دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کو اتوار کے روز سی بی آئی نے گرفتار کر کے سوموار کو راؤز اینیو کورٹ میں پیش کیا اور ان سے مزید پوچ گچھ کےلئے کورٹ سے پانچ دنوں کا ریمانڈ مانگا جسے کورٹ نے قبول کر کے منیش سسودیا کو سی بی آئی کی حراست میں دے دیا۔دوسری طرف عام آدمی پارٹی کے لوگوں نے دیلی سمیت کئی ریاستوں میں اس گرفتاری پر مظاہرے کئے۔’آپ‘ کے مطابق یہ گرفتاری خالص سیاسی ہے اور دنیا کی سب سے بڑی پارٹی دنیا کی سب سے چھوٹی پارٹی کی مقبولیت سے ڈر کر مرکزی ایجنسیوں کو استعمال کرتے ہوئے ’آپ‘ کے لیڈروں کو عوام کے سامنے ذلیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔کانگریس کے علاوہ ملک کی اور بھی حزب اختلاف کی پارٹیوں اس گرفتاری کو سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا ہے۔ملک کے موجودہ سیاسی منظر نامہ کو دیکھتے ہوئے بھی یہ مانا جا سکتا ہے کہ مرکزی حکومت اپنے زیر انتظام سرکاری ایجنسیوں کا بڑے پیمانے پر استعمال کر رہی ہے اور اس کا ہدف صرف حزب اختلاف کی پارٹیاں ہی ہوتی ہیں۔دیکھنے میں یہ بھی آرہا ہے کہ حزب اختلاف کے لیڈروں کو نوٹس بھیجنے کے بعد یہ ایجنسیاں جب ان کی تفتیش کرتی ہیں تو ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا لیکن اس درمیان ان کی سیاسی شبیہ اتنی خراب ہو جاتی ہے کہ ان کے سامنے بی جے پی میں شامل ہونے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہتا۔ ’آپ‘ اور بی جے پی کے درمیان سیاسی رسہ کشی مسلسل جاری ہے اور فی الوقت کارپوریشن کا معاملہ سب کے سامنے ہے جہاں کامیاب ہونے کے باوجود ’آپ‘ اپنی کمیٹی تشکیل نہیں دے پا رہی ہے۔دہلی کے شہریوں کو اب یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ منیش سسودیا پر کیا الزامات ہیں اور یہ لنک منیش سسودیا تک کیسے پہنچا؟ ہم آپ کو بتائیں گے کہ نئی اور پرانی ایکسائز پالیسی کیا تھی، لیکن جب دہلی کے ایکسائز منسٹر منیش سسوڈیا نئی شراب پالیسی لے کر آئے تو سنگین الزامات لگے، پھر اس نئی شراب پالیسی کو منسوخ کر دیا گیا۔اس پالیسی میں جو تبدیلیاں ہوئی ہیں وہ سوال کے دائرے میں ہیں، سی بی آئی نے منیش سسودیا پر الزام لگایا ہے کہ منیش سسودیا نے ایکسائز پالیسی 2021-22کو بنانے اور لاگو کرنے میں بہت سی غلطیاں کی ہیں۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ منیش سسودیا نے اپنے خلاف جمع کیے گئے ثبوتوں کا جواب دینے میں تعاون نہیں کیا۔ ٹال مٹول سے جوابات دیے گئے۔ ان پر نجی افراد کو فائدہ پہنچانے کا الزام ہے۔ سی بی آئی سے موصولہ اطلاع کے مطابق سی بی آئی نے منیش سے تین طریقوں سے ثبوت اکٹھے کیے ہیں۔
پہلی دستاویزی فلم،دوسرا – الیکٹرانک،تیسرا – ڈیجیٹل:ایکسائز پالیسی تنازعات اور گھوٹالے کی جڑ ہے۔ اب آپ کے ذہن میں سوال یہ ہوگا کہ نئی اور پرانی ایکسائز پالیسی میں کیا فرق تھا اور منیش سسودیا نے نئی ایکسائز پالیسی میں کیا تبدیلیاں کیں کہ اسے منسوخ کرنا پڑا اور کجریوال کی حکومت کو یو ٹرن لینا پڑا۔ گزشتہ سال یکم اگست سے پرانی پالیسی پر دوبارہ عمل درآمد شروع ہو گیا۔ ہم دونوں پالیسیوں کو آپ کے سامنے رکھنے جا رہے ہیں۔
پرانی ایکسائز پالیسی
دہلی میں شراب پینے کی قانونی عمر 25 سال تھی۔ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر چلنے والی آزاد دکانوں پر 24 گھنٹے شراب نہیں فروخت ہوتی تھی۔زیادہ تردکانیں 150 مربع فٹ میں ہوں گی جن کا کاؤ نٹر سڑک کے کنارے تھا تمام دکانیں سرکاری ریٹ کے مطابق شراب کی قیمت مقرر کر رہی تھیں۔ نئی ایکسائز پالیسی پینے کی عمر 25 سے کم کر کے 21 کر دی گئی، آزاد دکانوں کو استثنیٰ دیا گیا کہ ہوٹلوں اور دکانوں پر 24 گھنٹے شراب فروخت ہو گی۔شراب کی دکانیں 500 مربع فٹ میں کھل سکیں گی، زیادہ جگہ اور زیادہ سیلز شاپس کے کاؤ نٹر سڑک کے کنارے نہیں ہوں گے۔تمام دکانیں مارکیٹ ریٹ کے مطابق شراب کی قیمتیں طے کر رہی تھیں۔ منیش سسودیا پر پرائیویٹ بولی لگانے والوں کی حمایت کرنے، کرپٹ فیس لینے کا الزام ہے، ٹینڈر بھی اپنے ہی لوگوں میں تقسیم کیے گئے، دہلی حکومت کی نئی ایکسائز پالیسی کے تحت دہلی کو 32 زونز میں تقسیم کیا گیا، جس کے لیے 849 لائسنس الاٹ کیے گئے تھے۔ اس طرح ہر زون میں اوسطاً 26 سے 27 شراب کی دکانیں کھل رہی تھیں۔ ایک زون میں 8 سے 9 وارڈز شامل کیے گئے۔ اس طرح ہر علاقے میں شراب آسانی سے دستیاب تھی۔ اب تک 60 فیصد دکانیں سرکاری اور 40 فیصد پرائیویٹ ہاتھوں میں تھیں لیکن اس پالیسی کے بعد 100 فیصد دکانیں پرائیویٹ ہاتھوں میں چلی گئیں۔پرائیویٹ ہاتھوں میں جانے کا مطلب ہے حکومت کے ریونیو کو کم کرنا۔دہلی حکومت کی نئی ایکسائز پالیسی 17 نومبر 2021 کو شروع کی گئی تھی۔ اس میں بی جے پی نے گھوٹالے کا الزام لگایا۔ الزام ہے کہ شراب کے تاجروں کو لائسنس دینے کی پالیسی سے کچھ ڈیلروں نے فائدہ اٹھایا۔ اس کے لیے ڈیلرز کو مبینہ طور پر رشوت دی گئی۔ سی بی آئی نے اس معاملے میں 16 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی، سسودیا کو ملزم نمبر 1 بنایا گیا۔
چیف سکریٹری نے ایل جی کو ایک رپورٹ بھیجی اور اس رپورٹ کی بنیاد پر ایل جی نے گزشتہ سال نئی ایکسائز پالیسی کے سلسلے میں سی بی آئی انکوائری کا حکم دیا تھا۔ اس میں دہلی حکومت اور ایکسائز منسٹر منیش سسودیا کے خلاف الزامات کا ایک سلسلہ شامل ہے۔کورونا کی مدت کے دوران ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے شراب فروخت کرنے والی کمپنیاں144.36 کروڑ روپے کی لائسنس فیس معاف کر دی گئی۔
L-1 ٹینڈر میں شامل کمپنی کی 30 کروڑ روپے کی جمع شدہ رقم کمپنی کو واپس کردی گئی۔غیر ملکی شراب اور بیئر کے کین پر من مانی طور پر 50 روپے فی کیس کی رعایت دی گئی، جس کا فائدہ نجی کمپنیوں نے اٹھایا۔دو زون کے ٹھیکے ایک بلیک لسٹ کمپنی کو دیے گئے۔ کارٹیلوں پر پابندی کے باوجود شراب فروخت کرنے والی کمپنیوں کے کارٹیلوں کو لائسنس دیے گئے۔ایجنڈے اور کابینہ کے نوٹ کو گردش کرنے کے بغیر کابینہ میں من مانی تجویزپاس ہو گیا۔شراب فروشوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ڈرائی ڈے کی تعداد 21 سے کم کر کے 3 کر دی گئی۔ماسٹر پلان کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شراب کے دکانوں کو غیر موافق علاقوں میں کھولنے کی اجازت دی گئی۔ٹھیکیداروں کا کمیشن 2.5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کر دیا گیا۔ دو زونوں میں شراب بنانے والی کمپنی کو ریٹیل سیکٹر میں شراب فروخت کرنے کی اجازت دی گئی۔ایل جی کی منظوری کے بغیر پالیسی میں دو بار توسیع کی گئی اور ڈسکاؤنٹ آفرز من مانی طور پر دی گئیں، جس سے کچھ کمپنیوں کو فائدہ ہوا۔نئی پالیسی کو لاگو کرنے میں جی این سی ٹی ایکٹ 1991، لین دین کے کاروبار کے قواعد 1993، دہلی ایکسائز ایکٹ 2009 اور دہلی ایکسائز رولز 2010 کی خلاف ورزی کی گئی۔ٹینڈر جاری ہونے کے بعد، 2021-22 میں لائسنس دہندگان کو بہت سے ناجائز فوائد فراہم کرنے کے لیے جان بوجھ کر طے شدہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کی گئی۔اس طرح ’آپ‘ کے نائب وزیر اعلی کو سی بی آئی نے پوری طرح گھیر لیا ہے۔اور ابھی ای ڈی کی مداخلت باقی ہے۔یعنی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بی جے پی نے عاپ کو سیاسی طور پر معذور کرنے کا پورا پروگرام بنا لیا ہے جس پر عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔












