سرینگر، سرینگر لہہ شاہراہ پر وائل گاندربل میں پُل کا لیفٹنٹ گورنر نے افتتاح کیا ۔ اس موقعے پر ایل جی نے کہاکہ جموں کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور کشمیر کو ترقی کی منزلوں پر لے جانے کےلئے سرکار پُرعزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کو دنیا کا نمبر ون ٹورسٹ پلیس بنایا جائے گا جس سے یہاں کی معیشت بڑھنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے کافی وسائل بھی پیدا ہوں گے ۔تفصیلات کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے گاندربل ضلع میں سری نگر-لیہہ ہائی وے کے ساتھ نالہ سندھ پر آنے والے اپنی نوعیت کے اہم اور منفرد پل کا افتتاح کیا جسے وائل پل بھی کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر چیف سکریٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا، ڈی ڈی سی چیئرپرسن گاندربل نزہت اشفاق، پرنسپل سکریٹری آر اینڈ بی شیلندر کمار کے علاوہ سول اور پولیس انتظامیہ کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔ اس موقعے پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے کہا ہے کہ جموں کشمیر میںبنیادی ڈھانے کی مضبوطی کی طرف ترجیح دی جارہی ہے اور خطے کی تعمیر و ترقی کےلئے وزیراعظم کی قیادت والی سرکار پُر عزم ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ کشمیر ایک بہترین عالمی سیاحتی ڈسٹنیشن بننے کےلئے تیار ہے ۔ ایل جی نے اس موقعے پر سرینگر میں اختتام پذیر ہوئے G20سمٹ کے حوالے سے تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیر کےلئے فخر کی بات ہے کہ یہاںپر مختلف ملکوںکے مندوبین نے آکر حالات کا مشاہدہ کیا ۔ا نہوںنے کہا کہ شرکاءنے یقین دلایا ہے کہ جموںکشمیر کو انٹرنیشنل ٹورازم ہب بنانے کےلئے تعاون کیا جائے گا۔ دریں اثناءحکام نے بتایا کہ دو لین والے پل کو جموں توی فلڈ ری کنسٹرکشن پروجیکٹ (جے ٹی ایف آر پی) کے تحت 23.79 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا تھا اور اس کی عمل آوری ایجنسی آر اینڈ بی ڈیپارٹمنٹ تھی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پل کشمیر میں اپنی نوعیت کا پہلا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پل ایک آرچ قسم کا اسٹیل گرڈر ہے جس کی بنیاد 110 میٹر اورچوڑائی 10.50 میٹر ہے جبکہ اپروچ سڑکوں کی لمبائی 330 میٹر ہے۔ پل کی تعمیر میں ابتدائی طور پر ہچکیاں آئی تھیں تاہم گزشتہ دو سالوں میں تعمیراتی ایجنسی اور ٹھیکیداروں کی جانب سے کام کی رفتار تیز اور تیز کر دی گئی۔یہ پل، ٹراس اور آرچ برج عناصر اور گرڈرز کے ایک انوکھے امتزاج کا استعمال کرتے ہوئے تعمیر کیا گیا ہے، گاندربل کے لوگوں کے لیے ایک اہم کڑی بننے کے لیے تیار ہے، جو پرانے سنگل لین پل کی جگہ لے گا جس کی وجہ سے اکثر ٹریفک جام اور تاخیر ہوتی تھی۔یہ پل کشمیر اور لداخ کو ملانے کی اہمیت کے پیش نظر بہت اہم ہے، اس کے علاوہ سیاح اور یاتری سونمرگ جانے اور سالانہ امرناتھ یاترا کے لیے اسی راستے کا استعمال کرتے ہیں۔












