ایک ایسے دور میں جب صحافت کا پیشہ طوائف کے پیشے جیسا ہو جائے۔اور سکے کی کھنک پر وہ رقص کرنا ہی اپنا فرض سمجھنے لگے۔ایک ایسے وقت میں جب صحافیوں کی تعداد میں تو اضافہ ہو گیا ہو لیکن وہ سب کے سب حق و ناحق کے درمیان کے فرق کو پہچاننے سے قاصر ہوں۔ایک ایسے وقت میں جب اردو زبان کو ہی سرکاری طور پر غیر ملکی زبان قرار دے دیا گیا ہو،اور اس زبان کی صحافت کر کے کوئی نیک نام ہونا چاہے تو اسے کوئی حادثہ نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ ایک جان بوجھ کر اختیار کی گئی راہ ہے جس پر میں چل رہا ہوں اور مجھے کوئی افسوس ہے نہ شرمندگی۔کیونکہ میں اپنے ضمیر کو یہ کہہ کر مطمئن کر چکا ہوں کہ میں اکنا کام مسلسل کر رہا ہوں اور اپنی بساط بھر کرتے رہنے کے ارادے میں کبھی کوئی لرزش نہیں پیدا ہونے دی ہے۔مجھے معلاوم ہے کہ جو میں لکھتا ہوں وہ نادر نہیں ،ہر دور کے حریت پسندوں نے وہ سب کچھ کہا بھی ہے اور لکھا بھی ہے۔حق کو حق کہنا اور باطل کو باطل کہنا تو شعائر اسلام کا وہ نکتہ ہے جس سے انحراف انسان کو انسانی درجہ سے بہت نیچے پہنچا دیتا ہے۔مجھے اس پیشہ کو اختیار کرتے وقت بھی اس کا اندازہ تھا کہ میری راہ آسان نہیں اور اللہ کا شکر ہے کہ میری آگہی نے مجھے شرمندہ نہ ہونے دیا۔اور آج بھی مجھے احساس ہے کہ میں اپنی راہ کا تنہا مسافر ہوں۔ملک و ملت میرے سامنے کبھی الگ نہیں رہے میں جب بھی ملت کی بات کرتا ہوں تو میرے سامنے ملک کی ایک ایسی آبادی ہوتی ہے جو ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہے۔اور جس کے ذمہ اللہ نے یہ خدمت سونپی ہے کہ وہ ملک کی آبادی میں موجود تمام مظلوم آبادی کی وکالت کرے۔سیاسی پارٹیوں نے ہماری اس خدمت کو اس لئے قابل اعتنا نہیں سمجھا کہ وہ مظلوموں اور محکوموں کے نام پر اپنی سیاست کرتے ہیں اور ان کی حالت کو تبدیل کرنے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کرتے۔انکے سامنے ریزرویشن کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے جسے وہ ان کے آگے پھینک کر ان سے ووٹ حاصل کرتے رہتے ہیں۔لیکن ہم جانتے ہیں کہ ریزرویشن کے نام کا یہ لقمہ ملک کی مجموعی آبادی کی ترقی کی راہ کو کتنا مشکل بنا دیتی ہے۔خود ان دلتوں کے لئے بھی یہ ریزرویشن کا لقمہ ان کے شکم میں جاتے ہی ان کے پیروں کے لئے بھاری زنجیر بن جاتاہے جس کی موجودگی میں وہ اپنے یا اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے آزادانہ فیصلہ نہیں کر سکتے ،معاشرے کا کم از کم ایک طبقہ ایسا ہمیشہ رہتا ہے جو ریزرو طبقہ سے نفرت کی حد تک مغائرت برتتا ہے۔میری صحافت دعوت ہے اور دعوت کسی بھی تحریک کی پہلی منزل ہے۔ایک ایسی تحریک جس میں ملت کا ہر وہ شخص شامل ہو جس کو اللہ اور اس کے بھیجے ہوئے قرآن پر کو شک نہ ہو۔جسے معلوم ہو کہ اس دنیا میں صرف دو طبقہ ہیں۔ایک چھوٹا سا طبقہ ظالموں کا ہے اور بہت بڑا طبقہ مظلوموں کا۔اور وہ یہ بھی جانتا یو کہ ہر دور میں مٹھی بھر ظالم طبقہ مظلوموں کے بڑے طبقہ کو منتشر کر کے ان کا استحصال کرتے رہے ہیں۔اور یہ بھی ایک سچائی ہے کہ ہر دور میں اس غیر منظم طبقہ کے چند افرادنے ہی ظالم حکمرانوں کے خلاف اعلان بغاوت بھی بلند کیا ہے اور اس جرم میں مصلوب بھی کئے گئے ہیں۔لیکن ان مصلوب کئے جانے والوں کے نقش قدم اتنے روشن ہیں کہ ہر دور کے جابروں کے خلاف چند حریت پسند اپنے مصلوب کئے جانے والے اکابرین کی طرز پر ،ان کے نقش قدم کو میل کا پتھر سمجھ کر آگے بڑھنے کو اپنا فرض سمجھتے رہے ہیں۔میں خود بھی اور میرے جیسے چند اور لوگ اسی مظلوم طبقہ کی آواز میں آواز ملا رہے ہیں۔ان کو معلوم ہے کہ ان کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہو رہی ہے۔وسائل کی کمی ہے ،لیکن مایوسی ان کی سرشت میں شامل نہیں۔یہ جانتے ہیں کہ اس کے پہلے بھی لوگوں کو اس طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میرا ایمان اپنے اکابرین کی طرح اتنا پختہ نہیں کہ مسکراتے ہوئے تختہ دار پر کھڑا ہو جاؤ ں لیکن میرے کمزور ایمان میں اتنی حلاوت ضرور ہے کہ ظالم کو ظالم کہنے سے باز نہیں آسکتا۔کیونکہ میں نہیں جانتا کہ ظلم کرنے والے کو ظالم کے علاوہ کس نام سے مخاطب کیا جائے۔مجھے معلوم ہے کہ حق کو پس پشت ڈال کر صفحات در صفحات سیاہ تو کئے جا سکتے ہیں بنی نوع انسان کے سیاہ مستقبل کو روشن نہیں کیا جا سکتا۔صحافی اگر نوشتہ دیوار نہ پڑھ سکے تو اسے صحافت کے علاوہ کسی اور پیشہ سے اپنا رشتہ استوار کرنا چاہئے۔مجھے نوشتہ دیوار پڑھنا آتا ہے اور میں ایک طویل عرصہ سے اپنی تحریروں میں اس کی طرف اشارے کر رہا ہوں۔ہمارے ملک کی اقلیت کو صید کرنے کی سازش نئی نہیں ہے۔آئین ہند پر حملہ صرف اس لئے ہے کہ اس میں درج مظلوموں کے حقوق فنا کر دئے جائیں۔ان مظلوموں میں صرف مسلمان نہیں ہیں لیکن وہ جانتے ہیں کہ یہی وہ طبقہ ہے جو تمام مظلوموں کی وکالت کر سکتا ہے۔آج مذہب کے نام پر مسلمانوں کو ملک کے دیگر شہریوں سے الگ تھلگ کرنے کی سازش بھی اقتدار میں بیٹھے مٹھی بھر لوگ صرف اس لئے کر رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں سے خوفزدہ ہیں۔انہیں معلوم ہے کہ ان کی ہر سازش کو ملک کے مسلمان سمجھ رہے ہیں۔وہ انہیں ورغلا بھی نہیں سکتے۔اس لئے ان پر ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور ملک کے نا عاقبت اندیش مٹھی بھر ہموطن ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔لیکن یہ سب کب تک ؟بیداری تو آنی ہے اور آ رہی ہے۔ملک کے عام لوگ بھی اب دھیرے دھیرے اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی سازش کو سمجھنے لگے ہیں۔حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں بھی اپنے آپسی اختلافات کو بھلا کر متحد ہونے لگی ہیں۔وہ دن دور نہیں جب ان مغرور حکمرانوں کا زور ٹوٹیگا اور ملک ایک بار پھر امن و امان کی را پر چل پڑیگا۔لیکن اس کے پہلے ہمیں اپنے حصے کے چراغ کو روشن رکھنا ہوگا۔












