تہران:ایرانی ٹیلی ویژن نے جمعرات کو رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک تحریری بیان نشر کیا ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے حقوق پر سمجھوتہ بھی نہیں کرے گا۔ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ایران رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور دیگر کمانڈروں کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے پرعزم ہے۔مجتبیٰ خامنہ ای، جو 28 فروری کو اپنے والد کی ہلاکت کے بعد سے عوامی منظر نامے پر نظر نہیں آئے، نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کا انتظام اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کا کہا ہے۔ اس سے ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہونے کے بین الاقوامی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ عارضی اور نازک فائر بندی کا آج دوسرا دن ہے۔پاسدارانِ انقلاب نے جمعرات کو اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کے معمول کے راستے میں کچھ بارودی سرنگیں موجود ہیں اور بحری جہازوں کے لیے دو متبادل راستوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایک فوجی بیان میں بحری نقشے کے ساتھ جزیرہ لارک کے شمال اور جنوب میں دو راستوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تبدیلی بارودی سرنگوں سے ممکنہ ٹکراؤ کے بچاؤ کے لیے کی گئی ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے کی ایرانی ضد جنگ کے دوبارہ آغاز کا سبب بن سکتی ہے۔ وال سٹریٹ جنرل کے مطابق حکام نے ایران میں دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔یہ صورتحال تب پیدا ہوئی جب ایرانی فریق نے ثالثوں کو مطلع کیا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد روزانہ تقریباً 12 تک محدود کر دے گا اور فائر بندی کے معاہدے کے تحت ٹرانزٹ فیس وصول کرے گا۔ عرب ثالثوں نے واضح کیا ہے کہ گزرنے والے جہازوں کو پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ہم آہنگی کرنا ہوگی جو ایک طاقتور نیم فوجی فورس ہے اور جسے امریکہ اور یورپی یونین دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔
اسی دوران ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بدھ کو صرف چار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ جنگ سے پہلے روزانہ 100 سے زائد جہازوں کے مقابلے میں اپریل کی اب تک کی کم ترین تعداد ہے۔ ثالثوں اور شپنگ بروکرز نے انکشاف کیا ہے کہ ایران بحری جہازوں کو فیس کے انتظامات پر پہلے سے اتفاق کرنے اور پھر ادائیگی کرپٹو کرنسی یا چینی یوآن میں کرنے کا پابند بنا رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج پہلے اس بات پر زور دیا کہ تمام امریکی بحری جہاز، طیارے اور فوجی ایران کے گرد اپنی پوزیشنوں پر موجود رہیں گے جب تک کہ تہران طے پانے والے حقیقی معاہدے کی مکمل پاسداری نہیں کرتا۔ انہوں نے اپنے پلیٹ فارم ’’ ٹروتھ سوشل ‘‘ پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ اس بات پر کافی عرصہ پہلے اتفاق ہو چکا ہے اور تمام جھوٹے بیانات کے باوجود یہ طے ہے کہ کوئی ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے۔ آبنائے ہرمز کھلی اور محفوظ رہے گی۔توقع ہے کہ امریکی اور ایرانی فریقین کے درمیان کل ہفتہ کو اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے جو پاکستانی وزیراعظم کی جانب سے دو ہفتوں کی عارضی فائر بندی کے اعلان کے بعد ہو رہے ہیں تاکہ کسی ایسے معاہدے پر بحث کی جا سکے جو جنگ کے مستقل خاتمے کا باعث بن سکے۔ پاکستانی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات سخت حفاظتی انتظامات کے تحت ایک فوجی مقام پر منعقد ہوں گے۔ نیوز ایجنسی اناطولیہ کے مطابق مذاکرات کی سکیورٹی کی ذمہ داری پاکستانی فوج سنبھالے گی۔












