منور رانا کا اصلی نام سید منور علی تھا۔ وہ 26 نومبر، 1952 کو اتر پردیش کے مردم خیز خطے رائے بریلی میں پیدا ہوئے۔ اور 14 جنوری 2024 کو لکھنؤ میں انتقال ہوا۔منور رانا کی شاعری کا دائرہ انتہائی وسیع ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے ہر بزم و انجمن کو اپنی جانب متوجہ کیا۔غرض ہر طبقے کو متاثر کیا۔یہی سبب ہے ان کا کلام زبان زد خواص و عوام ہے،آنکھوں کے سامنے سجنے والے ظلم و بربریت پر وہ بے حس یا کنارہ کش ہو کر نہیں بیٹھے بلکہ یہ ظلم اور درد انہیں اپنے اندر اترتا ہوا محسوس ہوا کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ شاعر صرف اپنی ذات کے بارے میں نہیں سوچتا بلکہ وہ پوری انسانیت کا شاعر ہوتا ہے اور دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھنا ہی شاعر کا اصل کام ہوتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ان تلخ حقائق اور رنج و الم کو شعری قالب میں کچھ یوں ڈھالا کہ وہ اردو شاعری میں ایک زندہ مثال بن گئے:
خون رلوائے گی یہ جنگل پرستی ایک دن
سب چلے جائیں گے خالی کر کے بستی ایک دن
چوستا رہتا ہے رس بھونرا ابھی تک دیکھ لو
پھول نے بھولے سے کی تھی سر پرستی ایک دن
تم کو اے ویرانیوں شاید نہیں معلوم ہے
ہم بنائیں گے اسی صحرا کو بستی ایک دن
روز و شب ہم کو بھی سمجھاتی ہے مٹی قبر کی
خاک میں مل جائے گی تیری بھی ہستی ایک دن
منور رانا کی شاعری میں درد و کرب کا ایک غالب عنصر ملتا ہے ۔ لیکن یہ درد محظ سطحی یا ذہنی نہیں بلکہ ایک وجودیاتی درد بن کر سامنے آتا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاعر جس انتشار و اضطراب کی ترجمانی کررہا ہے اس کی نوعیت اجتماعی نہی بلکہ انفرادی اور شخصی ہے۔ درد کو محسوس کرنے اور درد کو جینے کا جہاں تک تعلق ہے تو یہ کیفیات شاعر کی اپنی ذاتی کیفیات معلوم ہوتی ہے، لیکن جب اظہار درد اور انکشاف درد کی بات آتی ہے تو انفرادی احساس ایک اجتمائی اعلان کا جامہ پہن لیتا ہے ۔ کمال یہ ہے کہ وہ درد کو محسوس اپنے پس منظر میں کرتے ہیں اور اظہار درد قاری یا قارئین کے پس منظر میں کرتے ہیں۔ منور رانا کے درد کا ایک اہم ماخذ یاد ماضی ہے ۔وہ سنہرا ماضی جو غیر منقسم ہندوستان کا خاصہ تھا جوآج بھی ایک جزولاینفک بن کر ہر شام و سحر ہمارے اذہان و قلوب پہ دستک دیتا ہے ۔ وہ ماضی جس کی بازیافت اب ناممکن سی معلوم ہوتی ہے کیونکہ جس سماجی کائنات کا وہ حصہ تھا وہ کائنات کب کی اجڑ چکی ہے اور ہم اس اجڑی اور لٹی ہوئی کائنات کے ٹوٹے ستارے ہیں۔ وہ اپنی شاعری میں گاؤں کی مٹی سے بچھڑنے کا درد بھی بیان کرتے تھے۔اس کی پھولوں کی مہک کو بھی محسوس کرانے کی کوشش کرتے تھے۔انہیں اپنے اندرون بھی رلاتا تھا اور اپنا بیرون بھی ۔ لیکن اس سب کے باوجود وہ ہمت اور امید کا دامن ہاتھ سے نہی جانے دیتے تھے ۔ اگرچہ وہ اپنے بغل میں سیاسی فراست بھی رکھتے تھے اور سماجی بصارت بھی لیکن جب درد ،ظلم، استحصال، استعمار کی بات آتی تھی تو وہ ایک عام آدمی کی صف میں کھڑے ہوکر عام آدمی کی طرح اپنا فسانہ غم سناتے تھے خود بھی روتے تھے اور دوسروں کو بھی رلاتے تھے۔ بطور مثال چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
صحرا پسند ہو کے سمٹنے لگا ہوں میں
اندر سے لگ رہا ہے کہ بٹنے لگا ہوں میں
کیا پھر کسی سفر پہ نکلنا ہے اب مجھے
دیوار و در سے کیوں یہ لپٹنے لگا ہوں میں
آتے ہیں جیسے جیسے بچھڑنے کے دن قریب
لگتا ہے جیسے ریل سے کٹنے لگا ہوں میں
کیا مجھ میں احتجاج کی طاقت نہیں رہی
پیچھے کی سمت کس لیے ہٹنے لگا ہوں میں
پھر ساری عمر چاند نے رکھا مرا خیال
اک روز کہہ دیا تھا کہ گھٹنے لگا ہوں میں
منور رانا کو اپنے وطن سے اس قدر محبت تھی کہ وہ اس کی تہذیب، روایت، کلچر کے ساتھ گلیوں، شاہراہوں، چھتوں اور آس پاس بکھری دیگر اشیا کو بھی عزیز رکھتے تھے۔پروفیسر عباس نیر لکھتے ہیں کہ:منور اپنی شاعری میں براہ راست عوام سے گفتگو کرتے ہیں۔ وہ ان سانحوں کی بات کرتے ہیں جو بہت سے انسانوں کی زندگیوں میں بیک وقت رونما ہوچکے ہیں۔ وہ صرف اپنے غم میں نہیں ڈوبے رہتے بلکہ پوری انسانی برادری کی تکلیف کو محبوس کرکے انہیں اپنے شعروں میں ڈھالتے ہیں۔تقسیم ہندکے المیے نے جہاں سیاسی اور تہذیبی سطح پر بڑے گہرے اثرات مرتب کیے وہیں انسانی سطح پر اس نے کتنے ہی خاندانوں کو اجڑنے اور دربدر ہونے پر مجبور کردیا۔ اس پر بھی ستم یہ کہ اس کاری زخم پر رونے کی اجازت بھی انہیں ہی تھی جو ہجرت کرکے وہاں چلے گئے تھے۔۔۔۔خوف سا خوف تھا۔۔۔۔۔۔درد سا درد تھا۔ یہاں رہ جانے والوں کی بے بسی کا یہ عالم تھا کہ وطن سے محبت کے صلے میں بھی انہیں ملامت اور نفرت ہی ملی۔ منور لکھتے ہیں:’’مہاجرنامہ‘‘ تقسیم ہند کے حادثے سے متاثر ہونے والے انہیں مجبور اور بے کس انسانوں کی منظوم داستان ہے جنہوں نے ہجرت کا کرب سہاہے۔۔۔۔ مسلسل پانچ سو اشعار پر مشتمل اس طویل غزل کا ہر شعر اپنے آپ میں ایک مکمل داستان ہے۔ حالانکہ خود شاعر نے ہجرت کا درد نہیں سہا ہے لیکن اپنے بچپنیں انہوں نے تقسیم کے نتیجے میں ہونے والی بربادیوں کا براہ راست مشاہدہ کیا ہے۔ سیکڑوں خاندانوں کا اجڑنا۔۔۔خونی رشتوں کا بچھڑنا۔۔۔۔۔۔ سہمی ہوئی آنکھوں میں بس جانے والا خوف۔۔۔۔۔۔سیاست کی دھوپ چھائوں غرض یہ کہ ہر احساس کو لفظوں کی صورت میں پیش کردیا ہے۔’’مہاجر نامہ‘‘ ایک فرد واحد کی داستان نہیں ہے بلکہ ایک پوری جمعیت پر گذرے المیے کی روداد خونچکاں ہے۔ اس میں نہ صرف یہ کہ تاریخ بھی موجود ہے بلکہ اس دور کا جیتا جاگتا معاشرہ بھی نظر آتا ہے۔ اس نسل کو جو ازیتیں جھیلنی پڑیں اس کا درد وکرب تو ملتا ہی ہے ساتھ ہی اس حادثے کے بعد ذہنوں پر مرتب ہونے والے گہرے اثرات کی بھی بخوبی عکاسی ملتی ہے۔ہجرت کرنے کے بعد جو لوگ وہاں چلے گئے وہ بظاہر دنیا والوں کی نظروں میں محفوظ ہوگئے لیکن اس ہجرت کے نتیجے میں ان کی ذہنی کیفیت پرانی یادوں سی ہوگئی جس سے رہائی پانا ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔ وہ جیسے ایک درد مسلسل کا شکار ہوکر رہ گئے۔ اپنی زمینیں، اپنی مٹی، اپنا وطن، اپنا کوچہ، اپنے درودیوار، اپنے لوگ، اپنے کھیت کھلیان، اپنی خوشبوئیں، اپنی فضائیں، ایک دم سے یوں چھوڑ کر چلے آنا آسان نہیں ہوتا۔ ایک نئے دیس کو اپنانے کی جتنی بھی کوشش کی جائے اپنی مٹی کی خوشبو کہیں نہ کہیں دامن سے لپٹی ہی رہ جاتی ہے۔ وقت کی گہماگہمی میں یادیں بھلے ہی دھندلی پڑجائیں لیکن جب کبھی ان لوگوں کے سامنے ہجرت کا تذکرہ کیجئے تو جیسے زخموں سے لہوٹپکنے لگتا ہو اور بقول رانا:ہم خود ادھڑنے لگتے ہیں ترپائی کی طرح منوررانا نے سرحد کے اس پار چلے جانے والوں کے جذبات کی ترجمانی جس دردمندی سے کی ہے معلوم ہوتا ہے جیسے وہ خود اس کرب سے گذرے ہوں۔ اس مہاجر نامے کا ہر ایک شعر جیسے وہاں چلے جانے والوں کے دل کی آواز ہے۔ جو باتیں، جو اذیتیں، جو تکلیفیں وہ مہاجر لوگ اپنے دلوں میں چھپا کر دنیا والوں کی نظروں میں مضبوط بنے رہے اور اندر ہی اندر گھٹتے رہے، سسکتے رہے، روتے رہے انہیں منوررانا نے مہاجر نامے کی شکل میں گویا مجسم کردیا۔ یہ داستان ہے ان بدقسمت لوگوں کی جن سے ان کی شناخت چھین لی گئی۔ یہ حادثہ اتنا شدید تھا کہ ان کی قوت گویائی جیسے سلب ہوکر رہ گئی۔ وہ کراچی گئے تو لوگوں نے انہیں قبول نہیں کیا۔ اندرون سندھ جاکر خود کو سندھی کہنا چاہا تو سندھیوں نے مذاق بناڈالا، خود کو مہاجر ہی قبول کرلینا چاہا تو لوگوں نے طعنوں کی بوچھار کردی، اور پاکستانی شناخت پانے کی خواہش کی تو قدم قدم پر انہیں یاد دلایا گیا کہ ان کی جڑیں ہندوستان میں ہیں۔ وہ جنہوں نے اس قطعہ زمین کے لیے اپنا سب کچھ لٹادیا وہ اپنی شنات تک سے محروم ہوکر رہ گئی۔ پاکستان ے محبت میں اپنا گھر بار رشتے ناطے، عزت وناموس، جان ومال یہاں تک کہ اپنی پہچان تک کھودینے کے بعد بھی وہ صرف مہاجر ہی رہ گئے۔ بے نام مہاجر۔انہیں شکستہ دل اور شکستہ دامن مہاجروں کی ترجمانی جب منور رانا نے کی تو گویا اس منظوم داستان کا ہر شعر ایک نشتر بن گیا جس نے دلوں پر ایسی کاری ضرب لگائی کہ لوگ خون کے آنسو رونے پر مجبور ہوگئے۔’’مہاجر نامہ‘‘ کی تخلیق میں منور راناکا کمال یہ ہے کہ انہوںنے ہجرت کے کرب کو محض کسی داستان کے بیانیے کی طرح سے بیان نہیں کردیا ہے بلکہ اس تقسیم اور ہجرت کے سیاسی اسباب ووجوہات کو نہایت ہی بے باکی کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔
بین السطور بحیثیت راوی وہ کہتے جاتے ہیں اس تقسیم اورہجرت سے سرحد کے دونوں طرف کے عوام کو کوئی دلچسپی نہیں تھی یہ تو بعض سیاسی رہنمائوں کے ہوسِ اقتدار کی دین ہے۔ جس کا فائدہ انگریز حکمرانوں نے دکھایا اور جس کی سزا بھولے بھالے عوام کو جھیلنی پڑی۔ زمینوں کے ساتھ دلوں کا بھی بٹوارا ہوا۔ محبتوں کے رشتوں میں نفرتوں کی دیواریں کھڑی ہوگئیں۔ ستیہ اور اہنسا کی دھرتی بے گناہوں کے خون سے رنگین ہوگئی۔ نتیجے میں ملک کی ایک بڑی آبادی کو ہجرت بالجبر کے عذاب سے دوچار ہونا پڑا۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
مہاجر ہیں مگر ہم ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں
تمہارے پاس جتنا ہے ہم اتنا چھوڑ آئے ہیں
کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے
کہ ہم مٹی کی خاطر اپنا سونا چھوڑ آئے ہیں
نئی دنیا بسا لینے کی اک کمزور چاہت میں
پرانے گھر کی دہلیزوں کو سوتا چھوڑ آئے ہیں
عقیدت سے کلائی پر جو اک بچی نے باندھی تھی
وہ راکھی چھوڑ آئے ہیں وہ رشتہ چھوڑ آئے ہیں
کسی کی آرزو کے پاؤں میں زنجیر ڈالی تھی
کسی کی اون کی تیلی میں پھندا چھوڑ آئے ہیں
پکا کر روٹیاں رکھتی تھی ماں جس میں سلیقے سے
نکلتے وقت وہ روٹی کی ڈلیا چھوڑ آئے ہیں
جو اک پتلی سڑک اُنّاو سے موہان جاتی ہے
وہیں حسرت کے خوابوں کو بھٹکتا چھوڑ آئے ہیں
وہ لیچی سے لدے پیڑوں کا خاموشی سے منھ تکنا
مظفرپور ہم تجھ کو اکیلا چھوڑ آئے ہیں
منور رانا اپنی ذات کی گہرائیوں میں اتر کر گم نہیں ہو جاتےتھے۔بلکہ جب وہ اپنے شعری سرمائے کے ساتھ باہر آتے تھے، تواپنے معاشرے کی دبیز تاریخ بھی لے آتے تھے۔ایک ایسی تاریخ جو عہد حاضر سے ہمیں اٹھا کر ماضی کی طرف لے جاتی ہے۔انہوں نےاردو شاعری کو ایک نئی جہت اور غزل کو وسعتِ بیان عطا کی.وہ اپنی شاعری میں زمین، گاؤں،بازار،گلی کوچہ سے نئی نئی علامتیں کشید کرتے تھے.نئے استعاروں، تشبیہوں کے ذریعے اپنی شاعری کو منفرد بنانے کا ہنر جانتے تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ اِس دور کے اُردو مشاعروں کے مقبول ترین شاعر تھے۔وہ اپنی شاعری اور اپنے تیور کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔












