منی پور رفتہ رفتہ سلگ رہا ہے اور یہ اچھا اشارہ نہیں ہے خاص طور پر اس لئے بھی کہ یہ سرحدی ریاست ہے اور سرحد کی دوسری طرف چین جیسا شاطر ملک بیٹھا ہے جو بھارت کو کبھی مطمئین نہیں دیکھ سکتا ۔سیاستداں چاہے جو کہیں لیکن یہ سچ ہے کہ پاکستان سے زیادہ ہمیں چین سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔لیکن ان سب کے باوجود منی پور پر نریندر مودی جی کی مسلسل خاموشی نہایت افسوسناک ہے ۔ایک طبقہ کو ریزرویشن دینےباور دوسرے طبقہ کو اس ریزرویشن سے باہر رکھنا اتنی بڑی بات نہیں ہے کہ اس سے آگ بھڑک اٹھے اور پھر بجھنے کا نام ہی نہ لے ۔یقینا یہ اس سرکار کی نکامی کا کھلا اشتہار ہے جو منی پور میں حکمرانی کر رہی ہے ساتھ ہی مرکزی سرکار کے لئے بھی نہایت شرمناک بات ہے کہ گذشتہ پانچ ماہ سے ایک ریاست میں امن وامان کو لوگ ترس رہے ہیں ۔اور یہی وجہ ہے کہ جمعرات کے روز
منی پور میں کانگریس کی قیادت میں دس ہم خیال جماعتوں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ مرکز اور ریاست میں بی جے پی کی ‘ڈبل انجن والی حکومتیں’ پانچ ماہ گزرنے کے بعد بھی ریاست میں امن اور معمول کو بحال کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔
ان دس جماعتوں میں عام آدمی پارٹی، ترنمول کانگریس، سی پی آئی-ایم، سی پی آئی، فارورڈ بلاک، آر ایس پی، شیو سینا-یو بی ٹی، جنتا دل یونائیٹڈ اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شامل ہیں۔ ان جماعتوں نے ایک یک روزہ کانفرنس کر کے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بحران کے پرامن حل کے لیے تمام متعلقین سے بات کرے۔
متذکرہ پارٹیوں کی ایک روزہ کانفرنس کے بعد کانگریس لیڈر اور 2002 سے 2017 تک تین بار کے وزیر اعلیٰ اوکرم ایبوبی سنگھ نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی لاپرواہی تنازعات سے متاثرہ ریاست میں امن اور معمول کو بحال کرنے میں ناکام رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ وزیر اعظم نریندر مودی نے تمام مسائل پر بات کی لیکن وہ ابھی تک منی پور بحران پر خاموش ہیں اور یہ انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔ سنگھ نے کہا کہ لوگ اب بھی اس الجھن میں ہیں کہ آیا ریاست میں دفعہ 355 نافذ ہے یا نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا منی پور پر مرکزی حکومت کی حکومت ہے یا ریاستی حکومت کے منتخب نمائندوں کی؟
دس ہم خیال سیاسی جماعتوں نے مشترکہ طور پر کام کرنے کے اپنے موقف کا اعادہ کیا اور منی پور میں جاری ذات پات کے تشدد کے پرامن حل کے لیے امن بحال ہونے تک مسلسل پرامن احتجاج شروع کرنے کا اعلان کیا۔
جمعرات کی کانفرنس میں منظور کردہ ایک قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ‘دس سیاسی جماعتوں کے اتحاد’ نے منی پور میں موجودہ بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم کیا ہے جو مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی ناکامیوں، کوتاہی اور لاپرواہی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ”خواتین، بچوں، بوڑھوں، طلباء اورنوجوانوں کے خلاف ذات پات کے تشدد کے دوران ہونے والے تمام جرائم کی بغیر کسی تفریق کے فوری طور پر تفتیش کی جانی چاہیے۔ عوامی تشویش اور اہمیت کے مسائل پر ریاست کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
دوسری طرف، منی پور کے آٹھ سابق وزراء اور ارکان اسمبلی نے منی پور کی علاقائی، انتظامی اور جذباتی سالمیت کے تحفظ میں ناکام رہنے پر ‘ڈبل-انجن’ بی جے پی حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی کے زیرقیادت مرکزی حکومت کو صرف 2024 کے لوک سبھا انتخابات کی فکر ہے اور اسے منی پور کے ہنگامے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
سابق وزراء اور ارکان اسمبلی نے سوال کیا کہ ریاستی عہدیدار اور بی جے پی ان 10 قبائلی ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کر سکے جنہوں نے قبائلیوں کے لیے علیحدہ انتظامیہ یا علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے آئینی حلف کی خلاف ورزی کی تھی۔ ان دس ارکان اسمبلی میں سے سات حکمران بی جے پی کے ہیں۔
صاف لگتا ہے کہ بی جے پی نے منی پور میں شدت پسندوں کے آگے سرینڈر کر دیا ہے اور اسے اس سے کوئی تعلق نہیں کہ چین سے متصل بھارت کے اس سرحدی ریاست کی اہمیت کیا ہے ۔












