ترکی کے صدررجب طیب اردوگان تیسری دفعہ صدرمنتخب ہوگئے ہیں،ملک بھرکے عوام کی نگاہ ترکی کے صدارتی انتخاب پر مرکوز تھی، لوگ پل پل کی جانکاری معلوم کررہے تھے ،چودہ مئی کوصدارتی انتخاب کاووٹ ڈالاگیاتھا،۹۰فیصدووٹرٹرن آوٹ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی صدارتی امیدوارپچاس فیصدسے زائدووٹ حاصل نہیں کرسکاتھا،اس لئے سوسال میں پہلی دفعہ صدارتی انتخاب کاووٹ ۲۸مئی کوڈالاگیا،ملک بھرمیں ووٹربوتھ کااہتمام کیا گیا رجب طیب اردگان اپنی اہلیہ امینہ اردگان کے ساتھ استنبول میں ووٹ ڈالا،ریپبلیکن پارٹی کے امیدوارکمال اوغلواپنی اہلیہ کے ساتھ انقرہ میں ووٹ کااستعمال کیا،جس میں رجب طیب اردگان ۵۲ فیصدووٹ سے کامیابی درج کرائی ،جبکہ اپوزیشن امیدوار۴۸ فیصد ووٹ پرہی سمٹ کررہ گئے، اپوزیشن امیدواررجب طیب اردگان کوہرانے کی ہرممکن کوشش کی ،سچ کوجھوٹ اورجھوٹ کوسچ ثابت کرنے کی تدبیریں کی ،ہرملک کی اپوزیشن جماعت حکمراں جماعت کاٹانگ کھیچتی ہے ، بدنام ورسواکرنے کی کوشش کرتی ہے، اس میں خاص طورپراسلام دشمن طاقتوں کااہم رول رہاہے، خاص کرامریکہ اسرائیل رجب طیب اردگان کوہرانے کے لئے اپنی ایڑی چوٹی لگادی تھی،لیکن وہی ہواجومنظور خداتھاکسی سازش کرنے والے کی سازش کارگرثابت نہیں ہوسکی ۔
ترکی صدارتی انتخاب میں تین امیدوارمیدان میں قسمت آزمارہے تھے، جن میں ہردلعزیزرجب طیب اردگان ،کمال کلیج داراوغلو اور سنان اوغنان صاحب تھے ،جب کسی امیدوار کواکثریت ووٹ نہیں مل سکاتوتیسرے امیدوارنرم رویہ اختیارکرتے ہوئے اپنانام واپس لے لیااوررجب طیب اردگان کی حمایت کااعلان کردیا،جوکہ بہت ہی خوش آئند بات ہے ،اب سیدھے طور پررجب طیب اردگان اوراپوزیشن پارٹی کے امیدوارکمال اوغلوکے درمیان کانٹے کی ٹکرتھی، پوری دنیاکے اسلام پسندمسلمان رجب طیب اردگان کے کامیابی اوران کی صحتیابی کی دعاء کررہے تھے، چونکہ موجودہ وقت میں رجب طیب اردگان ہی واحدایساشخص ہے، کہیں کسی ملک میں بھی مسلمانوں کے خلاف ظلم وزیادتی ہوتی ہے ،مسلمانوں کے حقوق کوغصب کیاجاتاہے توسب سے پہلے حق کی آواز بلند کرنے والے رجب طیب اردگان کی شخصیت ہے ،عرب ملک کے حکمراں مسلمانوں کے اوپرظلم وزیاتی ہوتی رہتی ہے اوریہ سارے عرب حکمراں کے سرپرجوں تک نہیں ریگتی اورخاموشی کے ساتھ ظلم وزیادتی کودیکھتے رہتے ہیں،دنیابھرکے مسلمانوں کی ظلم وزیادتی رجب طیب اردگان سے ذرابھی برداشت نہیں ہوتی چاہے، اسرائیلی مسلماں ہوں یا پاکستان ،بنگلہ دیش ،افغانستان وہندوستان کے مسلمان ،ان کے اندرکی غیرت وحمیت جاگ جاتی ہے ،ان کادل تڑپ جاتاہے، رات کی نیند حرام ہوجاتی ہے، رجب طیب اردگان شیشہ پلائی ہوئی دیواربن کرمظلوموںکی مدد کے لئے ہاتھ بٹاتے ہیں ،ہرممکن مددکی یقین کرتے ہیں جوکہ بہت بڑی بات ہے ۔
رجب طیب اردگان تیسری دفعہ صدرترکی چنے گئے ہیں ،سب سے پہلے ترکی کے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے، اس کے بعد سے لگاتار تیسری دفعہ ترکی کے صدربنے ہیں، مسلسل ترکی پرطویل حکمرانی کرنے والے صدر جمہوریہ ترکیہ ہیں، تیسری صدی میں داخل ہوچکے ہیں،ترکی کی تاریخ میں خلافت عثمانیہ کے بعد رجب طیب اردگان کواچھے صدرکے طور پریادکیاجائے گا،رجب طیب اردگان کانام جلی حرفوں میں ضرورلیاجائے گا،تین صدی تک حکمرانی کرنامعمولی بات نہیں ہے ،ترکی کی عوام رجب طیب اردگان کی جیت سے خوش ہے ،ہر طرف مسرت وشادمانی کاماحول ہے، ملک وبیرون ملک سے مبارکبادی کاسلسلہ جاری ہے۔
رجب طیب اردگان کے جیت کی خبرسن کراسلام دشمن طاقتوں کے منہ پرزورکاطمانچہ لگاہوگا،جنہوں نے رجب طیب اردگان کے خلاف غلط پروپگنڈہ پھیلایا،جاسوسی کی گئی، لیکن اس کی ایک بھی تدبیر کارگرنہیں ہوا،ہردلعزیزقائدورہنماکی کامیابی کے لئے ماں بہنوں اورمظلوموں کی دعاء ہی کافی تھی، رجب طیب اردگان ترکی کے تعمیروترقی ،تعلیم وٹیکنالوجی،معیشت کومظبوط ومستحکم کرنے میں اہم خدمات انجام دی ہے ،رجب طیب ادرگان کاکام عوام کے نظروں کے سامنے ہے، انہوں نے اپنے کام کاج کی بنیادپرجانے جاتے ہیں جوکچھ بھی کرتے ہیں، وہ صرف اورصرف ترکی کے عوام وخاص کے فلاح وبہبودکے لئے ہواہے۔
کمال اتاترک کے دورحکومت میں مساجد پرتالالگا دیاگیا، قرآن پڑھناجرم قراردیاگیا،پردہ پرپابندی عائدکردی گئی، الغرض اسلام کوختم کرنے کے لئے اپنی کوشش صرف کردی ،اللہ عزوجل نے رجب طیب اردگان کوایمان کی دولت سے نوازاہے، انہوںنے اسلام کی ترویج واشاعت میں اہم رول اداکیاہے،دینی مدارس ومکاتب اورخانقاہ کوآبادکیا،اللہ تعالی رجب طیب اردگان سے جوکام لیاہے، وہ رہتی دنیاتک لوگوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوگا،رجب طیب اردگان کے ذریعہ سے ترکی کانشاۃ ثانیہ کاآغازہواہے،پورے ترکی میں دینی مدارس ومکاتب ومساجدوخانقاہ کی اجازت دی گئی، ہرطرف سے قال اللہ واقال الرسول صدائیں گونجنے لگی ،اسلام کی نشرواشاعت میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔رجب اردگان نے جیت کے جیت کے بعدبالخصوص ترکی کے عوام بالعموم پوری دنیاکے مسلمانوں کاشکریہ اداکیا، دنیا کا واحدمردمجاہدہے جس سے دنیاکی عوام رجب طیب اردگان کی طرف حسرت وامیدکی نگاہ سے دیکھتےہیں اوران کی امیدتوقعات نہ صرف پوری ہوتی ہیں بلکہ بہترڈھنگ سے عمل بھی ہوتاہے،دنیابھرکے محبوب ترین سیاسی قائدوں میں سے ایک ہیں،سیاسی رہبرورہنماکی ساری خوبیاں بدرجہ اتم موجودہیں، اللہ عزوجل سے سے دعاء کرتاہوں کہ ہم سب کے قائدورہنماکوصحت وسلامتی کے ساتھ رکھے اورترکی کے ساتھ پوری دنیاکے مسلمانوںکے حق کی آوازطاقت وقوت کے ساتھ بلندکرتا رہے۔ رجب طیب اردگان تیسری دفعہ صدرجمہوریہ ترکیہ کا حلف لے لیااوروزارت کاقلمدان بھی تقسیم ہوچکاہے،اورسبھی وزیروں نے ایمانداری ودیانتداری کے ساتھ ترکی کی تعمیروترقی میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینے کاوعدہ کیااورامیدکرتے ہیںکہ پہلے سے بہترترکی نمایاں خدمات کے طورپرابھرے گاتاکہ دوسرے ملک کے لئے آئیڈیل بنے،ملک بھرمیں ترکی کی اپنی پہچان اورشناخت ہے اس کوبرقراررکھنابے حدضروری ہے۔












