• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
منگل, مارچ 24, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

منی پور:انسانیت برہنہ،کرسیاں خاموش!

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جولائی 21, 2023
0 0
A A
منی پور:انسانیت برہنہ،کرسیاں خاموش!
Share on FacebookShare on Twitter

دستور ہند بنانے والوں نے اس ملک میں عورت کی عزت و وقار اور اسکی حیثیت کوبہتر بنانے کی ذمہ داری لی تھی،اور تسلیم کیا تھا کہ ملک کے ضروری اور اہم کاموں میں سے عورت کی بھلائی اور اسکا استحکام بھی اشد ضروری ہے مگر دنیا جانتی ہے ان سب کے باوجود عورت ہمیشہ ظلم وجبر اور عزت و احترام کے نچلے درجے پر ہی سمجھی گئی، اسے بارہا ایسے ایسے جرم کا شکار بنایا گیا ہے جس میں اسکی مداخلت کبھی تھی ہی نہیں۔ عورت قربانی کا نام ہے جس نے ہمیشہ سے اپنے حصے کا سکھ لٹایا ہے،اپنا چین وسکون اور قرار بھی تقسیم کیا ہے ،اپنی بھوک پیاس تک اپنوں کی بھلائی کے لیے چہرے پر کسی طرح کی شکن لائے بغیر دوسروں پر نچھاور کیا ہے۔مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ اس نے دوسروں کے کیے ہوئے جرموں کی سزا بھی پائی ہے،مختلف قربانیوں اور خلوص کے باجود بھی اسی عورت کو تمام معاملات میں گھسیٹ کر ذلیل ورسوا بھی کیا جاتا ہے۔کبھی رسم ورواج کے نام پر بے قصور ہی چِتاؤں پہ رکھ کر زندہ جلایا گیا،کبھی جہیز کے لیے پھانسی یا نذر آتش،کبھی گھریلو معاملات میں ادنی سی بات پہ تسلسل کے ساتھ زدوکوب ،کبھی اسکے اکیلے پن اور معصومیت کا فائدہ اٹھا کر بازاروں اور کوٹھوں پہ بیٹھا دیا جاتا ہے توکبھی کسی مقام پر اسکی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اسکی عزت نوچ لی جاتی ہے اور کھلونوں کی طرح بے جان چیز سمجھ کر اسے توڑ دیا جاتا ہے۔صدیوں سے ہم عورت کی یہی تصویر اور روداد دیکھتے،سنتے اور پڑھتے آرہے ہیں۔ایک طرف اسی عورت کے حقوق ومعاملات کے لیے ہم چیخ چیخ کر بھاشن دیتے ہیں، اس کے درجے اور حیثیت کو بہتر بنانے کے لیے نیشنل کمیٹیاں بناتے ہیں،اسکی خوشحال زندگی کے لیے لمبی چوڑی باتیں اور تقریری کرتے ہیں،مگر پھر بھی اس کی ذلت و رسوائی کا سامان بھی مہیا کرتے ہیں اور درندگی کے واقعات پر تماشائی بن کر خاموشی سے سب کچھ دیکھتے ہیں،ایسے میں ہمارے دعوے کی حیثیت کیا ہوگی ہم خود ہی سوچیں۔
منی پور علاقائی تنازعہ کئی مہینوں سے سرگرم ہے حکومت کی نااہلی کہیے کہ اب تک معاملہ سرد ہونے بجائے مزید مشکلات کا سلسلہ جاری ہے۔ آپسی تناو اس قدر زور پکڑ چکا ہے کہ انسان حیوان بن کر کھلے عام سڑکوں پر دندناتے پھر رہے ہیں۔ قتل وخون اور آتش زنی کے بعد اب عورتوں کی عزت تک داو پر ہے کیونکہ جب جھگڑے سے بات نہیں بنی تو عورتوں کو اس میں گھسیٹ لیا گیا عورت تو ہمارے سماج میں توڑی اور مسلی جانے والے چیز تصور کی جاتی ہے۔شاید اسی لیے 4 مئی کو تھوبل میں کوکی زومی برادری کی خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا،سیکڑوں کی بھیڑ نے درندگی کی حدوں کو پار کرتے ہوئے انسانیت کو شرمسار کردیا 20 اور 40 سالہ دو عورتوں کو برہنہ کرکے انکے جسموں کو جگہ جگہ نوچا گیا،انہیں ایسی ایسی سزائیں دی جسے بیان کرتے ہوئے لفظوں کا انتخاب مشکل ہے۔اپنے وحشیانہ کردار کو کیمرے میں قید کرکے اسکی ویڈیو بنائی،باقاعدہ جلوس نکال کر انہیں راستوں پر برہنہ ڈوڑایا گیا،درندوں کا ایسا کرتے ہوئے کیا ایک بار بھی یہ خیال نہیں آیا ہوگا کہ ان کے گھر میں بھی 40 سالہ ایک ماں اور 20 سالہ بہن بھی ہے جو اس مقام پہ ہوتی تو انکا حشر کیا ہوتا۔18مئی کو اس معاملے میں مقدمہ درج کرایا جاتا ہے اور اب تک مظلوموں کو لاش اور ناامیدی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آیا۔
اگر ویڈیو کے ذریعہ خبر باہر نہ آئی ہوتی تو شاید ملک کو ظلم وتشدد کی اس داستان کا علم بھی نہ ہوتا،کیونکہ گودی میڈیا کو سیما کی جانچ پڑتال سے ابھی فرصت ہی نہیں،اب جب تک سیما کو کیفر کردار تک نہیں پہونچا دیا جاتا،میڈیا کو نہ ملک کی مہنگائی نظر آئے گی نہ ظلم وبربریت سے چیختی اور فریاد کرتی ہوئی کوئی صدا سنائی دے گی کیونکہ انہیں حکم کی تعمیل کرنی ہے۔یہاں ایک عورت کی عزت کتنی سستی اور بے وقعت مانی جاتی ہے اس کا اندازہ لگا پانا مشکل ہے،منی پور میں عورتوں کو برہنہ کرکے انکے ساتھ زیادتی کا یہ واقعہ دراصل ملک کی عزت اور قوانین کی دھجیاں اڑانا ہے،جب جب اس ملک میں کسی عورت کے ساتھ ایسا پرتشدد کھیل کھیلا گیا تو ان عورتوں کے ساتھ پوری انسانیت اور ملک کو برہنہ کیا گیا،ملک کی قسمت میں مزید ایسا وقت لکھا تھا۔آخر ان سب کا ذمہ دار کون ہے؟اس طرح کے کئی سوالات ذہنوں میں گردش کر رہے ہیں۔
میتی اور کوکی برادریوں میں سے اس پُرتشدد واقعات میں اب تک 142 افراد مارے گئے ہیں جبکہ قریب 60 ہزار شہری بے گھر ہوگئے ہیں۔ریاستی حکومت کے مطابق ان پُرتشدد حالات میں آتشزنی کے 5000 واقعات ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں منی پور کی حکومت نے بتایا کہ پُرتشدد واقعات پر 5995 مقدمات درج کیے گئے ہیں اور 6745 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
متاثرین کے مطابق 3 مئی کو تھوبل میں ان کے گاؤں میں جدید ہتھیاروں سے لیس 800 سے 1000 افراد نے حملہ کیا،گولیاں برسائی اور خوب لوٹ مار کی۔ان حالات میں ایک نوجوان اور دو معمر خواتین اپنے والد اور بھائی کے ہمراہ جنگل کی طرف بھاگے۔شکایت ملنے پر پولیس نے انھیں بچا لیا۔ جب پولیس انھیں اپنی حفاظت میں تھانے لے جا رہی تھی تو تھانے سے دو کلو میٹر دور ہی حملہ آوروں نے ان خواتین کو پولیس کے ہاتھوں اغوا کیا اور کپڑے اتارنے پر مجبور کیا، نوجوان خاتون کے والد کو موقع پر قتل کر دیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق درندوں نے تین خواتین کو مظاہرین کے سامنے بغیر کپڑوں کے چلنے پر مجبور کیا جبکہ نوجوان خاتون کو ہجوم کے سامنے گینگ ریپ کیا گیا۔ ان کے بھائی نے انہیں بھیڑ سے بچانے کی کوشش کی مگر اسے بھی قتل کر دیا گیا۔
ظلم کی انتہا یہ ہے کہ سکیڑوں کے بیچ دو عورتوں کو برہنہ کرنے کرکے گھمانا۔کیا اس بھیڑ میں کسی کے جذبات بیدار نہیں ہوئے؟بالکل بھی نہیں وہ اس لیے کہ وہاں تو انسان کوئی تھا ہی بلکہ سب کے سب انسانوں کی شکل میں حیوان اور درندے تھے جو انسانیت اور عزت کی دھجیاں اڑانے کے لیے سماج اور معاشرے میں اسی دن کے پلتے ہیں۔
منی پور کا یہ معاملہ ہمارے ملک کے لیے بدنما داغ ہے جس کے پیش نظر انصاف پسند اور صلح کل کی سوچ رکھنے والی جماعت کے ذہنوں میں یہ سوال ضرور پیدا ہو رہا گا کہ ملک کی کرسیاں خاموش کیوں ہیں؟ہمارے ملک کی سرکار کیا کر رہی ہے؟منی پور کی حکومت 77 دن گزرنے کے بعد بھی خالی ہاتھ کیوں کھڑی ہے؟ سمرتی ایرانی جو عورتوں اور بچوں کی ذمہ دار ہیں انہوں نے اب تک کیا کیا؟جو اپوزیشن میں ہونے پر منہگائی کے خلاف محاذ بناکر سڑکوں پر بیٹھ جایا کرتی تھیں وہ اتنے بڑے وحشی کارنامے پر خاموش کیوں بیٹھی ہیں اس لیے کہ منی پور میں خود انہیں لوگوں کی حکومت ہے؟
اتنے دنوں میں کاروائی کے نام پر خانہ پوری اور اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے صرف ایک شخص کو گرفتار کیا جاتا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان معاملات کے پیچھے ذمہ دار کون ہے؟
اب ذرا تصور کریں کہ جس ملک میں ناری کے سمّان اور اسے پوجنے کی بات کی جاتی ہو،بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہوں وہاں اس طرح کا معاملہ کس قدر افسوسناک ہے،دنیا کے سامنے انسانیت کو برہنہ کر دیا جاتا ہے پھر بھی حکومت کی اتنی گہری خاموشی ہمیں بہت دور تک سوچنے پر مجبور کرتی ہے،اس ظلم کی روداد کو گزرے لمبے عرصہ کے بعد بھی سارے مجرمین کہاں ہیں؟ آخر بار بار عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والی یہ حکومت مجرموں کو اب تک آزاد چھوڑ کر کیا کر رہی ہے؟جنہیں اب تک کیفر کردار تک پہونچ جانا چاہیے تھا وہ اب بھی کھلی فضاؤں میں سانس کیوں لے رہے ہیں کیا حکومت انہیں پکڑ کر انجام تک پہونچانے میں ناکام ہے؟طاقت ور پولس فورس،بڑی بڑی گتھیوں کو سلجھانے والی ایجینسیوں کے ہوتے ہوئے حکومت کی چپّی بتا رہی ہے کہ اقتدار والے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔
ایک طرف ملک کی میڈیا جسے بہت پہلے اس بات کو ہائی لائٹ کرنے کی سخت ضرورت تھی اور مظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے سب سے پہلے آگے آکر بات کرنی چاہیے تھی مگر دو مہینے سے زائد کا یہ معاملہ ابھی تک میڈیا میں زیر بحث ہی نہیں کیونکہ اسے تو سیما میں دلچسپی ہے،ہماری حکومت نے ٹوئٹر سمیت سوشل میڈیا سے منی پور کی ویڈیو کو حذف کرنے کا حکم جاری کیا ہے لیکن کیا اس ویڈیو کو حذف کرنے سے پوری دنیا میں شرم سے جھکی ہوئی انسانیت اور ذہنوں سے اس درد و کرب کی کیفیت کو حذف کیا جا سکتا ہے؟پورے ملک کی برہنگی کو مزمت اور افسوس جیسے جملے کی چادروں سے ڈھانپا جا سکتا ہے؟

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    بہار میں صوفیائے کرام اور حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری فردوسی

    بہار میں صوفیائے کرام اور حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری فردوسی

    مارچ 24, 2026
    بلیک میلر اصول اور روٹی کا نوالہ

    بلیک میلر اصول اور روٹی کا نوالہ

    مارچ 24, 2026
    ترقی یافتہ بھارت کیلئے آمدنی بڑھانے کی ضرورت

    ترقی یافتہ بھارت کیلئے آمدنی بڑھانے کی ضرورت

    مارچ 24, 2026
    بحران کا شکار ہاؤسنگ پروجیکٹس کو شرائط  پوری ہونے پر ہی مدد ملے گی: سیتارمن

    بحران کا شکار ہاؤسنگ پروجیکٹس کو شرائط پوری ہونے پر ہی مدد ملے گی: سیتارمن

    مارچ 24, 2026
    بہار میں صوفیائے کرام اور حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری فردوسی

    بہار میں صوفیائے کرام اور حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری فردوسی

    مارچ 24, 2026
    بلیک میلر اصول اور روٹی کا نوالہ

    بلیک میلر اصول اور روٹی کا نوالہ

    مارچ 24, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist