معاشرہ اس وقت مہذب کہلاتا ہے جب اس میں قانون کی بالادستی، انسانی جان کی حرمت اور انصاف کے اصول مضبوط ہوں۔ لیکن جب یہ اصول کمزور پڑنے لگتے ہیں تو معاشرے میں بے چینی، تشدد اور بدامنی بڑھنے لگتی ہے۔ حالیہ برسوں میں ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ہجوم کے ہاتھوں تشدد (Mob Lynching) کا رجحان ایک سنگین سماجی مسئلہ بن کر ابھرا ہے۔ اس رجحان میں مشتعل بھیڑ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر محض شبہ، افواہ یا تعصب کی بنیاد پر کسی فرد کو تشدد کا نشانہ بناتی ہے اور بعض اوقات اسے قتل تک کر دیتی ہے۔ یہ صورت حال نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کے زوال کی بھی علامت ہے۔
گزشتہ دنوں وارانسی میں پیش آنے والا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ ایک کمسن لڑکے کو موبائل چوری کے شبہ میں مشتعل بھیڑ نے بری طرح پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا ایک موبائل فون کی قیمت ایک انسان کی زندگی سے زیادہ ہو گئی ہے؟ کیا ہمارا معاشرہ اس قدر بے حس ہو چکا ہے کہ ایک معصوم بچے کی جان بھیڑ کے غصے کے سامنے بے وقعت ہو جائے؟ درحقیقت یہ واقعہ صرف ایک فرد کے قتل کا معاملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی بحران کی علامت ہے۔
اعداد و شمار اس مسئلے کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔ مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق 2014 سے 2023 کے درمیان ہندوستان میں موب لنچنگ کے واقعات میں تقریباً 189 اموات ریکارڈ کی گئیں ۔ یہ تعداد اگرچہ مجموعی ہجوم تشدد کے واقعات کا ایک چھوٹا حصہ ہے، لیکن اس کے سماجی اثرات نہایت سنگین ہیں۔ اسی عرصے میں ملک میں مجموعی طور پر پانچ لاکھ چھبیس ہزار سے زیادہ ہجوم تشدد کے واقعات درج کیے گئے، جن میں لنچنگ کے واقعات کا تناسب تقریباً 0.01 سے 0.11 فیصد کے درمیان رہا۔
حالیہ اندازوں کے مطابق 2024 میں تقریباً 13 موب لنچنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 11 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 2025 میں اس تعداد کے بڑھ کر تقریباً 15 واقعات تک پہنچ گئی جن میں 8 لوگوں کی موت ہوئی ۔ سینٹر فار استڈی آف سوسائیٹی اینڈ سیکولرزم کے مطابق یہ واقعات سب سے زیادہ بی جے پی بر سر اقتدار والی ریاستوں اتر پردیش، مہاراشٹر، بہار اور مدھیہ پردیش جیسے بڑے صوبوں میں سامنے آئے اور ان میں بیشتر معاملوں میں مسلم طبقہ کو نشانہ بنایا گیا ۔
صرف ایک ریاست اڈیشہ کی مثال سے اس مسئلے کی شدت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ دی ہنس انڈیا میں درج سرکاری بیان کے مطابق جون 2024 سے فروری 2026 کے درمیان اڈیشہ میں 7 موب لنچنگ کے واقعات درج کیے گئے اور ان میں ملوث 61 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ محض چند واقعات تک محدود نہیں بلکہ ایک مسلسل بڑھتا ہوا سماجی رجحان ہے۔
ہجوم کے ہاتھوں قتل کا رجحان جہاں قانون اور انصاف کے نظام پر کمزور اعتماد کی علامت ہے۔ وہیں مجرموں میں قانون کے خوف کی کمی یا حکمرانوں کی پشت پناہی بھی اس کی بڑی وجہ ہے ۔ جب لوگوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کو بروقت سزا نہیں ملے گی تو بعض اوقات وہ خود ہی انصاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر بھارت میں ہجومی تشدد ہندو طبقہ کی اپنی بالا دستی ثابت کرنے کا نتیجہ ہے ۔ زیادہ تر واقعات میں حکمراں جماعت کی حامی تنظیموں کے افراد کی موجودگی دکھائی دیتی ہے ۔ کیونکہ وہ خود کو قانون سے اوپر سمجھتے ہیں اور ان کو پختہ یقین ہے کہ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوگی ۔ اس طرز عمل سے معاشرے میں مزید انتشار نے جنم لیا ہے۔ حالانکہ انصاف کا حق صرف عدالت اور قانون کو حاصل ہے، نہ کہ مشتعل ہجوم کو۔
اس مسئلے کی ایک اور تشویشناک وجہ افواہیں اور سوشل میڈیا ہیں۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق تقریباً 70 فیصد موب لنچنگ کے واقعات کی بنیاد واٹس ایپ یا سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہیں ہوتی ہی۔ انڈیا ڈیٹا میپ کے مطابق بچوں کے اغوا، گائے کے ذبیحہ یا چوری کے شبہ میں پھیلنے والی افواہیں چند ہی منٹوں میں لوگوں کو مشتعل کر دیتی ہیں اور پھر بھیڑ تشدد پر اتر آتی ہے۔افواہ پھیلا کر بھیڑ کو جمع کرنے کا کام بجرنگ دل ، وشو ہندو پریشد ، کرنی سینا ، گئو رکشا دل ، ہندو رکشا دل وغیرہ جیسی متشدد تنظیمیں کرتی ہیں ۔
تشدد پسند ہجوم کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک وجہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے صبری اور عدم برداشت بھی ہے۔ آج کی تیز رفتار زندگی میں لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مشتعل ہو جاتے ہیں۔ سڑکوں پر روڈ ریج کے واقعات اس کی واضح مثال ہیں۔ معمولی تنازع بھی بعض اوقات سنگین تشدد کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
نئی نسل میں بڑھتی ہوئی جارحیت کے پیچھے کئی سماجی اور نفسیاتی عوامل کارفرما ہیں۔ ایک اہم وجہ مشترکہ خاندانی نظام کا بکھر جانا ہے۔ ماضی میں مشترکہ خاندانوں میں بچوں کی تربیت اجتماعی ماحول میں ہوتی تھی جہاں بزرگوں کی نگرانی اور رہنمائی انہیں صبر اور برداشت سکھاتی تھی۔ آج زیادہ تر خاندان ایٹمی شکل اختیار کر چکے ہیں جہاں بچے محدود سماجی تجربات کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دوسروں کی رائے اور اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے۔
تعلیمی اداروں میں بھی اخلاقی تربیت کا پہلو کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ پہلے اساتذہ کا وقار اور نظم و ضبط کا ماحول طلبہ کو ذمہ دار شہری بناتا تھا، لیکن آج تعلیم زیادہ تر امتحانات اور نمبروں تک محدود ہو گئی ہے۔ اسی طرح والدین کی حد سے زیادہ لاڈ پیار اور بچوں کو بے لگام آزادی دینا بھی بعض اوقات ان میں غیر ذمہ داری پیدا کر دیتا ہے۔
معاشی مسائل بھی اس صورتحال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور محدود مواقع نوجوانوں میں مایوسی پیدا کرتے ہیں۔ جب نوجوان اپنی خواہشات اور حقیقت کے درمیان فرق محسوس کرتے ہیں تو ان کے اندر غصہ اور بے چینی بڑھتی ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی عیش و عشرت اور کامیابی کی چکاچوند بھی غیر حقیقی توقعات کو جنم دیتی ہے۔ جب یہ توقعات پوری نہیں ہوتیں تو مایوسی بعض اوقات تشدد کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔نشے کی بڑھتی ہوئی لعنت بھی سماجی تشدد کا ایک بڑا سبب بن رہی ہے۔ شراب اور منشیات انسان کے شعور اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں لوگ معمولی باتوں پر بھی پرتشدد ردعمل ظاہر کرنے لگتے ہیں۔
اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت، سماج اور تعلیمی اداروں کو مل کر اقدامات کرنا ہوں گے۔ سب سے پہلے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے واقعات کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ موب لنچنگ کے کیسز میں سزا کی شرح بہت کم یعنی تقریباً 10 فیصد کے قریب ہے، جس کی وجہ سے مجرموں کے دل میں قانون کا خوف کم ہو جاتا ہے۔ انڈیا ڈیٹا میپ کا کہنا ہے کہ اگر ایسے جرائم میں ملوث افراد کو فوری اور سخت سزا دی جائے تو یہ دوسروں کے لیے عبرت بن سکتی ہے۔
عوامی بیداری بھی اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ انسانی اقدار کے خلاف بھی ہے۔ میڈیا، سماجی تنظیمیں اور تعلیمی ادارے اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔خاندانوں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ بچوں کی تربیت میں اخلاقی اقدار، ہمدردی اور برداشت کو فروغ دینا ضروری ہے۔ اگر نئی نسل میں انسانیت اور انصاف کی قدریں مضبوط ہوں گی تو وہ کسی بھی صورت میں ہجوم کے تشدد کا حصہ نہیں بنیں گے۔مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ متشدد ہجوم کا بڑھتا ہوا رجحان ہمارے معاشرے کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ یہ نہ صرف انسانی جانوں کو نگل رہا ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی اور قانون کی بالادستی کو بھی کمزور کر رہا ہے۔ اگر ہم ایک مہذب اور پرامن معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس رجحان کے خلاف اجتماعی طور پر آواز اٹھانی ہوگی۔ قانون کی حکمرانی، اخلاقی تربیت اور سماجی شعور کے فروغ کے ذریعے ہی ہم اس خطرناک رجحان پر قابو پا سکتے ہیں۔ بصورت دیگر یہ متشدد بھیڑ نہ صرف انسانوں کی زندگیاں نگلتی رہے گی بلکہ ہمارے معاشرے کی تہذیبی بنیادوں کو بھی کھوکھلا کر دے گی۔












