علی گڑھ،سماج نیوز سروس : علی سوسائٹی کے زیر اہتمام بیت الصلوٰۃ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مجلس شہادت امام علی (علیہ السلام) منعقد ہوئی، جس میں طلبہ، اساتذہ اور عاشقان اہل بیتؑ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سالانہ مجلس شہادت کا آغاز عباس مہدی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ بعد ازاں کاشف نقوی نے عقیدت و احترام کے ساتھ پرسوز سلام پیش کیا۔ اس کے بعد معروف مرثیہ خواں استاد حسن علی نے مرثیہ پڑھا جس نے سامعین کو غم و اندوہ کی فضا میں ڈبو دیا۔ بعد ازاں حجۃ الاسلام عالی جناب مولانا سید عروج الحسن میثم رضوی کرروی، پرنسپل مدرسۃ الواعظین لکھنؤ نے مجلس سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے حضرت امام علی علیہ السلام کی تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہوئے بالخصوص توحید کے مفہوم کو واضح کیا اور عبادت میں اخلاص اور بندگی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے امام علیؑ کی عظیم شخصیت، حکمت، عدل اور اخلاق عالیہ کا ذکر کرتے ہوئے انہیں انسانیت کے لیے مشعل راہ قرار دیا۔ اپنی تقریر کے دوران انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اس روایت کو بھی سراہا کہ یہاں یوم علیؑ اور مجلس شہادت جیسے پروگرام باقاعدگی سے منعقد ہوتے ہیں، جو مختلف طبقات اور مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد کا پیغام دیتے ہیں۔ انہوں نے سر سید احمد خاں کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی بصیرت افروز قیادت نے ایسے ادارے کی بنیاد رکھی جو آج بھی علم، رواداری اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دے رہا ہے۔ مجلس عزا کے اختتام پر محمد اختر نے پرسوز نوحہ خوانی کی۔ مجلس میں پروفیسر مظہر عباس، صدر علی سوسائٹی موجود تھے۔ طلبہ اور کمیٹی کے اراکین نے باہمی تعاون اور محنت سے اس مجلس کو کامیابی کے ساتھ منعقد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔












