
گزشتہ سے پیوستہ ہفتہ کو حماس کی اسرائیل پر غیر معمولی حملے کے بعد پوری دنیا حیران و پریشان ہے اور مستقبل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کر رہی ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں سعودی عرب سمیت مشرق وسطی کے تمام ممالک اور اسرائیل میں قربت بڑھ رہی تھی۔ مگر اس جنگ نے اسرائیل اور مسلم دنیا کے درمیان کی کھائی کو گہرا دیا ہے یوں تو اسرائیل اور فلسطین کی جنگ روایتی رہی ہے مگر اس بار حماس نے جس طرح حملہ کیا ہےاس کو دیکھتے ہوئے صاف طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اس کی تیاری بہت بڑے پیمانے پر تھی کیونکہ حماس نے اسرائیل پر زمینی سمندری اور فضائی ہر سطح سے حملہ کیا ہے حماس کے فوجی اسرائیل کے سرحدی علاقوں کو عبور کرتے ہوئے اسرائیل کے اندر داخل ہو گئے وہاں کے فوجیوں کو یرغمال بنالیا تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 190 سے زائد اسرائیلی حماس کے قبضے میں ہیں جن میں فوج کا ایک سینیئر افسر بھی شامل ہے۔ پے در پے حماس کی طرف سے راکٹوں کی برسات نےپورے تل ابیب اور یروشلم کو دہلا دیا تقریباً پانچ ہزار راکٹ داغے گئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ادھر جوابی کاروائی کرتے ہوئے اسرائیل نے بھی اپنے جنگی طیارے غزہ کی پٹی پر چھوڑ رکھے ہیں جو مسلسل بمباری کر رہے ہیں زمینی و فضائی ہر دو سطح سے تابڑ توڑ حملہ جاری ہے جس سے غزہ کی پٹی میں ناتلافی نقصانات دیکھنے کو مل رہا ہے فلک بوس عمارتیں پلک چھپکتے زمین دوز ہو رہی ہیں 35 ہزار سے زائدفلسطینیوں کی ہلاکت ہو چکی ہے ہلاکت کا یہ اندازہ بھی لگاتار بڑھتا جا رہا ہے واضح ہو کے اس جنگ نے پوری دنیا کو دو خیمے میں کر دیا ہے اب تو لبنان سریا اور حزب اللہ کی طرف سے بھی فلسطینیوں کی حمایت میں عسکری پہل ہو چکی ہے اسرائیل کو غزہ پٹی کے علاوہ دو اور محاذ پر بھی اب جنگ کا سامنا ہے حماس نے اس آپریشن کا نام "طوفان الاقصی”دیا ہے اور پوری عوام میں جہاد کا اعلان کر دیا ہے سارے فلسطینی جذبہ شہادت کے ساتھ مسجد اقصی کی مکمل آزادی کی خاطر لڑ رہے ہیں اور جام شہادت نوش کر رہے ہیں ادھر اسرائیل انتقام کی آگ میں جل رہا ہے اسرائیلی صدر نیتن یاہو نے غزہ کی پٹی کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کی قسم کھا رکھی ہے اور لگاتار فلسطینیوں پر بموں کی برسات کر رہے ہیں اسرائیل اپنی انتقامی کاروائی میں اس وقت حد پار کر گیا جب غزہ پٹی کی ایک ہسپتال پر بمباری کر کے عورتوں بچوں معذوروں کے ساتھ وہاں کام کر رہے ڈاکٹروں اور ان کے معاونین کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا جن کی تعداد 500 سے متجاوز ہو رہی ہے غم سے نڈھال فلسطینی آگ دھوئیں اور ملبے میں اپنے پیاروں کو پکار رہے ہیں مدد کے لیے آواز دے رہے ہیں اس طرح اب غزہ میں شہید ہونے والوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز ہوگئی ہے جب کہ تیرہ ہزار سے زائد زخمی ہیں عالمی برادری کی شدید مزاحمت کے باوجود اسرائیل پر کوئی اثر دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے امریکہ نے اسرائیل کا نہ صرف ساتھ دیا ہے بلکہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اس حملہ کو لے کر اسرائیل کو کلین چیٹ بھی دے دیا ہے نیتن یاہو کے سامنے بیٹھ کر بیان دیتے ہوئےانہون نے صاف طور پر جھوٹ بولا اور دو ٹوک کہہ دیا کہ "غزہ کے ہسپتال پر حملہ اسرائیل نے نہیں بلکہ مخالف فریق نے کیا ہے” ادھر غزہ میں مغربی کنارے پر اسرائیلی حملے کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے جیسا کہ یورپ و امریکہ کے ساتھ دنیا کے تمام حصوں میں احتجاجی مظاہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں واضح ہو کہ فلسطین اور اسرائیل کے مابین اس جنگ کی داستان 90 برس پرانی ہے جس میں اب صدی لگنے کو ہے ایک نسل گزر چکی ہے دوسری گزرنے کو ہے اور تیسری کے سامنے یہ جنگ ہے بہت سے لوگوں کو اس معاملے میں حتمی جانکاری نہیں ہے علمی فقدان کی بنا پر لوگ پھیک نیوز اور سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈے کا شکار ہیں گودی میڈیا بھی فلسطین و اسرائیل کے معاملے کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے اور حقیقت حال کو آشکارا کرنے سے گریز کر رہی ہے اس لیے مسئلہ فلسطین کو مختصر طور پر جان لینا ضروری ہے تاکہ نئی نسل کو فلسطین و اسرائیل کے مابین اس روایتی تصادم کی حقیقت سے واقفیت حاصل ہو جائے بات 1914 کی پہلی جنگ عظیم کی ہے جو جرمنی اور برطانیہ میں ہو رہی تھی اس جنگ میں سلطنت عثمانیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا تھا مسجد اقصی کا انتظام و انصرام بھی سلطنت عثمانیہ کے تابع تھا اس جنگ میں جرمنی ہار گیا چونکہ سلطنت عثمانیہ جرمنی کے ساتھ تھی تو اس کو بھی شکست کا سامنا کرنا ہوا اس کے مختلف علاقوں پر برطانیہ نے قبضہ کر لیا اور انتقامی کاروائی شروع کی اس ضمن میں 1917 عیسوی میں برطانیہ کے وزیر خارجہ نے فلسطین میں آزاد یہودی ریاست قائم کرنے کا اعلان کر دیا اس نے یہودیوں کی ریاست کو قائم کرنے میں اپنا تعاون بھی پیش کرنا شروع کر دیا اس وقت یہودی ریاست کے قیام کو لے کر فلسطینیون و یہودیوں کے بیچ جھڑپے ہونے لگیں یہ وقت تھا جب برطانیہ اس علاقے کو خالی کر رہا تھا اس نے جاتے جاتے اس معاملے کو اقوام متحدہ کے حوالے کردیا اقوام متحدہ نے1947 میں فیصلہ دیا کہ فلسطین کو دو ریاستوں میں تقسیم کیا جاتا ہے مغربی علاقے جہاں یہودیوں کی اکثریت ہے اسرائیل کا قیام عمل میں آئے گا اور مشرقی علاقے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں فلسطین کے مسلمان اپنی ریاست قائم کریں گے یہودیوں کو مفت ایک ریاست مل رہی تھی انہوں نے اسے فورا قبول کر لیا مسلمانوں کی سرزمین جبرا چھینی جا رہی تھی انہوں نے اسے غیر منصفانہ اور حقوق سلبی کے مساوی سمجھا چنانچہ انہوں نے انکار کر دیا فریق مخالف کی رائے کو توجہ نہ دیتے ہوئے زبردستی 14 مئی 1948 کو اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا گیا اور فلسطین کے کچھ علاقوں کو قبضہ لیا گیا اس طرح ارض فلسطین کو ٹکڑے ٹکڑے کیے گئے ایک ٹکڑا اسرائیل ہوا ایک فلسطین جبکہ مسجد اقصی کو اقوام متحدہ نے اپنے اختیار میں رکھا رفتہ رفتہ وہ بھی اسرائیل کے قبضے میں ہو گیا جب بھی فلسطینیوں نے آواز اٹھائی ان پر تشدد کیا گیا اور ان کی باقی زمین بھی غصب کی گئی جس وقت فلسطین بنا تھا اس وقت فلسطین کا 52 فیصد حصہ اسرائیل تھا اور 48 فیصد پر فلسطینی قابض تھے اسرائیل نے اپنے چیرہ دستیوں ظلم و قتل و غارت گری کو جاری رکھا اور ہر بار فلسطینیوں کی زمین کو غصب کرتا رہا آج جو غزہ کی پٹی ہے وہ صرف 12 فیصد رہ گئی ہے اس کو بھی نیتن یاہو نے ہڑپ لینے کی قسم کھا رکھی ہے اس مختصر پس منظر کو دیکھتے ہوئے ہم صاف طور پر کہہ سکتے ہیں کہ ارض فلسطین فلسطینیوں کی ہے اسرائیل غاصب ہے ظالم ہے قابل افسوس بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے یہودی اسرائیل کی حمایت میں کھل کر بول رہے ہیں یہودی ممالک اسرائیل کی مدد کر رہے ہیں امریکہ نے اعلانیہ مالی و عسکری تعاون پیش کیا ہے صرف یہی نہیں بلکہ یہودیوں اور اسرائیلیوں کی ہمدردی غم خواری اور نازک گھڑی میں ان کا دکھ درد بانٹنے کے لیے اسرائیل کا دورہ بھی کیا ہے مگر فلسطین وحماس کی اس فیصلہ کن جنگ کے دوران لبنان سریا اور حزب اللہ کو چھوڑ کر کیا کوئی اسلامی ملک مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں پیش قدمی کیا ہے؟ کیا کسی نے اسلامی عالمی اخوت کو نبھانے کے لیے غزہ پٹی کا دورہ کیا ہے؟ جس طرح امریکی صدر جو بائیڈن اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں کیا اسی طرح دنیا کے مسلمانوں کی حمایت و ہمدردی کے لیے مملکت سعودیہ عربیہ کے خادم الحرمین الشریفین غزہ پٹی کا فی الفور دورہ کریں گے ؟کیا تمام اسلامی ممالک یورپ و امریکہ سے فلسطینیوں کی ہمدردی میں اپنی تجارتی تعلقات کے خاتمے کا اعلان کریں گے او ائی سی نام کی کٹھ پتلیاں نے اب تک فلسطین اور مسجد اقصی کی آزادی کے لئے کیا کیا ہے؟ایک طرف امریکہ اسرائیل کی مکمل امداد فراہم کر رہا ہے تو دوسری طرف ہمارے اسلامی ممالک صرف بیان بازی کر رہے ہیں پوری اسلامی دنیا کے مسلمان ترکی کو بھی ایک امید کی نظر سے دیکھتے ہیں مگر اس بحران کو ختم کرنے میں اس کا بھی خاطر خواہ کارنامہ نہیں ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان جس کے پاس مسلم دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے وہاں کے لیڈران نمک آٹے کے دام میں الجھے ہوئےہیں ان کی فوج کا سب سے بڑا کارنامہ اسلامی دینی ملی خدمت یہ ہے کہ وہ عمران خان پر مقدمہ چلا کر ایک مردآہن کو پھانسی پر لٹکا دیں مگر ارض فلسطین اور مسجد اقصی کی آگ کو بجھانے کی کوئی پہل نہیں ہے پوری مملکت اسلامی کے ساتھ ہمیں ملک ہندوستان پر بھی نظر کرنی ضروری ہے یہاں اسلامی حکومت تو نہیں مگر جمہوری ضرور ہے ہمارے یہاں دارالعلوم ، ندوۃ العلماء ، الجامعہ الاشرفیہ ، جیسے تعلیمی ادارے ہیں مسلم پرسنل لا بورڈ،جمعیت علماء ہند، جمعیت اھل حدیث ،امارت شرعیہ جیسی تنظیمیں ہیں مگر یہاں بھی جس معیار کا احتجاج و مظاہرہ دیکھنے کو ملنا چاہیے نہیں ملا صرف اپنے اپنے پیڈ پر ایک اعلانیہ جاری کر دینا کچھ اور ضمیر نے آواز دی تو ایک پریس ریلیز کر دینے کو ہی کافی سمجھا گیا فلسطینیوں سے حمایت کی انتہا یہ ہوئی کہ ہم ایک اعلان کر دیں ہمارے تمام ملی سماجی معاشرتی تمدنی اورسیاسیات کے عزیمت والےکاموں کی ذمہ داری جامعہ ملیہ اسلامیہ ، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی،جے این یو اور اسکول و کالج کے اسٹوڈنٹس تنظیم کے رضاکاروں نے لے رکھی ہے جن کو ہم دنیا دار اور ان کی تعلیم کو دنیا کی تعلیم کہ کر گذر جاتے ہیں یہ سفید پوش علماء، مدارس کے ذمہ داران ،بڑی بڑی تنظیموں کے سربراہان، صرف جبہ و دستار کی جنگ میں پڑے ہوئے ہیں تمام اسلامی ممالک او ائی سی اور تمام ملی دینی سماجی تنظیموں کے ذمہ داران سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ کیا اب وہ وقت نہیں آگیا کہ تمام اسلامی مملکتیں بہ یک وقت اسرائیل پر حملہ کر کے اس کے ناپاک وجود کا خاتمہ کردیں اور دنیا کے تمام مسلمان سراپا احتجاج ہو جائیں مگر ۔۔
سادگی اپنوں کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ !!!












