صادق شروانی
نئی دہلی ،سماج نیوز سروس:ملک کے حالات کیسے بھی ہوں،لیکن کئی مرتبہ مسلمانوں کے آپسی انتشار کی وجہ سے بھی عبادت گاہوں کو لے کر پولیس اور عدالت تک جانے سے کوئی بھی فریق پیچھے نہیں ہے۔ حالانکہ عام طور پر مساجد، مدارس اور خانقاہوں کے خلاف مودی اور یوگی سرکار پر الزام عائد کیا جاتا ہے ۔ لیکن اتنے بڑے دیش بھارت میں کہیں کہیں ایسی واردات بھی دیکھنے کو مل رہی ہے جہاں حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کے باوجود مسجد اور مدرسہ پر مالکانہ حق کو لے کر دونوں فریق ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔حد تو یہ ہوگئی کہ گذشتہ عید کی نماز کے فوراً بعد جبراً مدرسہ پر قبضہ کرنے کے لیے نہ صرف تالابلکہ دروازہ بھی توڑدیا جاتاہے۔ اور اس کارروائی کے لیے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔گذشتہ دنوں سیلم پور اسمبلی میں واقع سعیدیہ مسجد اور مدرسہ سیدالمدارس میں اس قدر ہنگامہ آرائی ہوئی کہ پولیس نے مداخلت کی اور بھاری فورس تعینات کرنی پڑی۔یہاں تک بتایا جاتا ہے کہ اس مدرسہ کی چابی بھی پولیس لے کر چلی گئی۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں شرپسند عناصر کی بھی اینٹری ہوگئی ہے۔حالانکہ یہ لوگ خود کو سماج سدھارک اور سیاسی کارکن بتاتے ہیںلیکن اہل علاقہ ایسے لوگوں کو اچھے سے جانتا ہے۔اس مسئلے کا حل اگر جلدی نہیں نکلا تو مدرسہ کو لے کر آپسی رنجش اور بڑی واردات بھی رونما ہوسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق جعفرآبادایس ایچ او کو دونوں پارٹیوں کی جانب سے اپنے اپنے دستاویزات کی تصدیق کرا دی گئی ہے۔ اس کے باوجود بھیڑ میں سے جن لوگوں نے مدرسہ کا دروازہ توڑا ان کے خلاف ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ خود کو ذمہ دار اور سمجھدار بتانے والاطبقہ فرنٹ فٹ پر آنا نہیں چاہتا، البتہ پیچھے سے ضرور وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتا ہوا نظر آتاہے۔لیکن اس طرح سے تو اگر تمام لوگ خاموش رہے تو اچھے انجام کی امید نہیں کی جاسکتی۔سعیدیہ مسجد کے امام و خطیب اور بہترین مقرر مولانا انیس آزاد قاسمی اس تمام معاملے پر خاموشی اختیار کئے ہو ئے ہیں۔کچھ لوگ ان کی خاموشی پر بھی سوال کھڑے کر رہے ہیں۔ کیونکہ مدرسہ میں بہت عرصے تک انھوں نے اپنی خدمات انجام دی ہیں۔ جبکہ مولانا انیس آزاد قاسمی بلگرامی کو اکثر و بیشتریہ کہتے ہوئے سنا جاتا تھا کہ حاجی اکرام نے مدرسہ قائم کرکے اس علاقہ کے لیے بڑا دینی کارنامہ انجام دیا ہے۔تشکیل دی گئی نئی کمیٹی کے لیگل ایڈوائزر ایڈوکیٹ رخسار احمد کہتے ہیں کہ جب سے حاجی اکرام حسن نے مہتمم کی جگہ خود کو مالک بتانا شروع کیا تبھی سے یہ تنازع پیدا ہوگیا۔ان کا مزید کہنا ہے کہ سعیدیہ مسجد کی نمازیوں کے ذریعہ ہی اس مدرسہ کا نظم و نسق ہونا چاہئے۔تو دوسری طرف مدرسہ قائم کرنے والوں میں حاجی اکرام حسن کا کہنا ہے کہ چند لوگ دینی درسگاہ کو خرد برد کرنا چاہتے ہیں، جس کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی۔ اس طرح سے تو ہمارے علاقہ کے مدرسہ باب العلوم اور مدرسہ بیت العلوم پر بھی مقامی لوگ نئی کمیٹی تشکیل دے کر حجومی تشدد کے ذریعہ قبضہ لینے پہنچ جائیں گے۔کیونکہ ان دونوں ہی مدارس کے مہتمم مقامی نہیں ہیںاور باہر سے آکر یہاں مدرسہ چلا رہے ہیں۔حالانکہ کچھ لوگوں نے یہ بھی امید ظاہر کی ہے کہ اب علاقہ کے لوگوں کی نظریں اس شخصیت کی طرف ٹکٹکی لگائے ہوئے ہیں جو سیلم پور میں ہونے والےدینی اور سماجی تنازع حل کراتے آئے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق دونوں ہی پارٹیوں کو امید ہے کہ وہ میدان میں آئیں گے اور معاملہ سلجھا لیا جائے گا۔ لیکن دیکھنا ہوگا کہ ان حضرت میں کیا پہلے جیسی ہمت اور طاقت باقی ہے،یا وہ بھی مولانا انیس آزاد قاسمی بلگرامی کی طرح خاموش رہیں گے؟آپ کو بتا دیں کہ مدرسہ سید المدارس کے بارے میں کچھ لوگ یہ بھی شک و شبہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس میں ایک بڑی سیاسی سازش بھی ہوسکتی ہے۔ورنہ ہمارے علاقہ میں کئی بڑے مدارس اور اسکول بھی چل رہے ہیں جو اب سے برسوں پہلے لوگوں کے چندوں سے ہی قائم کئے گئے ہوں گے۔ یہ اسکول یا مدارس نہ صرف سیلم پور بلکہ تمام دہلی میں علاقہ نام روشن کر رہے ہیں اور ان کا شمار اقلیتوں کے بڑے تعلیمی ادارے اور بڑے مدارس کے طور پر کیا جاتاہے،کیا اب ان کی بھی خیر نہیں ہے؟مولانا انیس آزاد قاسمی بلگرامی سے لاکھ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ فون رسیو نہیں کر سکے۔












