نئی ،پریس ریلیز،ہماراسماج: انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں تحفظ مدارس کو لیکر ایک بڑی بیٹھک ہوئی جس میں ملک کے بڑے بڑے علمائے کرام نے شرکت کی واضع رہے یہ میٹنگ ال انڈیا سنی جمعیت العلماء اور رضااکیڈمی نے حضرت مولانا سید معین میاں اور الحاج محمد سعید نوری کی صدارت وقیادت میں منعقد کی جس میں الجامعہ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ سے شیخ الجامعہ مفتی بدر عالم ،ٹیچر ایسوشی ایشن کے جنرل سکریٹری دیوان زمان خان، ایڈوکیٹ شارق عباسی ،مولانا مختارالحسن بغدادی ، مولانا نورالحسن بغدادی ،مولانا معراج ازھری کے علاوہ مداس عربیہ کے تقربا پچاس علماء نے شرکت کی علمائے کرام نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ مدارس اسلامیہ کبھی بند نہیں ہوسکتے یہ ہمارا دستری حق ہے جیساکہ سپریم کورٹ نے الہ اباد ہائی کورٹ کے لکھنئو بینچ کے فیصلے پر روک لگاکر حکومتوں اور عدالتوں پر قدغن لگادیا کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں سب کو اپنے زبان وتہذیب کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کا جواز موجود ہے یہ بھی بتاتے چلیں کہ مخدوم پاک کچھوچھہ ف کے سجادہ نشین اور ال انڈیا سنی جمعیت العلماء کے مرکزی صدر حضرت سید معین میاں نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ مدارس نہ کبھی بند ہوئے ہیں اور نہ ہونگے کچھ پراگندہ ذہنیت کے لوگ حکومتوں کو گمراہ کرکے مدارس اسلامیہ کو بند کروانے کی سازشیں کررہےہیں وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونگے اس لئے کہ ضلعی اور صوبائی عدالتوں کے اوپر عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ موجود ہے حضرت سید معین الدین اشرف معین میاں نے علمائے کرام کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا آپ حضرات اطمینان رکھیں ملک میں انتشار پیدا کرنے والے تخریبی ذہنیت کے لوگوں کا جواب کورٹ دے گی ہم کو عدالت عظمیٰ پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ انصاف کا خون نہیں ہونے دیگی اور نہ ہی کسی کا حق مارا جائے گا ہم نے ممبئی میں بھی ایک میٹنگ میں کہا تھاکہ سپریم کورٹ میں تحفظ مدارس کے لئے بھر پور پیروی کرینگے آپ حضرات ملک میں امن وشانتی کے لئے دعائیں کرتے رہیں پیار محبت کے پیغام کو جیسے پہلے عام کرتے رہے ہیں اس میں اور تیزی پیدا کریں کہ ملک سے نفرت کا خاتمہ ہو ہندوستان امن پیار محبت کا گہوارہ بنا رہے اس وقت دیش بہت نازک دور سے گزررہا ہے اس کے تعمیر و ترقی میں کوشاں رہیں اس موقع پر رضااکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ ریاست کی حکومت جو مراعات مدارس اسلامیہ کو دیتی ہے وہ کوئی خیرات نہیں ہے ہمارا دستری حق ہے جو مدارس کو ملتا ہے اگر حکومت وہ مراعات بند بھی کردے تب بھی مدارس بند نہیں ہونگے مسلمان ہر طرح سے اپنے مدارس کو جاری رکھنے کے اہل ہیں ملک میں دیگر زبانوں کی طرح اردو فارسی بورڈ بھی حکومتی سطح پر قائم کیاگیا تھا جو صدیوں سے چلا آرہاہے مگر جب سے ریاست اور مرکز میں زعفرانی پارٹی کی حکومت ائی ہے تب سے اسے مدارس میں خامی نظر آنے لگی ہے تو دوسری طرف ملک کے وزیر اعظم ایک ہاتھ میں قران تو دوسرے ہاتھ میں سائنس کی بات کس منہ سے کرتے ہیں حکومتوں کو قطعی طور پر یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی کے مذہبی تعلیمات یا معاملات و رسومات میں مداخلت کریں ناعاقبت اندیشی سے جو معاملہ کورٹ تک پہونچادیا گیا ہے۔












