• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
بدھ, مارچ 25, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

تاریخ ہندکی سربفلک ہستی :مولانا ابو الکلام آزاد ؒ

ڈاکٹر ھمایوں احمد

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 21, 2023
0 0
A A
تاریخ ہندکی سربفلک ہستی :مولانا ابو الکلام آزاد ؒ
Share on FacebookShare on Twitter

عام خیال بیانیہ سے قطع نظر گذشتہ صدی کے حقیقی واقعات کا بغور جائزہ لیاجائے تو برصغیر پاک و ہند میں مولانا ابو الکلام آزاد کے مد مقابل کوئی اور تاریخی ہستی مشکل سے نظر آتی ہے۔ مولانا آزاد ؒ ایک طرف مکمل طور پر مذہبی فکر رکھنے والی علمی شخصیت نظر آتے ہیں تو دوسری جانب انتہائی متحرک اور فعال سیاسی رہنما۔ جفا کش مزاج والی اس نابغہ ہستی کو ہم دونوں اعتبار سے قدرت کا عطاکردہ ایک نایاب نمونہ پاتے ہیں۔ اس عظیم شخصیت کی پوری زندگی جیسی مصروفیت اور جتنی سراسیمگی میں گذری ہے اس پر غور کریں تو انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ دنیا کی قومیں اپنے اپنے مزاج کے لیے پہچانی جاتی ہیں۔ پختہ عزم کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنے والی جاں فشانی کو دیکھیں تو ذہن میں سب سے پہلے افغانی آتا ہے۔ دوسری جانب اسلامی اقدار والے علم و ذہانت اور انسان دوست مزاج کو لیںتو اہل مدینہ سے بڑھ کر اور کون ہوگا۔ اسی تناظر میں مولانا ابو الکلام آزاد کی فطرت کو قدرت کی طرف سے جو کچھ ملاہوگا اس کا کچھ اندازہ ہم لگا سکتے ہیں ۔ ان کے والد کے آباؤ اجداد بابر کے زمانے میں حرات افغانستان سے آگرہ آئے اور پھر دلّی جاکر آباد ہو گئے۔ جب کہ ان کی والدہ مدینہ منوّرہ کے ایک بہت بڑے عالم کی بیٹی تھیں۔
ہر سال گیارہ نومبر اور بائیس فروری کے دن مولانا ابوا لکلام آزادکو دل پذیر انداز میں ان کی خطابت بلاغت و صحافت کے لیے یاد کیاجاتا ہے۔ بڑے انہماک سے لکھے ایک سے ایک دل آرا مضامین قوم کے اندرپائی جانے والی حرارت کااحساس جگاتے ہیں۔ اردو اخبارات کی پُر وقار تحریریں اکثر اوقات کسی نہ کسی نئے نقطے سے قارئین کے علم میں نئی معلومات کااضافہ کرتی ہیں۔ پھر بھی زندگی کے مختلف شعبوں میں محرک مولانا کے تاریخی کارنامے اتنے ہیں کہ ان کی فہرست سازی آسان نہیں۔ عمومی طور پر مولانا آزاد کی علمی لیاقت اور خطابت کی مقنا طیسی کشش کی باتیں خوب ہو تی ہیں۔ عالم دین، مفسر قرآن، سیاسی رہنما ، تحریک آزادی کے مرکزی کردار، اعلیٰ پائے کے مفکر ، صحافت کے غازی، دور اندیشی والی تعلیم کی منصوبہ بندی کے ذریعہ جدید بھارت کے مستقبل ساز، ہندو مسلم اتحاد کے عظیم علمبردار۔ کی حیثیت سے مولانا آزاد کی اعلیٰ ترین خدمات کی باتیں کالموں اور مضامین میں تفصیل سے لکھی جاتی ہیں۔ بیداری اور شعور کو فروغ دینے کی خدمات کے باوجود ایک کانٹے کی بات دل میں خلش پیدا کرتی ہے۔ تحریک آزادی سے جڑے واقعات کا ترجیحی بنیاد پر ترتیب و تناسب کیا ہونا چاہیے، یہ سوال ہر تاریخی دن پر ہم سے جائز توجہ کا مطالبہ کرتا ہے۔ مولانا آزاد کے متعلق یہ امر بہر صورت غور و فکر کا متقاضی ہے۔ قدرت کے تراشے ہوئے اس کثیر الجہت نگینے کے کس رخ پر سب سے پہلے روشنی ڈالی جائے یہ ایک ذہن رسا معاملہ ہے۔ مولانا ابوالکلام آزادکے شایان شان سب سے بڑا خراج عقیدت یہ ہے کہ ہم اس بات کو تسلیم کریں کہ آزادی کے عوض ملک کی تقسیم اور ساتھ میں ہونے والے خون خرابا کا روکا جانا بالکل ممکن تھا۔ وطن کی آزادی سے جڑے چند حقیقی واقعات ایسے ہیں جن کی تشنہ فریاد ہنوز اہل نظر کی نظروں سے محروم ہے۔ اپنی عدیم المثال قائدانہ لیاقت کی بدولت مولانا آزادبطور کانگریس صدر مکمل اتفاق رائے قائم کرکے بلاتقسیم آزادی کو ممکن بناچکے تھے۔ سب کچھ طے پاچکا تھا۔ دنیا بھر میں مولانا کے فارمولے کی تعریفیں ہورہی تھیں۔ اس بڑی کامیابی پر مولانا کے پاس لارڈپیتھک-لارنیس (Lord Pethic-Lawrence)اور سراسٹفرڈ کرپس(Sir Stafford Cripps)کے مبارک باد کے ٹیلی گرام بھی آئے تھے۔ تو پھر اچانک کیا ہوگیا ؟ آخر لب چھوکے پیالہ ہاتھ سے کیسے پھسل گیا۔ یہی ہے وہ اہم ترین اور عظیم ترین سوال جس کی طرف ہمیںپوری ذہنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ کسی بڑے واقعہ کو کس زاویہ سے دیکھاجائے اس بات کا تعین ہمیں خود سے کرنے کا فن سیکھنا ہوگا۔ حقائق تو سامنے ہوتے ہیںمگر ان کے بیانیہ کو وضع کرنا بڑی بصیرت دور اندیشی اور دانائی کاکام ہے۔
انتہائی اہم واقعات کے پیش نظر تحریک آزادی کی تاریخ میں سن ۶۴۹۱ امتیازی حیثیت کا حامل ہے۔ اس عرصہ میں کانگریس کے ذی اثر صدر مولانا ابوا لکلام آزادکی تیز رفتار مصروفیات اور سب پر غالب فعّال کردار کو کبھی فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ مگر حصول آزادی کے بعد کسی خاموش خوف کی بناپر انہیں چرچا سے یکسر غائب کردیاگیا۔ باریکی سے کی گئی سخن سازی ایسی کہ اصل معاملہ کو رفع دفع کردینے کی نفاست بھری سازش پکڑمیں نہیں آتی۔ پہاڑ جیسی جسامت والے واقعات کا منظر عام سے غائب ہوجانا کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے۔ برطانوی انتخاب میں چرچل کی شکست کے بعد لیبر پارٹی کی آمد پر ہی مولانا کی پیش بین نظر کو بدلے ہوئے حالات کا عندیہ مل چکا تھا۔ مولانا کی گہری نگاہ شروع سے لیبر کیبنٹ کا ہندوستان کے تئیں مثبت جذبے کا مطالعہ کررہی تھی۔ لیبر پارٹی کے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ۶۴۔۵۴۹۱ کی سردی میں ایک پارلیمانی وفد ہندوستان روانہ کیاگیا۔ ۷۱فروری ۶۴۹۱ کی شام والی ریڈیو نشریات میں ساڑھے نوبجے مولانا نے برٹش فیصلے کی رپورٹ سنی کہ برطانی سرکار ہندوستان کی آزادی پر بات کرنے کے لیے ایک کیبنٹ مشن ہندوستان روانہ کرے گی۔ اس خبرکے آدھے ہی گھنٹے کے اندر ایسو سی ایٹیڈ پریس (Associated Press)کا ایک نمائندہ اس خبر پر ہندوستان کا رد عمل جاننے کے لیے مولانا کے پاس پہنچ گیا۔ مولانا نے اسے خوش آئند پیش رفت بتلایا۔ اسی اثنا فروری ۶۴۹۱ میں بطور کانگریس صدر مولانا نے عوامی نبض (Public Pulse) کا حال جاننے کے لیے ایک ملک گیر سروے کیا۔ پتہ چلا مکمل آزادی کے حق میں یکسر تبدیل ہو کر اب ایک نیاہندوستان پیدا ہو چکا ہے۔ اسی بیچ۳۲مارچ۶۴۹۱ کو برٹش کیبنٹ مشن ہندوستان پہنچا۔ اپنے ذہن میں مستقبل کا آئین اور آئین ساز مجلس کی تشکیل کا ایک واضح خاکہ لیے مولانا ۲اپریل ۶۴۹۱ کو دہلی تشریف لائے۔ ۶اپریل ۶۴۹۱کو مولانا اور کیبنٹ مشن کے ممبران کے مابین پہلی اہم نشست منعقد ہوئی۔ سوال جواب اور ہر طرح کے جرح سے لبریز لمبے مذاکرات کے بعد بالآخر لارڈ پیتھک۔ لارنس (Lord Pethic-Lawrence) اور سراسٹفرڈ کرپس (Sir Stafford Cripps)نے مولانا کے مطالبات مشوروں اور منصوبوں سے مطمئن ہوکر اپنی رضامندی کااظہار کیا۔ بعد ازاں ۲۱اپریل ۶۴۹۱ کو کانگریس ورکنگ کمیٹی (CWC) کا اجلاس طلب کرکے گاندھی جی سمیت تمام اراکین کو کیبنٹ مشن کے ساتھ ہوئی گفت و شنید اور طے پائے معاملات کا مولانا نے تفصیلی احوال بیان کیا۔ گاندھی نہرو پٹیل جیسے صف اول کے رہنماؤں کی موجودگی میں تمام تفصیلی رپورٹ سنی گئی۔ سی ڈبلیو سی میں طویل بات چیت کے درمیان مولانا نے اپنی مفصل اور مؤ ثر خطابت سے سب کو مطمئن کیا۔ اتفاق رائے قائم ہونے کے بعد اگلے قریب دو ماہ تک کانگریس کے صدر محترم کی سربراہی اور نگرانی میں سبھی متعلقہ فریقوں (Stakeholders) کے درمیان اور بھی تاریخی نوعیت کی میٹنگوں کا سلسلہ چلتا رہا ۔ اسی طرح مسلم لیگ کے خدشات کو بھی دور کرنے کی کوشش کی گئی ، ساتھ میں کانگریس کے ممبران کو اعتماد میں لینے کے بعد جب کیبنٹ مشن کے ممبران بھی مطمئن ہو چکے تو اس پورے پلان کے اقرار ومعاہدہ سے منسلک بیان کو مولانا نے ۵۱اپریل ۶۴۹۱ کو پورے ملک کے سامنے جاری کردیا۔ اس کے بعد۴۲ اپریل ۶۴۹۱ کو مشن نے شملاسے دلّی آکر وائس رائے کو طے پاچکے معاملات کے مفصل رپورٹ سے آگاہ کیا۔ ۷۲اپریل ۶۴۹۱ کو مزید بات چیت کی غرض سے کانگریس اور مسلم لیگ کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اپنے نمائندہ نامزد کریں۔ مولانانے کانگریس کی طرف سے نہرو اور پٹیل کو نامزد کیا اور کچھ ہچکچاہٹ کے بعد گاندھی جی بھی اس میں شامل ہونے پر آمادہ ہوئے۔ ۲مئی ۶۴۹۱ سے ۲۱مئی ۶۴۹۱ تک شملا میں مولانا کی زیر سربراہی دس روزہ مذاکرات کے دوران لمبی بات چیت والی نشستوں کا دور چلتا رہا۔ لوگ مفاہمت کے قریب آتے گئے۔ اس کے بعد ۶۱مئی ۶۴۹۱ کو انگلینڈ میں مسٹر ایٹلی (Mr.Attlee)نے ہاؤس آف کامنس میں کیبنٹ مشن پلان کا وہائٹ پیپر (White Paper) جاری کردیا۔ برطانیہ کی یہ سفید تحریر مولانا کے ۵۱اپریل ۶۴۹۱ والے بیان سے بالکل مطابقت رکھتی تھی۔ دونوں دستاویزات ریکارڈ میں موجود ہیں۔ اسی اثنا جون ۶۴۹۱ میں مسلم لیگ کا ؤنسل کا سہ روزہ اجلاس منعقد ہوا جس کے آخری دن مسٹر جناح کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ مسلمانوں کے خدشات کے ازالہ کی کیبنٹ مشن پلان سے بہتر صورت نہیں ہو سکتی۔ مولانا کی شاندار سیاسی حکمت عملی کا یہ کمال تھا کہ ایک طرف تمام کانگریس آلۂ کار کو اعتماد میں لینے کے بعد مکمل اتفاق رائے قائم ہو چکا تھا تو دوسری طرف مسٹر جناح دباؤ میں آگئے تھے کیوں کہ مشن پلان کو نہ ماننے کی صورت میں مسلم لیگ ممبران کا پارٹی سے انحراف کرکے کانگریس میں شامل ہوجانے کا ڈر تھا۔ ادھر مولانا کے زیر صدارت کانگریس ورکنگ کمیٹی نے اس بات کی تصدیق کردی کہ کیبنٹ مشن پلان اور مولانا کا اسکیم ایک ہی ہے۔ بالآخر ۶۲جون ۶۴۹۱ کا وہ تاریخی دن آیا جب دیر تک چلنے والی طویل اجلاس میں کانگریس ورکنگ کمیٹی نے اپنے قرارداد (Resolution) میں کیبنٹ مشن پلان کو منظوری دے دی۔ یہ ایک شان والا عالی مرتبت واقعہ تھا۔ ملک تقسیم ہونے سے بچ گیا تھا۔ تحریک آزادی کا معاملہ گفت و شنید ، آپسی مفاہمت سے اور بغیر کسی تشدد و تنازعہ کے طے پاگیا تھا۔ فرقہ پرستی کا قضیہ پیچھے چھوٹ گیا تھا۔ پورے ملک میں جشن کا ماحول تھا۔ چاروں طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ پھر ۷جولائی ۶۴۹۱ کو بمبئی میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کااجلاس ہوا۔ سات سال (۹۳۹۱سے ۶۴۹۱ ) تک کانگریس کا صدر رہنے کے بعد مولانا نے صدر کا عہدہ نہرو کو سونپ دیا۔ لمبی بحث و مباحثہ کے بعد مولانا کی تقریر نے سامعین پر فیصلہ کن اثر ڈالا اور سی ڈبلیو سی میں جس کیبنٹ مشن پلان پر مہر لگ چکا تھا اس کو اے آئی سی سی نے بھی بڑی بھاری اکثریت سے منظور کرلیا۔
مگر ۰۱جولائی۶۴۹۱کو بمبئی میں نہرو کے ایک بیان سے سارا کھیل بگڑگیا۔ صدر بننے کے تین ہی دن بعد نہرو نے ایک پریس کانفرنس میں یہ بیان دے دیا کہ انڈین نیشنل کانگریس کیبنٹ مشن پلان کی باتوں کو ماننے کے لیے پابند نہیں ہو گی۔ نہرو جی کا یہ بیان دونوں ایوانوں میں طے پاچکی بات کی روح کے بالکل منافی تھا۔ ان کی یہ بات کانگریس ورکنگ کمیٹی ( CWC) اورآل انڈیا کانگریس کمیٹی (AICC) کے ہاؤس میں پاس کی گئی قرارداد کی سیدھی خلاف ورزی تھی۔ ۰۱جولائی ۶۴۹۱ کے سیاہ دن والے بیان کے بعد صورت حال یک لخت بگڑ گئی اور بگڑتی چلی گئی۔ انجام کار آزادی تو ملی مگر وطن عزیز ٹکڑوں میں بٹ گیا، لاکھوں معصوم جانیں لقمۂ اجل بن گئیں۔ کروڑوں انسانوں کی دنیا ہل گئی۔ یہ بتلانے میں کسی تأ مّل کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ دس جولائی ۶۴۹۱والاپنڈت نہرو کا غایت درجہ خلاف دستور فعل جوہری تاب کاری کی تباہ کاری سے بھی زیادہ مہلک تھا۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    امریکہ ایران مذاکرات پاکستان میں

    امریکہ ایران مذاکرات پاکستان میں

    مارچ 25, 2026
    پاکستان کا کردار بھارت کیلئے سفارتی دھچکا: جے رام رمیش

    پاکستان کا کردار بھارت کیلئے سفارتی دھچکا: جے رام رمیش

    مارچ 25, 2026
    الیکشن کمیشن آف انڈیا نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو  یقینی بنانے کے لیے بین ریاستی کوآرڈی نیشن کوتیز کیا

    الیکشن کمیشن آف انڈیا نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے بین ریاستی کوآرڈی نیشن کوتیز کیا

    مارچ 25, 2026
    مغربی ایشیا کے بحران کے اثرات طویل عرصے تک رہنے  کا خدشہ، ہر صورتحال کے لئے تیار رہنا ہوگا: نریندر مودی

    مغربی ایشیا کے بحران کے اثرات طویل عرصے تک رہنے کا خدشہ، ہر صورتحال کے لئے تیار رہنا ہوگا: نریندر مودی

    مارچ 25, 2026
    امریکہ ایران مذاکرات پاکستان میں

    امریکہ ایران مذاکرات پاکستان میں

    مارچ 25, 2026
    پاکستان کا کردار بھارت کیلئے سفارتی دھچکا: جے رام رمیش

    پاکستان کا کردار بھارت کیلئے سفارتی دھچکا: جے رام رمیش

    مارچ 25, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist