چودھری آفتاب احمد
9416266786
بھارت کی سپریم کورٹ کے جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس بی وی ناگرتنا کی بینچ نے حال ہی میں اپنے ہی ملک کے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے قتل میں اہم کردار ادا کرنے کےلئے عمر قید کی سزاکاٹ رہے باقی بچے ہوئے چھ مجرمین کو رہا کرنے کا فیصلہ سنایا ہے، آنجہانی راجیو گاندھی کا قتل سری لنکا کی لبریشن ٹائیگرس آف تمل ایلم (لٹے)کی مرکزی قیادت کے حکم پرکیا گیا تھا،تملوں کی یہ شدت پسند تنظیم سری لنکا سے الگ اپنا خودمختار ملک بنانے کے لئے وہاں کی حکومت فوج اور سولین کے ساتھ خوںریز جنگ لڑ رہی تھی، بھارت کے وزیراعظم راجیو گاندھی نے پڑوسی اور دوست ملک ہونے کی وجہ سے سری لنکا حکومت کی گزارش پر وہاں بھارت کی فوج کو( لٹے)سے لڑنے یا یوں کہیں کہ سری لنکا میں امن قائم کرنے کی غرض سے بھیجا تھا،راجیو گاندھی کے اس فیصلہ سے ناراض لٹے نے تمل ناڈو میں چنئی کے پاس سری پیرمبدور میں ایک ریلی کے دوران 21مئی 1991کوراجیو گاندھی کا خودکش بم حملہ سے قتل کرادیا تھا۔
سابق وزیراعظم آنجہانی راجیو گاندھی کا سری لنکا فوج بھیجنے کا فیصلہ جیسے ان کا اپنا ذاتی فیصلہ نہیں تھا،ٹھیک اسی طرح ان کا قتل بھی ذاتی دشمنی کی وجہ سے نہیں ہوا تھا،ان کا قتل نہ تو نفرت نہ ان کی مقبولیت کے حسد اور نہ ہی ان کا کسی ذاتی وجوہات کی بنا پر لٹے نے کرایا تھا،بلکہ ان کا قتل لٹے کے ذریعہ اس لئے کرایا گیاتھا،کیونکہ انھوں نے بھارت کے وزیراعظم ہونے کی حیثیت سے سری لنکا میں لٹے سے لڑنے کےلئے بھارت کی فوج کو وہاں بھیجا تھا،یہی آنجہانی راجیو گاندھی کا فیصلہ ان کی جان کا دشمن نکلا ،ظاہر بات ہے کوئی وزیراعظم اتنا بڑا قدم ازخود نہیں اٹھاسکتا جب تک کہ وہاں کی کابینہ اس کی اجازت نہ دےدے،لیکن چونکہ راجیو گاندھی بھارت کے وزیر اعظم تھے،اس لئے لٹے کے نشانہ پر ان کو آنا ہی تھا،ایسا ماہرین سائی کلوجی کا ماننا ہے،راجیو گاندھی کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے لوگوں کی بھی اس خودکش بم حملہ میں دردناک موت ہوئی تھی،مرنے والوں میں سیاسی لیڈر ،عام آدمی اور سیکورٹی اہلکار شامل تھے۔
سپریم کورٹ نے مجرمین کو رہا کرنے کے لئے آئین کے آرٹیکل 142کے تحت حاصل خصوصی پاورکا استعمال کیاہے،یہ آرٹیکل قتل کے معاملات میں مجرمین کی رہائی کا حکم دینے کے لئے مذکورہ عدالت کو اختیارات دیتا ہے،لیکن اس طرح کے غیر معمولی فیصلوں کو پاس کرنے کی عدالتوں میں اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی ہے،مرکزی حکومت نے راجیو گاندھی قتل کے مجرمین کی رہائی والی عرضی کی برابر مخالفت کی ہے ،چاہے مرکز میں کسی بھی پارٹی کی حکومت رہی ہو،یہاں تک کہ بی جے پی جو کا نگریس کی سخت مخالف ہے اور اپنے نظریات کانگریس کے خلاف رکھتی ہے نے بھی ان کی رہائی کی اجازت نہیں دی ۔
تمل ناڈو میں 2021میں ہوئے اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران دراوڈ منیتر کزگم یعنی(ڈی ایم کے)کے لیڈر ایم کے اسٹالن نے جو اب تمل ناڈو کے وزیراعلی ہیں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران راجیو گاندھی کے قتل میں ملوث مجرمین کی رہائی والی عرضی کی حمایت کا اشارہ دیا تھا،ایم کے اسٹالن کا اس حمایت کے پیچھے سیاسی کھیل چھپا ہوا تھا،یعنی وہ تمل قوم کا ووٹ اسمبلی الیکشن میں حاصل کرنا چاہتے تھے جس میں انھیں کامیابی بھی ملی ہے،سری لنکا کی شدت پسند تنظیم لبریشن ٹائیگرس آف تمل ایلم (لٹے)سری لنکا کے تملوں کی تنظیم ہے ،اب اس تنظیم کا سری لنکا میں کوئی وجودنہیں رہا ہے ،80اور 90کی دہائی میں اس تنظیم نے سری لنکا میں خوںریز جنگ لڑی ہے،اس جنگ کے دوران ہی آنجہانی سابق وزیراعظم راجیو گاندھی نے سری لنکا (لٹے)سے لڑنے کےلئے بھارت کی فوج کو امن فوج بناکر بھیجا تھا، آنجہانی راجیو گاندھی کی بیوہ اور کانگریس کی سربراہ مسز سونیا گاندھی نے ملک کے سابق صدر کے آر ناراینن کو اپنے شوہر کے قتل کے مجرمین کو پھانسی سے معافی دینے کے لئے خط لکھا تھا،یہ اس بیوہ عورت اور اس کے بچوں کی رحم دلی تھی،تب سونیا گاندھی نے اپنے شوہر کے قتل پر سیاست نہیں کی تھی،لیکن اب ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن نے اس پر ووٹوں کی سیاست کا کھیل کھیلا ہے،عدالت نے بھی راجیو گاندھی کے وارثین اور مرکزی حکومت کی رائے جانے بغیر ہی مجرمین کی رہائی کا حکم سنادیا ،یہ حکم کچھ ایسے لوگوں کو جو راجیو گاندھی سے محبت رکھتے تھے پریشانی میں ڈال سکتا ہے،اور ایسے لوگوں کو یا ماہر قانون کو بھی سوچنے پر مجبور کرسکتا ہے،جنھیں ہندوستانی آئین پر بھروسہ ہے،کیونکہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ آگے چل کر قتل کے سزایافتہ مجرمین کی رہائی کے لئے رولنگ بن جائے گا،پھر عدالت کو ایسے ہی سزایافتہ مجرمین کو رہا کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا،اس لئے کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی بینچ کا فیصلہ ہے اور سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک کی عدالتوں میں رولنگ بن جاتا ہے،تمل ناڈو کی سیاست کیسے ملک میں قتل کے سزایافتہ مجرمین کی رہائی کے لئے رولنگ بن جائے گی یہ کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا؟
آنجہانی راجیو گاندھی پر ہوئے خودکش حملہ میں اپنی تین انگلیاں گواں نے والی زندہ بچی سیکورٹی اہلکار انوسویاڈیزی ارنیسٹ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی مخالفت میںسڑک پر اتر آئی ہیں،انھوں نے کہاہے، اس فیصلہ نے مجھے مایوس اور نڈھال کیا ہے،میں نے سوچا بھی نہیں تھا ،کہ ایک دن یہ مجرمین رہا ہوں گے ،کیونکہ انھوں نے ملک کے سابق وزیراعظم کے قتل میں سازش رچی تھی، راجیو گاندھی کے قتل میں سازش رچنے والی نلنی سری ہرن سب سے اہم تھیں،اب نلنی کو جیل سے رہاکردیا گیا ہے اور وہ جلدی ہی اپنی بیٹی کے ساتھ لندن میں رہنے کےلئے پروازکرنے والی ہیں۔
عدالت عظمی نے مرکزی حکومت کے اوپر ریاستی حکومت کے فیصلہ کو ترجیح دی ہے ،شاید اس لئے کہ یہ قتل تمل ناڈو ریاست میں ہوا تھا،مگر قتل کا یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا،یہ ملک کے سابق وزیراعظم کا بہیمانہ قتل تھا،اس لحاظ سے عدالت کو مرکز ی حکومت اور راجیو گاندھی کی بیوہ اور بچوں کی بھی رائے جاننا چاہئے تھی، ایسا کچھ ماہرین سیاست اورماہرین قانون کا کہنا ہے،یہ فیصلہ مرکز اور یاستوں کے تعلقات میں الٹ پھیر کرنے جیسا فیصلہ ہے،آگے چل کر اس کے مرکز اور ریاستوں کے مابین برے نتائج بھی سامنے آسکتے ہیں،یہاں یہ سوچنا بھی ضروری ہے کہ کئی ریاستوں میں اس طرح کے سزایافتہ مجرمین جیلوں میں بند ہیں وہ بھی کل کو سپریم کورٹ کے اسی فیصلہ یا رولنگ کے تحت اپنی رہائی کی مانگ کریں گے،یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سپریم کورٹ ان سب کوبھی رہا کرے گا ؟اور کیا بھارت کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بی وائی چندرچوڈ کو جسٹس بی آر گئی اور جسٹس ڈی وی ناگرتنا کی بینچ کے اس فیصلہ پر از خود نوٹس لینا چاہئے؟ یا ان کے فیصلہ کو صحیح مان کر اسے ایک رولنگ میں بدل دینا چاہئے؟یہ ایسے جواب طلب سوال ہیں جن کا ہر ہندوستانی منتظر ہے۔












