سا تھا ، ابھرنے، نکھرنے اور پروان چڑھنے لگا “۔ (82)
منظر اعجاز صاحب آگے بڑھتے رہے، انہوں نے تدریسی زندگی کا آغاز اس یو کالج ہلسہ نالندہ سے کیا،۶۷-۱۹۹۱ءتک یہاں مقیم رہے،اس کے بعد اے این کالج پٹنہ چلے آئے،اور صدر شعبہ اردو کے منصب تک پہنچے، اور دسمبر 2018ءکوسبکدوش ہوگئے، اے ان کالج کے بعد صرف سوا ماہ تک وہ پاٹلی پترا یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو رہے ادھر کچھ دنوں سے ان پر ضعف کا غلبہ تھا، اس کے با وجود ادبی مجلسوں میں کسی کے سہارے پہنچ جاتے تھے، یہ ان کی ادبی دلچسپی کی بات تھی ، ورنہ قوی سفر کے قابل نہیں رہ گیے تھے۔ان کی رہائش گاہ پی سی کالونی کنکر باغ پٹنہ میں تھی۔جہاں تک ان کی ادبی صلاحیتوں کا تعلق ہے، پوری اردو دنیا ان کے مطالعہ کی گہرائی اور گیرائی کی قائل تھی ، ان کی ادبی تحریروں اور تقریروں کو بڑی قدر ومنزلت کی نگاہ سے پڑھا اور سنا جاتا تھا، ان کی تحریر اور تقریر میں ایجاز کا گذر نہیں تھا، انہیں باتوں کے پھیلانے کا ہنر آتا تھا، اور وہ پورے بسط وکشاد کے ساتھ اپنی باتیں رکھنے کے قائل تھے،ا ن کی یاد داشت بہت مضبوط تھی ، برسوں پہلے پڑھی یا سنی ہوئی بات ان کے حافظہ کے گرفت میں ہوتی اور حسب موقع اس کے استعمال پر وہ قادر تھے۔ تصنیف وتالیف کا اللہ رب العزت نے خصوصی ملکہ عطا فرمایا ، تجزیہ کی صلاحیت بھی مضبوط تھی ، ان کی کتابیں شخصیات وانتقادیات ، فراق اور غزل کا اسلوب، اقبال اور قومی یک جہتی ، ظفر عدیم ایک سخن ساز اور معاصر غزل کا منظر نامہ ، نئی غزل میں تلمیح کی معنویت ، متن سے مکالمہ ، قومی وطنی شاعری کا منظر نامہ ، انعکاس میں مظفر پور کا فراق نمبر، اقبال- عصری تناظر ، فیض احمد فیض اور صلیبیں میرے دریچے میں ، اعجاز نظر ، ورق ورق اجالا (مجموعہ غزل) فراق اور غزل کا اسلوب ، تجزیاتی مطالعے، وہاب اشرفی : نقاد اور تخلیق کار، ظفر عدیم کا نثری تخلیقی وجدان ، تجزیہ اور تخلیقی تجربہ، چند جاسوسی اور معاشرتی ناول فراق، سوائے شاعری وغیرہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں، ان کتابوں سے ان کے مطالعہ کی وسعت علم وادب پر محنت اوران کی قوت اخذ وعطا کا پتہ چلتا ہے، ان میں زیادہ تر کتابیں تجزیہ وتنقید سے تعلق رکھتی ہیں۔ میرا ڈاکٹر منظر اعجاز صاحب سے تعلق انتہائی قدیم تھا اب تو مہہ وسال یاد بھی نہیں رہے، جب میں نے داغ کے شاگرد عبد اللطیف اوج کے دیوان کو ایک صاحب کے بکس سے نکلوا کر مرتب کیا اور شائع ہوئی تو اس کے اجراءکی تقریب میں بہ نفس نفیس مہوا تشریف لے گئے تبصرہ لکھا اور مجمع کو پڑھ کر سنایا اور کئی جگہ چھپوایا،ان سے میری آخری ملاقات 3 دسمبر 2022ءکو گورنمنٹ اردو لائبریری میں ہوئی تھی ، ہم لوگ سلطان شمسی کے شعری مجموعہ کے اجراءکی تقریب میں شریک تھے، انہوں نے اس موقع سے خطاب فرمایا تھا، ایسی علمی وادبی شخصیت کا رخصت ہوجانا علم وادب کی دنیا کا بڑا نقصان ہے۔ اللہ مغفرت فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل دے آمین

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں  تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    مارچ 18, 2026
    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    مارچ 18, 2026
    بہار میں اقتدار کی نئی بساط اور بی جے پی کی حکمتِ عملی

    بہار میں اقتدار کی نئی بساط اور بی جے پی کی حکمتِ عملی

    مارچ 18, 2026
    پاکستان کا افغانستان پر فوجی حملہ،400 افراد ہلاک،انسانیت شرمسار

    پاکستان کا افغانستان پر فوجی حملہ،400 افراد ہلاک،انسانیت شرمسار

    مارچ 18, 2026
    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں  تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    مارچ 18, 2026
    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    مارچ 18, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist