نئی دہلی، (یواین آئی ) لوک سبھا کے بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلے کے دوسرے دن بھی ایوان کی کارروائی ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گئی۔ اپوزیشن جماعتوں کے شدید احتجاج اور نعرے بازی کے باعث وقفہ سوالات مکمل نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں پریزائیڈنگ آفیسر سندھیا رائے کو ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔ پریزائیڈنگ آفیسر سندھیا رائے نے جیسے ہی وقفہ سوالات کا آغاز کیا، اپوزیشن ارکان نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان کے بیچوں بیچ (ویل میں) جمع ہو گئے۔ ہنگامے کے باوجود پریزائیڈنگ آفیسر نے کارروائی جاری رکھنے کی کوشش کی۔ اس دوران وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے کچھ ارکان کے سوالات کے جوابات بھی دیے، لیکن شور و غل کی وجہ سے آواز دب کر رہ گئی۔ سندھیا رائے نے ارکان سے پرامن رہنے اور اپنی نشستوں پر واپس جانے کی بارہا اپیل کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا”عوام نے آپ کو اپنے مسائل کے حل کے لیے منتخب کر کے بھیجا ہے۔ زراعت جیسے اہم موضوع پر بحث ہو رہی ہے، ارکان کو اسے سننا چاہیے۔” جب اپوزیشن کا ہنگامہ شدت اختیار کر گیا اور ایوان میں کچھ بھی سنائی دینا ناممکن ہو گیا، تو پریزائیڈنگ آفیسر نے مجبوراً ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔ دریں اثنا لوک سبھا میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر گورو گوگوئی نے منگل کو کہا کہ ایوان میں ارکان کے ساتھ مساوی سلوک نہ ہونے اور پارلیمنٹ کی وقار و عظمت کو بچانے کے مقصد سے اپوزیشن کی جانب سے اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی ہے۔ مسٹر گوگوئی نے کہا کہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کا ذاتی تعلق سب کے ساتھ اچھا ہے، لیکن ایوان میں تمام ارکان کے ساتھ یکساں برتاؤ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کا فرض ہے کہ وہ ایوان کے نگہبان ہوں، حکومت کی آواز نہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے خطاب پر شکریہ کی تجویز کے دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو اپنی بات رکھنے نہیں دی گئی۔ انہیں بار بار حکومتی ارکان نے ٹوکا، حتیٰ کہ وزرائے دفاع، داخلہ اور پارلیمانی امور نے بھی مداخلت کی۔ مسٹر گوگوئی نے کہا کہ راہل گاندھی اہم مسائل اٹھانا چاہتے تھے، جیسے کہ جب چینی فوج ہندوستانی سرحد کی طرف بڑھ رہی تھی تو اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل منوج نروانے نے وزیر دفاع سے کارروائی کے احکامات مانگے، لیکن کئی گھنٹوں بعد انہیں وزیر اعظم کی طرف سے کہا گیا کہ "جو مناسب سمجھو کرو۔












