ایران اس وقت ایک تاریخی بحران کی آماجگاہ بن چکا ہے ۔اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ بہت جلد یہ پورا خطہ آپسی جنگ میں ہی جل کر بھسم ہو جائیگا ۔مسئلہ صرف ایک ملک کا نہیں، ایک پورے خطے کا ہے۔مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر مسلم دنیا کی معاصر تاریخ کو اگر ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ وسائل کی فراوانی کے باوجود قیادت کی قربانیاں بھی ہوتی رہیں لیکن استحکام کا دور دور تک کوئی نشان نظر نہیں آیا ۔گزشتہ نصف صدی میں اس خطے نے انقلاب، جنگیں، پابندیاں، فوجی بغاوتیں، بیرونی مداخلتیں اور اندرونی بحران سب کچھ دیکھا ہے۔1979 میں آنے والا ایرانی انقلاب اس پورے سیاسی منظرنامے کا ایک اہم موڑ تھا۔ اس انقلاب نے پہلی بار خطے میں یہ پیغام دیا کہ ایک ریاست عالمی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود خودمختاری کا راستہ اختیار کر سکتی ہے۔ مگر اس کے بعد کے چالیس سال نے یہ سوال بھی کھڑا کر دیا کہ کیا مستقل مزاحمت کی سیاست معاشی استحکام اور عوامی خوشحالی کے ساتھ چل سکتی ہے؟آج میں اس کالم میں اسی بڑے سوال کا جائزہ انقلابِ ایران کے تجربے، مسلم دنیا میں قیادت کے بحران، عالمی طاقتوں کے مفادات اور مستقبل کی ممکنہ حکمتِ عملی کے تناظر میں لینے کی کوشش کرونگا ۔1979 میں روح اللہ خمینی کی قیادت میں آنے والا انقلاب صرف شاہی نظام کے خاتمے تک محدود نہیں تھا۔ یہ دراصل ایک بڑی تبدیلی تھی ،بادشاہت سے نظریاتی جمہوری انقلابی نظام کے قیام کی اور مغربی اتحادی نظام کو چیلنج دینے کی ۔سرد جنگ کے دور میں ایک خودمختار سیاسی ماڈل ایران نے انقلاب کے بعد جس پالیسی کو اپنایا، اسے تین نکات میں سمجھا جا سکتا ہے۔سیاسی خودمختاری، بیرونی اثرات کی مزاحمت اور دفاعی خودکفالت۔لیکن اس پالیسی کی قیمت کے طور پر 8 سالہ ایران۔عراق جنگ،مسلسل اقتصادی پابندیاںعالمی مالیاتی نظام تک محدود رسائی اور سفارتی دباؤ کی شکل میں ادائیگی بھی کرنا پڑی ۔غور سے دیکھیں تو انقلاب ایران کے بعد ایران کا ماڈل سیکورٹی کے لحاظ سے مضبوط مگر معاشی لحاظ سے دباؤ کا شکار رہا۔قیادت کا عدم استحکام ایک مشترکہ المیہ بن کر ہمارے سامنے آیا ۔گزشتہ چار دہائیوں میں مسلم دنیا کی کئی اہم شخصیات غیر معمولی حالات میں منظر سے ہٹائی گئیں۔ذوالفقار علی بھٹو، محمد ضیاء الحق، یاسر عرفات،صدام حسین، معمر قذافی۔ان کو منظر سے ہٹانے کے واقعات کو صرف سازش یا صرف داخلی ناکامی کے زاویے سے دیکھنا ایک سادہ تجزیہ ہوگا۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق اس کے پیچھے تین عوامل اکثر کارفرما ہوتے ہیں۔پہلا :داخلی کمزوریاں، سیاسی تقسیم، کمزور ادارے، عوامی بے اعتمادی۔دوسرا: علاقائی رقابتیں اور تیسرا عالمی مفادات ۔یاد رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن ہمیشہ حساس رہا ہے۔کیونکہ جہاں توانائی کے ذخائر بھی ہوں اور اسٹریٹجک راستے بھی وہاں عالمی طاقتوں کی دلچسپی فطری ہوتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی اہمیت کی بنیادی وجوہات بھی ہم سب جانتے ہیں ۔ دنیا کے بڑے تیل و گیس کے ذخائر،عالمی توانائی کی سپلائی چین اور اہم بحری راستے خصوصاً آبنائے ہرمز۔ دنیا کی معیشت توانائی پر کھڑی ہے، اور توانائی کا بڑا حصہ اسی خطے سے آتا ہے۔ اسی لیے عالمی طاقتوں کی پالیسی کے بنیادی اہداف یہی ہوتے ہیں کہ سپلائی میں خلل نہ آئے،سمندری راستے محفوظ رہیں اور ان راستوں پر کوئی ایک علاقائی طاقت غالب نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں طاقت کے ہر توازن کو عالمی سطح پر حساسیت سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ داخلی کمزوری بیرونی مداخلت کا اصل راستہ ہوتا ہے ۔تاریخ کا ایک مستقل اصول ہے کہ بیرونی دباؤ وہاں مؤثر ہوتا ہے جہاں اندرونی استحکام کمزور ہو اور مسلم دنیا کے تمام ممالک میں مشترکہ مسائل بھی معاشی عدم استحکام، بدعنوانی،ادارہ جاتی کمزوری، نوجوان آبادی میں بے روزگاری اور سیاسی پولرائزیشن ہی ہے ۔ماہرین کے مطابق، ریاست کی طاقت کا اصل پیمانہ اس کی ادارہ جاتی صلاحیت ہوتی ہے، نہ کہ صرف اس کی فوجی طاقت۔ اب اگر ہم انقلابِ ایران کے چالیس سال پر نظر ڈالیں تو دیکھتے ہیں کہ ایران نے اس عرصے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں،دفاعی ٹیکنالوجی میں ایران کی خودکفالت، سائنسی ترقی، علاقائی اثر و رسوخ ۔لیکن چیلنجز بھی واضح ہو کر سامنے آئے ۔اقتصادی پابندیاں، کرنسی کی گراوٹ، مہنگائی اور نوجوان آبادی کی معاشی توقعات۔اور یہی وہ تجربہ ہے جو ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سیکورٹی اور معیشت کے درمیان توازن ہی پائیدار استحکام کی بنیاد ہے۔مسلم دنیا کے لئے اگر ایک حقیقت سب سے زیادہ نقصان دہ رہی ہے تو وہ ہے،فرقہ وارانہ سیاست، علاقائی بلاک بندی،اور پراکسی تنازعات۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب جب خطے کے ممالک ایک دوسرے کو خطرہ سمجھتے ہیں تب تب بیرونی طاقتوں کے لیے اثر انداز ہونا آسان ہو جاتا ہے۔اور مشرق وسطی مسلسل اسی کا شکار ہے ۔ایسے میں ضرورت ہے کہ مسلم ممالک اپنے زخم چاٹنا بند کریں ۔مستقبل کی حکمتِ عملی طئے کریں ۔ ایک پالیسی فریم ورک تشکیل دیں جس کی بنیاد علاقائی مکالمہ اور اعتماد سازی پر استوار ہو ۔ایران، سعودی عرب، ترکی، پاکستان اور دیگر اہم ممالک کے درمیان مستقل اسٹریٹجک فورمز تشکیل دی جائے ۔ اقتصادی انضمام کی ٹھوس کوشش ہو ۔ علاقائی تجارتی بلاک بنے۔ مشترکہ توانائی منصوبےبنائے جائیں ،مقامی کرنسی میں تجارت کی جائے ۔جو مشکل تو ہے لیکن باہمی اشتراک سے ناممکن نہیں ۔یورپ کی مثال بتاتی ہے کہ اقتصادی باہمی انحصار جنگ کے امکانات کم کر دیتا ہے۔ ادارہ جاتی استحکام، آئینی تسلسل،شفاف حکمرانی، پیشہ ور سیکورٹی ادارے، متوازن خارجہ پالیسی،نہ مکمل انحصار، نہ مکمل محاذ آرائی۔سیکورٹی کی نئی تعریف، خوراک کی سلامتی،پانی کی سلامتی ،ٹیکنالوجی اور سائبر تحفظ۔یاد رہے کہ اگر حکمتِ عملی نہ بدلی گئی اور پراکسی جنگوں میں اضافہ ہوتا رہا تو اس کا نتیجہ معاشی بحران، ریاستی عدم استحکام،نوجوان آبادی میں مایوسی کا یہی عالم رہا تو یہ عوامل کسی بھی ریاست کے لیے طویل مدتی خطرہ بن سکتے ہیں۔ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ہم مزاحمت کا راستہ اختیار کریں یا استحکام کا ؟گزشتہ چار دہائیوں کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ مکمل انحصار بھی کمزوری ہے اور مکمل تصادم بھی مہنگا ہے۔ایسے میں اصل راستہ خودمختاری + اقتصادی انضمام + علاقائی تعاون کا ہی ہے ۔کیونکہ اصل جنگ معاشی اور ادارہ جاتی ہےانقلابِ ایران نے خودمختاری کا جذبہ دیا۔ لیکن آج مسلم دنیا کے سامنے اصل چیلنج عسکری نہیں بلکہ معاشی طاقت، ادارہ جاتی استحکام اور علاقائی اتحاد کا ہے ۔اگر مسلم ممالک داخلی اصلاحات کریں، باہمی تنازعات کم کریں، اقتصادی تعاون بڑھائیں، عالمی نظام کے ساتھ متوازن تعلقات رکھیں تو نہ صرف قیادت کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ یہ خطہ مسلسل کشیدگی سے نکل کر ترقی کا مرکز بھی بن سکتا ہے۔ ورنہ تاریخ کا چکر اسی طرح چلتا رہے گا وسائل موجود ہونگے صلاحیت بھی موجود رہیگی ، مگر استحکام ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملنے والی ۔












