نئی دہلی،پریس ریلیز،ہمارا سماج:مجلس العلماءحلقہ دہلی کی جانب سے کمیونٹی ایجوکیشن سینٹر کنچن کنج، مدن پور کھادر، نئی دہلی میں ”اسلامی معاشرہ کی تعمیر میں علمائے کرام کا کردار“ کے عنوان پرایک اجتماع مفتی سہیل احمد قاسمی صدر مجلس العلماءحلقہ دہلی کی صدارت میں مقامی یونٹ کنچن کنج جماعت اسلامی ہند حلقہ دہلی کے زیرانتظام منعقد کیا گیا۔ پروگرام کا آغازمولانا محمدخورشید قاسمی کی تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا۔اس موقع پر مفتی محمد احمداللہ قاسمی معاون صدر مجلس العلماءحلقہ دہلی نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ مسلکی اختلافات سے بالاتر ہوکر ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے متحدہ فکر کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو منظم طور پر انجا م دیاجانا چاہیے، اسی طرح مدارس اور مکاتب کا منظم نظم بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نیز علاقے کے عام برادران وطن سے بھی ہمارا رابطہ ہونا چاہیے۔ انھوں نے مختصراً مجلس العلماءحلقہ دہلی کا تعارف بھی پیش کیا۔اس کے بعد ” اسلامی معاشرے کی تعمیر میں علمائے کرام کا کردار“ کے عنوان پر ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا،جس میں متعدد علمائے کرام و ائمہ مساجد نے اظہار خیال کیا۔ مولانا محمد شہاب الدین امام وخطیب بلال مسجد کنچن کنج نے سورہ عصر کی روشنی میں معاشرے کی تعمیر میں علماء کے کردار اور ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ مولانا محمد راشد قاسمی صاحب مہتمم جامع الابرارالاسلامیہ نے علماءکی ایمانی کیفیت، کردار اور اخلاق کو معاشرے کی تعمیر کا اہم عنصر قرار دیا، انھوں نے یہ بھی فرمایا کہ علماء کو سخت ترین حالات سے مقابلہ کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔ مولانا مطہر حیات ندوی نے فرمایا کہ ہمارا ظاہری وضع قطع سے زیادہ اس کا باطن اسلامی ہونا چاہیے اور ہمارا عمل ہمارے کردار کی گواہی دے، ساتھ ہی اپنی فیملی اورخاندان کی اصلاح کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔ مولانا محمدطارق ندوی صاحب نے اس طرف متوجہ فرمایا کہ ہمارے یہاں دینی اور دنیوی کے نام پر جو علوم کی تقسیم کی گئی ہے وہ بہت خطرناک اور نقصاندہ ہے، دین میں اس طرح کی تقسیم نہیں ملتی۔ ڈاکٹر انیس احمد فلاحی صاحب نے فرمایا کہ علماء قرآن و سنت کی بنیاد پر دین کا صحیح تعارف کراتے ہوئے امت کواس کی منصبی ذمہ داریوں کے لیے تیار کریں،علماء اسلامی اخوت کا نمونہ پیش کریں اور اس کو فروغ دینے کے لیے مستحکم جدوجہد کریں۔ ملت پرجو یاس و قنوطیت کی کیفیت طاری ہے اس کو دور کرتے ہوئے انھیں متحد کیا جائے۔ جہاد بالقلم اور جہاد باللسان کی ذمہ داری بھی ہمیں ادا کرتے رہنا چاہیے۔مفتی سہیل احمد قاسمی صدر مجلس العلماءحلقہ دہلی نے اپنے صدارتی خطاب میں مختلف پہلووں کا احاطہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ علماءانبیاء کے وارث ہیں، وہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر ملت کی اصلاح میں قائدانہ رول ادا کریں۔ ہمارے خطابات میں وحدت امت پر گفتگو ہو اور ہم اس کا عملی نمونہ بھی پیش کریں۔ ہم اپنے مسلک پر رہتے ہوئے دوسرے مسالک کا احترام ملحوظ رکھ کر اقامت دین اور اسلام کے غلبہ کے لیے میدان میں آئیں، جس دور میں بھی قربانی کی ضرورت پڑی ہے علماء نے اپنی جان و تن کا نذرانہ پیش کیا ہے۔انھوں نے بہنوں کی وراثت دینے پر زور دیا اور معاشرے میں رائج بدعات اور مسرفانہ رسومات سے پرہیز کرنے کی طرف توجہ دلائی۔مولانا محمد سالم پتھرالی سکریٹری مجلس العلماء، کنچن کنج کے کلمات تشکر اور قاری عبدالمنان، معاون صدر مجلس العلماءحلقہ دہلی کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر انیس احمد فلاحی نے انجام دیے۔ 30 علمائے کرام و ائمہ مساجد نے شرکت کی۔ شرکاء کو ”جماعت اسلامی ہند کیا چاہتی ہے؟ “ کتابچہ، ”اسلام کا مثالی خاندان “ (دل نشیںاصلاحی مضامین کا مجموعہ) تحفتاً پیش کيے گئے۔












