نئی دہلی، (یو این آئی) کانگریس صدر ملک ارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سفارتی ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ملک رسوئی گیس کی قلت سے دوچار ہے، لیکن مسٹر مودی اپنی حکومت کی ناکامی پر توجہ دینے کے بجائے انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ مسٹر ملک ارجن کھڑگے نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، ایسے وقت میں جب ملک بڑے بحران سے دوچار ہے، وزیر اعظم مودی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔” انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ایل پی جی کی شدید قلت ہے، لوگ قطاروں میں کھڑے ہیں۔ بی جے پی کی ناکامی کا خمیازہ متعدد چھوٹی اور بڑی صنعتوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ لیکن حکومت کے پاس جھوٹے دعوؤں کے سوا کوئی جواب نہیں ہے۔ مسٹر ملک ارجن کھڑگے نے ایل پی جی کے بحران کو حکومت کی سفارتی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ "سفارت کاری کی ناکامی” سنگین مسئلہ ہے، اور یہ کہ ملک کے 1.4 ارب لوگ توانائی کے نظم کی ناکامی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ مسٹر نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے لکھا، نریندر مودی جی، بہت ہوئ من کی بات ، اب ذرا پارلیمنٹ میں آکر کیجیے مسائل کی بات۔دریں اثنا کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ملک میں ایل پی جی اور تیل کی کمی کا یہ ابتدائی مرحلہ ہے اور بدلتے ہوئے حالات میں حکومت کو توانائی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے چاہیے۔ مسٹر گاندھی نے جمعرات کو پارلیمنٹ کمپلیکس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "ملک میں ایل پی جی اور تیل کی جو صورتحال ہے وہ ابھی آغاز ہے۔ اس بارے میں میں ایوان میں بات کرنا چاہتا تھا لیکن کوئی نئی کارروائی شروع ہوئی ہے۔ اس میں پہلے وزیر فیصلہ کریں گے پھر میں بولوں گا اور پھر وزیر اس کا جواب دیں گے۔ ابھی تیاری کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے پاس وقت ہے۔ وزیراعظم اور حکومت کو فوراً اس مسئلے سے نکلنے کے لیے تیاری شروع کر دینی چاہیے۔ اگر تیاری نہیں کی گئی تو کروڑوں لوگوں کو نقصان ہوگا۔” انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ اس سے بھی بڑا ہے کہ کیا ایران ہمیں ایندھن خریدنے کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔ یہ عدم استحکام کی طرف بڑھنے کی صورتحال ہے اور جب آپ غیر مستحکم وقت میں جاتے ہیں تو ذہنیت بدلنے لگتی ہے کیونکہ یہ پہلے جیسی نہیں رہ سکتی، اس لیے حکومت کو مشورہ ہے کہ وہ امکانات کے بارے میں گہرائی سے سوچنا شروع کرے اور یہ یقینی بنانے کے اقدامات کرے کہ لوگوں کو کوئی دشواری نہ ہو۔ مسٹر گاندھی نے کہا، "میں کوئی سیاسی بیان نہیں دے رہا۔ میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ مجھے مستقبل میں بڑی مسئلہ نظر آ رہی ہے۔ اگر ایران کی سطح پر یہ مسئلہ برقرار رہا تو بھی یہ ٹھیک نہیں ہوگا کیونکہ دنیا بدل رہی ہے، چیزوں کا حل بدل رہا ہے، اس لیے ہمیں ذہنیت کو ری سیٹ کرنا ہوگا۔ اگر ہم ذہنیت نہیں بدلیں گے، واضح نہیں رکھیں گے اور ہندوستان کو مرکز میں رکھ کر کام نہیں کریں گے تو مسئلہ ہوگا۔” کانگریس رہنما نے وزیراعظم نریندر مودی پر بھی تنقید کی اور کہا، یہاں ایک مسئلہ یہ ہے کہ وزیراعظم بطور ملک کے سربراہ کام کرنے کے قابل نہیں ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پھنس گئے ہیں۔ لیکن انہیں اب بھی یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہندوستان کے لوگ محفوظ ہیں اور ہماری توانائی کی سلامتی برقرار ہے۔ مجھے امید ہے کہ حکومت میری بات سنے گی۔” دریں اثنا ملک میں توانائی کے بحران اور ایل پی جی سلنڈر کی قلت پر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا اور نعرے لگائے۔ پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے قبل مختلف جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ ہاؤس کے مکر دوار کے سامنے جمع ہوئے اور احتجاج کیا۔ اس دوران متعدد ارکان ہاتھوں میں پوسٹر اور بینر لے کر زمین پر بیٹھ گئے اور ایل پی جی سلنڈر کی قلت کے حوالے سے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاج شروع کردیا۔ احتجاج کرنے والے ارکان نے ہاتھوں میں سلنڈروں کی تصویروں والے پوسٹر اٹھائے ہوئے نعرے بھی لگائے۔ ارکان نے زمین پر بیٹھ کر تختیاں پیٹ کر اور تالیاں بجا کر حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔












