اسلام میں زکاۃ کانظام غربت کے ازالہ کے لیے تھا ۔لیکن برصغیر میں اربوں روپے کی زکاۃ نکلنے کے باوجود مسلمانوں کی غربت میں اضافہ ہورہا ہے ۔اس کی بڑی وجہ زکاۃ کی غلط تقسیم ہے ۔زیادہ تر زکاۃ مدارس کے محصلین لے جاتے ہیں ،کچھ حصہ مذہبی تنظیموں کے اکاؤنٹ میں چلاجاتا ہے ،اس طرح سماج کے دیگر مستحقین محروم رہ جاتے ہیں ۔ملک میں اجتماعی زکاۃ کا کوئی نظم نہیں ہے۔نہ اس کی طرف کوئی پیش قدمی ہے ۔ماضی میں ایک مسلم جماعت نے اس کے لیے کوششیں کی تھیں مگر ناکام ہوگئیں۔اس لیے جوجس طرح چاہتا ہے اپنی زکاۃ خرچ کرتا ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ غربت اوربے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے ، بڑی تعداد میں مسلمان مہاجنی سود کے نرغہ میں ہیں ، ضرورت مند مگر غیرت مند افرادمعاشی مسائل سے نبرد آزما ہیں ،ہاتھ پھیلانے والوں نے بڑے شہروں کی مسلم آبادیوں میں لوگوں کا نکلنا دوبھر کردیا ہے ،وہ جہاں کہیں کھڑے ہوتے ہیں وہیں دو چار بھکاری دائیں بائیں سے آکرچمٹ جاتے ہیں ۔اسلام میں زکاۃ ن اسی طرح فرض ہے جس طرح نماز فرض ہے ،اگر نماز نہ پڑھنے والوں کے لیے نبی اکرم یہ فرماتے ہیں کہ اذان کی آواز سن کر جو لوگ گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں ان کو دیکھ کر میرے جی میں آتا ہے کہ ان کے گھر جلادوں مگر بچوں کا خیال آتا ہے ،یا فقہ اسلامی میں اسلامی حکومت کے لیے بے نمازی کو قید کرنے کا حکم ہے تو وہیںزکاۃ نہ دینے والوں سے قتال کا حکم دیا گیا ہے اور دور صدیقیؓ میں مانعین زکاۃسے عملاً جنگ کی گئی ہے ،اگر نماز کے لیے اجتماعی نظم ضروری قرار دیا گیا ہے اور بغیر جماعت کی نماز کو ناپسند کیا گیا ہے تو اجتماعی نظم زکاۃ کی نہ صرف تلقین کی گئی ہے بلکہ مصار فز کاۃ میں محصلین زکاۃ کا ذکر اس امرپر دلالت کرتا ہے کہزکاۃ کا اجتماعی نظم قائم کیا جانا ضروری ہے ۔لیکن برصغیر میں بعض مدارس کے چندہ خوروں نے اجتماعی نظم زکاۃ کی مخالفت کرکے سارے فوائد کو خاک میں ملادیا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ تمام قسم کے صدقات خواہ وہ صدق الفطر ہوں یا زکاۃ ،قربانی کی کھال ہو یا کسی نذر یا منت کا صدقہ یہاں تک کہ دھان اور گندم کا عشر وغیرہ صرف اور صرف مدرسہ تک سمٹ کر رہ گئے ہیں ۔پورے سال مدارس کے مندوبینزکاۃ و صدقات اکٹھا کرنے کے لیے سفر پر رہتے ہیں ۔محلہ کے غریب ،بیمار،بن بیاہی بیٹیاں ،جیلوں میں قید بے گناہ ،یتیم اور بیوائیںیا تو فاقہ کشی پر مجبور ہیں یا مہاجن سے قرض لینا اور بازاروں میں بھیک مانگنا ان کا مقدر ہے۔
تعجب کی بات ہے کہ ہمارے علماءکرامزکاۃ کے مصارف تک بیان نہیں کرتے ۔کسی بھی مسجد میں چلے جائیے وہاں دن رات تعلیم کے نام پر ایمان بنانے اور نماز پڑھنے کی بات ہوتی ہے ،ہونی بھی چاہئے ، لیکن ایمان اور نماز کے ساتھ زکؤ بھی دین کا اہم ستون ہے ، زکاۃ پر بھی ہفتہ یا مہینے میں کسی دن گفتگو ہونا چاہئے ،بزرگان دین کے نام پربڑی بڑی کانفرنسیں،ملی اتحاد کے عنوان پراجلاس عام ،سیرت کے جلسے ،ختم بخاری کی تقریبات،جشن دستار بندی ،اصلاح معاشرہ کے اجتماعات وغیرہ سب کچھ ہوں گے لیکن زکاۃ کی جمع و تقسیم ،اس کے مصارف کی مدات ،اجتماعی نظم زکاۃ کی ضرورت و اہمیت پر شاذ و نادر ہی کوئی آواز سنائی دے گی ۔اگر رمضان کے موقع پر کسی امام مسجد نے زکؤ پر زبان کھولی بھی تواس کا موضوع مدارس کی اہمیت اور اس کی مالی مدد ہی رہتا ہے۔میں مدارس میں زکاۃ دینے کا مخالف نہیں ہوں ،ظاہر ہے مدارس بھی دین و ملت کی ایک بڑی ضرورت پوری کررہے ہیں ،وہاں نادار طلبہ کی کفالت ہوتی ہے ،مدارس سے ہمیں امام اور موذن حاصل ہوتے ہیں ،ملت کی معتد بہ تعداد وہاں زیر تعلیم ہے ۔لیکن ساری زکاۃ مدارس ہی کو دے دی جائے اور معاشرے کے دیگر مستحقین در در کی ٹھوکریں کھائیں یہ کسی طرح مناسب نہیں ۔اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ مدارس میں جتنی بڑی رقم زکاۃ کی لگائی جارہی ہے کیا وہ درست ہے ؟کیا مدارس میں زیر تعلیم سارے بچے زکاۃ کے مستحق ہیں ؟کیا والدین پر تعلیم کے مصارف ادا کرنا اسی طرح ضروری نہیں جس طرح وہ اپنے بچے کے دیگر مصارف ادا کرررہے ہیں ؟مسلم سماج میں چلنے والے پرائیویٹ تعلیمی ادارے بغیرزکاۃ کے کس طرح چل رہے ہیں ؟دوسری قومیں اپنی تعلیم کا نظم کس طرح کررہی ہیں ؟جس قدر وسائل مدارس پر لگ رہے ہیں کیا اسی قدر وہاں سے رذلٹ آرہے ہیں ؟یہ وہ سوالات ہیں جن پر غور کیا جانا چاہئے ۔
چھوٹے چھوٹے گاؤں میں مدارس قائم کرلیے گئے ہیں ،مسلک اور برادری کے نام پر بھی مدارس بنائے گئے ہیں ۔باہر کے دوچار بچے رکھ کر دنیا بھر میں چندہ کیا جارہا ہے ۔انھیں ان کے بڑوں کی سرپرستی حاصل ہے ۔ایک بڑا مسئلہ فرضی مدارس کا بھی ہے ۔رمضان المبارک میں ایک بڑی تعداد ان چندہ خوروں کی ہوتی ہے جن کا کوئی مدرسہ نہیں ہوتا ۔فرضی مدارس کی رسیدیں چھپواکر دنیا بھر میں چندہ کرتے ہیں ۔اس صورت حال میںمیری رائے ہے کہ مقامی مدارس کی ہی مدد کی جائے یا ان مدارس کی جن کے بارے میں درست معلومات ہوں ،یا وہ عالمی شہرت یافتہ ہوں ،مثال کے طور پر دارالعلوم دیوبند،ندوة العلماء،جامعہ اشرفیہ اور دارالسلفیہ جیسے ادارے ہماری توجہ کے مستحق ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔
زکاۃ اسلام کا اہم رکن ہے ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم جانے انجانے میں اس رکن کی ادائیگی میں شریعت اور سنت کے خلاف عمل کررہے ہوں ۔ہمیں زکاۃ کے بارے میں اللہ کے رسول کا یہ حکم کیوں نہیں یاد رہتا کہ” زکاۃ جس بستی سے لی جائے وہیں خرچ کی جائے “۔واعظین و مدرسین اس حدیث کو کیوں فراموش کردیتے ہیں جس میں رسول اکرم ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل کو جب یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو نصیحت کرتے ہوئے فرمایاتھا ”اے معاذ ! انھیں بتا ناکہ اللہ عز وجل نے ان پر زکاؤ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں پر خرچ کی جائے گی ۔“(بخاری حدیث1395)
برصغیر میں اسلام کے دیگر احکام کی طرح زکاؤ بھی ہماری خواہشوں کی بھینٹ چڑھ گئی ہے اور جس مد کا ذکر قرآن و حدیث میں کہیں نہیں ہے اس مد میں نوے فیصد زکاؤ خرچ کی جانے لگی ہے۔ حصول علم کی مد قرآن و حدیث میں بیان نہیں کی گئی ہے ،نہ مکتب و مدرسہ کا ذکر ہے ،البتہ فقراءو مساکین کا ذکر ہے ،اب یا تو آپ طلبہ کو غریب و مسکین مان کر انھیں مستحقین زکاؤ مانیں گے یا فی سبیل اللہ کی مد کو تعلیم کی مد تسلیم کریں گے تبھی مدارس و مکاتب میں زکاؤ خرچ کریں گے ۔جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ مدارس پر زکاۃ خرچ کی جاسکتی ہے لیکن ساری زکاۃ وہیں خرچ کی جائے یہ مناسب نہیں ہے۔
مدارس اورزکاۃ اس طرح لازم اور ملزوم ہوگئے ہیںکہ عام مسلمانوں کو دیگر مدات زکاۃ کا علم تک نہیں ہے ،اکثر مسلمان یہی سمجھتے ہیں کہزکاۃ صرف مدرسہ میں ہی دی جاسکتی ہے ۔میری رائے ہے کہ اس مسئلہ پر اہل علم و دانش سنجیدگی سے غور کریں ،علماءخدا سے ڈریں ،وہ مسبب الاسباب ہے ،اپنے ذرا سے دنیوی فائدے کے لیے اللہ کے احکامات کو نہ چھپائیں ،نہ غلط تعبیر و تشریح کریں ،والدین اپنے بچوں کی دیگر ضروریات کی طرح تعلیم پر بھی خرچ کریں ،مساجد میں بنیادی دینی تعلیم کا نظم کیا جائے تاکہ طلبہ کو دوردرا ز کے مدارس میں نہ جانا پڑے،غریب طلبہ کی تعلیم کا نظم اسی بستی کے مالدار لوگ کریں ،مدارس اپنے یہاں فیس کا نظام قائم کریں اور صرف مستحق زکاۃ طلبہ پر ہی زکاۃ خرچ کریں ،تملیک کا حیلہ استعمال کرکے خدا کو بے وقوف بنانے کی جسارت نہ فرمائیں ،اللہ اور رسول کے نام پر حاصل کی گئی رقومات سے ذاتی نام پر جائدادیں نہ بنائیں ،مدارس کی کمیٹیوں میں اعزاءو احباب کے بجائے بستی کے تعلیم یافتہ نمائندہ افراد رکھے جائیں،مدرسہ کے اساتذہ و صدر مدرسین حضرات کو کمیٹیوں میں نہیں رہنا چاہئے۔ محصلین زکاۃ کو کمیشن کے بجائے محنتانہ دیں ،برادری ،قبیلہ اور مسلکوں کے نام پر الگ الگ مدارس کے بجائے ایک ہی مدرسہ قائم کیجیے ،مسلم پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ناظرہ و دینیات اور مدارس میں پرائمری درجات تک عصری مضامین کی تعلیم کا نظم قائم کیا جائے اس طرح مدارس پر سے بار کم ہوجائے گا اور ملت کی پرائمری تعلیم کا نظم ہوجائے گا۔
مدارس کو خودکفیل بنانے کے لیے منصوبہ بندی کی جانی چاہئے۔ ملک کے حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں چندہ وغیرہ پر حکومت سختی کرسکتی ہے ۔اس کے لیے ایک طرف فیس کا نظام بنایا جائے ،دوسری طرف اس طرح کا نظم بنایا جائے کہ زیادہ سے زیادہ طلبہ اپنے مقام پر یا اپنے ضلع میں ہی رہ کر تعلیم حاصل کرلےں ،بدرجہ مجبوری ہی انھیں بیرون ریاست تعلیم کے لیے جانا پڑے ۔مدارس کے لیے کچھ زمینیں وقف کردی جائیں جس سے ان کا خرچ چلتا رہے اور عمومی چندہ کی ضرورت نہ پڑے ۔اگر مدارس خود کفیل ہوجائیں ،یا زکاۃ اپنے مصارف میں ترجیح وار خرچ کی جانے لگے تو مسلم معاشرہ کی غربت پانچ سے دس سال میں ختم ہوجائے گی ۔میری تجویز ہے کہ ہر مسجد کے اہل حل و عقد افراد اپنے حلقہ کا جائزہ لے کر زکاۃ دینے والے اور زکاۃ لینے والوں کی فہرست بنائیں اور ضرورت کے مطابق خرچ کریں تو ان شاءاللہ معاشرے میں سب لوگ خوش حال ہوجائیں گے ۔اللہ تعالیٰ نے سماج میں لینے والوں سے زیادہ دینے والے پیدا کیے ہیں ،لیکن جب پانی کسی گہرے گڑھے میں مرر ہا ہو تو موسلادھار بارش بھی کیا کرسکتی ہے۔












