محمد زاہد امینی
نوح،میوات،سماج نیوز سروس: صوبہ ہریانہ کے ضلع نوح میں 31 جولائی 2023 کو پیش آنے والے فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلے میں گرفتارعادل عرف ڈی ایس پی ولد مرحوم فتح محمد ساکن نگینہ کو مختلف مقدمات میں ضمانت دلانے میں جمعیتہ العلماء (م) کی legal cell کو بڑی کامیابی ملی ہے۔تفصیلات کے مطابق نوح فساد کے بعد عادل عرف ڈی ایس پی ساکن نگینہ کے خلاف تھانہ نگینہ میں 18 ایف آئی آر درج کی گئی تھیں۔عادل کے والد کا پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے جبکہ اس کی والدہ ثمینہ نے سخت معاشی حالات میں دیہاڑی مزدوری کرکے اپنے بچوں کی پرورش کی ہے۔عادل کی والدہ ثمینہ نے جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر جناب محمود اسعد مدنی مدظلہ العالی کو درخواست دے کر اپیل کی تھی کہ ان کے بیٹے کو نوح فساد کے مقدمات میں ناحق ملوث کیا گیا ہے جبکہ اس کا ان واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس درخواست پر خاص توجہ دیتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند نے اس کیس کی پیروی قبول کر لی۔واضح رہے کہ جمعیۃ علماء ہند نوح فساد سے متعلق درج 663 مقدمات میں نامزد افراد کی قانونی مدد کر رہی ہے اور اب تک645 سے زائد افراد کو ضمانت دلانے میں کامیابی حاصل کر چکی ہے۔تنظیم کے قانونی انچارج مولانا نیاز احمد فاروقی کی نگرانی میں سینئر ایڈووکیٹ Tahir Rupadia کی قیادت میں 16 رکنی قانونی ٹیم ان مقدمات کی پیروی کر رہی ہے۔جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے عادل عرف ڈی ایس پی کو ابتدائی طور پر 18 مقدمات میں ضمانت حاصل ہو گئی تھی۔












