’’50 دنوں سے منی پور جل رہا ہے، لیکن وزیر اعظم خاموش رہے، کل جماعتی میٹنگ تب بلائی گئی جب وزیر اعظم خود ملک میں نہیں ہیں۔ صاف ہے، وزیر اعظم کے لیے یہ میٹنگ اہم نہیں ہے‘‘:راہل گاندھی
نئی دہلی: منی پور میں تقریباً دو ماہ سے تشدد جاری ہے۔ تشدد میں اب تک 110 سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ بہت سے لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ ملک کے وزیر داخلہ بھی تشدد کے حوالے سے منی پور کا دورہ کر چکے ہیں لیکن حالات میں بہتری نہیں آئی۔ اب منی پور کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت تمام فریقوں کے ساتھ تشدد پر بات چیت کرنا چاہتی ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے منی پور تشدد کے سلسلے میں 24 جون کو دہلی میں آل پارٹی میٹنگ بلائی ہے۔۔ اس سلسلے میں وزارت داخلہ کی طرف سے 21 جون کو بیان جاری کیا گیا تھا۔س تعلق سے کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مرکز کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ راہل گاندھی نےکہاکہ ’’50 دنوں سے منی پور جل رہا ہے، لیکن وزیر اعظم خاموش رہے، کل جماعتی میٹنگ تب بلائی گئی جب وزیر اعظم خود ملک میں نہیں ہیں۔‘‘اس کل جماعتی میٹنگ کے تعلق سے راہل گاندھی نے 22 جون کو ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’50 دنوں سے منی پور جل رہا ہے، لیکن وزیر اعظم خاموش رہے، کل جماعتی میٹنگ تب بلائی گئی جب وزیر اعظم خود ملک میں نہیں ہیں۔ صاف ہے، وزیر اعظم کے لیے یہ میٹنگ اہم نہیں ہے۔قابل ذکر ہے کہ تقریباً ایک ہفتہ قبل بھی راہل گاندھی نے منی پور کے حالات کو لے کر وزیر اعظم مودی پر حملہ کیا تھا اور ایک کل جماعتی نمائندہ وفد کو منی پور بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا۔ 15 جون کو راہل گاندھی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ’’بی جے پی کی نفرت والی سیاست نے منی پور کو 40 سے زیادہ دنوں تک جلائے رکھا، جس میں 100 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ وزیر اعظم اس معاملے میں پوری طرح خاموش ہیں۔ تشدد کے اس سلسلہ کو ختم کرنے اور امن بحالی کے لیے ریاست میں ایک کل جماعتی نمائندہ وفد بھیجا جانا چاہیے۔ آئیے اس نفرت کے بازار کو بند کریں اور منی پور میں ہر دل میں محبت کی دکان کھولیں۔‘‘دوسری طرف مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا بھی کل جماعتی میٹنگ کے تعلق سے بیان منظر عام پر آیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ ’’اب بہت تاخیر ہو چکی ہے۔ منی پور جل رہا ہے۔ منی پور کے لوگ مصیبت میں ہیں۔ سنٹرل فورس کی موجودگی میں وزیر کا گھر جل رہا ہے۔ یہ پوری طرح ناکامی ہے۔ انھوں نے (مرکزی حکومت) میٹنگ بلائی ہے، اس لیے پارٹی کی طرف سے ڈیرک او برائن جائیں گے۔‘بتادیں کہ کچھ دنوں سے منی پور میں تشدد کی آگ لگاتار بھڑک رہی ہے اور بدھ کے روز بھی ایک واقعہ پیش آیا۔ بشنو پور ضلع کے کواکٹا میں ایک گاڑی میں رکھے ہوئے دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کے پھٹنے سے تین افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو بشنو پور ضلع اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے اور ان میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ امپھال میں ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد علاقے میں اضافی سیکورٹی فورس تعینات کر دی گئی ہے۔منی پور کے امپھال مشرقی اور امپھال مغربی اضلاع میں دو مقامات سے حریف ملی ٹینٹ تنظیموں کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کی بھی اطلاع ملی ہے۔ تاہم فائرنگ کے ان واقعات میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی خبر نہیں ہے۔ دریں اثنا، فوج، آسام رائفلز اور کئی دیگر مرکزی اور ریاستی سیکورٹی فورسز ریاست کے مختلف حصوں میں تلاشی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔












