کشمیر—یہ نام آتے ہی ذہن میں برف پوش پہاڑیاں نیلگوں جھیلوں اور سرسبز وادیوں کے مناظر ابھرتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ خطہ محض قدرتی حسن کا استعارہ نہیں بلکہ برصغیر کی سیاست، طاقت کی کشمکش، شناخت کی جدوجہد اور ریاستی فیصلوں کے امتحان گاہ کی علامت بھی ہے۔ کشمیر میں لیا جانے والا ہر فیصلہ عام انتظامی کارروائی نہیں ہوتا، بلکہ وہ قومی بیانیہ، نظریاتی ترجیحات اور سیاسی سمت کا عکاس بن جاتا ہے۔ یہاں کسی سڑک کی تعمیر ہو، کسی یونیورسٹی کا قیام یا کسی تعلیمی ادارے کی بندش—ہر قدم اپنی معنویت، علامتی وزن اور دور رس اثرات کے حامل ہوتے ہیں ۔
ایسے حساس خطہ میں جب کسی میڈیکل کالج کی منظوری دی جاتی ہے تو وہ محض ایک تعلیمی منصوبہ نہیں ہوتا بلکہ وہ صحت، انسانی خدمت، سماجی ترقی اور مستقبل کے خوابوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ میڈیکل کالج ایک ایسا ادارہ ہوتا ہے جو نہ صرف ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرتا ہے بلکہ پورے علاقہ کے صحتی نظام، تحقیق، روزگار اور سماجی اعتماد کو مضبوط بناتا ہے۔ لیکن جب اسی ادارے کی منظوری سیاسی دباؤ، مذہبی منافرت اور سڑکوں پر بلند ہونے والے نعروں کی نذر ہو جائے تو سوال محض ایک کالج کے بند ہونے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وہ ریاستی نیت، سیاسی اخلاقیات اور قومی ضمیر پر دستک دینے لگتا ہے۔
جموں و کشمیر میں ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی منظوری کا خاتمہ اسی سلسلہ کی ایک تشویشناک کڑی ہے۔ بظاہر یہ فیصلہ انتظامی خامیوں، انفراسٹرکچر کی کمی اور “ریاستی مفاد” کے نام پر لیا گیا، مگر زمینی حقائق اور واقعات کی ترتیب اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتی ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی دباؤ اور فرقہ پرست تنظیموں کی منظم احتجاجی سیاست کا براہِ راست نتیجہ تھا۔ حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض ایک تعلیمی ادارے کی بندش نہیں بلکہ نفرت کی سیاست کا وہ عریاں چہرہ ہے جو اب بلا جھجک تعلیم کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔
ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کو جموں و کشمیر کی حکومت نے گزشتہ سال ہی منظوری عطا کی تھی۔ اس منظوری کے پس پردہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت موجود تھی: وادیٔ کشمیر میں معیاری طبی اداروں اور ڈاکٹروں کا شدید فقدان۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں فی ہزار افراد پر ڈاکٹروں کی تعداد تقریباً ۰.۸ ہے، جب کہ قومی اوسط ۱.۳ کے قریب ہے۔ دیہی اور دور دراز علاقوں میں یہ شرح اس سے بھی کہیں کم ہو جاتی ہے۔ ایسے حالات میں ایک نئے میڈیکل کالج کا قیام محض تعلیمی ضرورت نہیں بلکہ انسانی مسائل اور زندگی سے وابستہ اہم اور ضروری سوال تھا۔
ملک کئ دیگر حصہ میں قائم میڈیکل کالج کے مانند ہی ماتا ویشنو دیوی میڈیکل۔کالج میں بھی داخلہ کا پورا نظام قومی سطح پر نافذ NEET (نیشنل ایلیجیبلٹی کم انٹرینس ٹیسٹ) کے تحت طے کیا گیا۔ NEET کا مقصد ہی یہ تھا کہ ملک بھر میں میڈیکل تعلیم میں میرٹ، شفافیت اور مساوات کو یقینی بنایا جائے اور مذہب، ذات، علاقہ یا سیاسی مداخلت کے تمام دروازے بند کر دیے جائیں۔ قابل ذکر ہے۔کہ سپریم کورٹ نے بھی اسی نوعیت کے مختلف معاملہ کی سماعت کے دوران اپنے متعدد فیصلوں میں—خصوصاً TMA Pai Foundation اور Christian Medical College جیسے مقدمات میں—واضح کیا ہے کہ میڈیکل تعلیم میں داخلے میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے، نہ کہ کسی مذہبی یا سماجی تناسب کی بنیاد پر۔
باوجود اس کے کالج ہزا میں مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب NEET ۲۰۲۵ کے نتائج سامنے آئے۔ ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی منظور شدہ نشستوں میں بڑی تعداد ایسے طلبہ کے حصے میں آئی جو مسلمان تھے اور ان میں سے بیش تر کا تعلق کشمیر سے تھا۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ گزشتہ ایک دہائی میں کشمیر میں تعلیمی بیداری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور کشمیری طلبہ—بالخصوص مسلم طلبہ—مسابقتی امتحانات میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مگر یہی “میرٹ کی کامیابی” بعض سیاسی طاقتوں کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوئی۔
اچانک سڑکوں پر احتجاج شروع ہو گئے۔ بی جے پی کے مقامی اور قومی سطح کے رہنماؤں نے یہ کہنا شروع کیا کہ داخلے “یک طرفہ” ہیں، ہندو طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور “ریاستی مفاد” کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر منظم مہم چلی، جذبات کو ہوا دی گئی، اور میڈیا کے ایک مخصوص حصے نے اس معاملے کو تعلیمی بحث کے بجائے مذہبی تنازع کی شکل دے دی۔
یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر داخلہ ایک قومی سطح کے امتحان کے ذریعہ ہوئے، جس پر نہ ریاستی حکومت کا کنٹرول ہے اور نہ کسی مذہبی ادارے کا، تو پھر “یک طرفہ” ہونے کا الزام آخر کس بنیاد پر ہے؟ کیا میرٹ اگر مسلمانوں کے حق میں جائے تو وہ مشکوک ہو جاتا ہے؟ کیا قومی امتحان اس وقت تک قابلِ قبول ہے جب تک اس کے نتائج کسی خاص سیاسی بیانیہ سے ہم آہنگ ہوں؟
یہی وہ نکتہ ہے جہاں تعلیم اور سیاست کی سرحدیں خطرناک حد تک مدغم ہو جاتی ہیں۔ بی جے پی اور اس سے منسلک تنظیموں نے اس معاملہ کو دانستہ طور پر مذہبی رنگ دیا۔ احتجاج کو منظم کیا گیا، دباؤ بڑھایا گیا، اور بالآخر حکومت نے وہی راستہ اختیار کیا جو اکثر ایسے معاملات میں اختیار کیا جاتا ہے—یعنی دباؤ کے سامنے سرِ تسلیم خم۔
۱۰ جنوری ۲۰۲۶ کو نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) نے ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی منظوری واپس لے لی۔ سرکاری طور پر کہا گیا کہ انفراسٹرکچر ناکافی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واقعی انفراسٹرکچر کی کمی تھی تو ابتدائی منظوری کیوں دی گئی؟ کیا یہ خامیاں اچانک پیدا ہو گئیں، یا پھر انہیں سیاسی ضرورت کے تحت دریافت کیا گیا؟ انصاف کے معیار پر دیکھا جائے تو یہ فیصلہ محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی محسوس ہوتا ہے، جہاں سرکاری جواز کو اصل نیت پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
یہ فیصلہ آئینِ ہند کی روح سے بھی متصادم نظر آتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل ۱۴ مساوات کی ضمانت دیتا ہے، آرٹیکل ۱۵ مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت کرتا ہے، اور آرٹیکل ۲۹ و ۳۰ اقلیتوں کے تعلیمی حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ بارہا واضح کر چکی ہے کہ ریاست یا کوئی سیاسی جماعت تعلیمی اداروں میں مذہبی تناسب کی بنیاد پر مداخلت نہیں کر سکتی۔ اس پس منظر میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کیا مسلمان طلبہ کی تعلیمی کامیابی اب خود ایک “مسئلہ” بن چکی ہے؟
اس فیصلے کے اثرات محض چند طلبہ یا ایک ادارے تک محدود نہیں۔ کشمیر جیسے خطہ میں ہر میڈیکل سیٹ قیمتی ہے۔ ایک میڈیکل کالج سینکڑوں نوجوانوں کے خوابوں، ہزاروں مریضوں کی امیدوں اور پورے صحتی نظام سے جڑا ہوتا ہے۔ اس کی بندش کا مطلب ہے کہ نوجوانوں کے مستقبل پر تالے لگ گئے، مریضوں کے علاج کے امکانات کم ہو گئے اور ایک بار پھر یہ پیغام دیا گیا کہ تعلیم بھی اب سیاسی وفاداری کی محتاج ہے۔
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ نفرت کی سیاست اب نعروں اور تقاریر تک محدود نہیں رہی، بلکہ وہ پالیسی سازی اور ادارہ جاتی فیصلوں تک سرایت کر چکی ہے۔ مسلمانوں کی تعلیمی ترقی بعض طاقتوں کو اس لیے ناگوار گزرتی ہے کہ وہ ان کے قائم کردہ تعصبی بیانیے کو چیلنج کرتی ہے۔ جب مسلمان میرٹ پر آگے بڑھتے ہیں تو وہ اس تصور کو توڑ دیتے ہیں کہ ترقی کسی ایک طبقے کی میراث ہے۔
المختصر سوال یہی ہے کہ ہم کس طرف کھڑے ہیں؟ کیا ہم خاموشی اختیار کر کے اس رجحان کو قبول کر لیں گے، یا آئین، میرٹ اور انسانی اقدار کے دفاع میں آواز بلند کریں گے؟ ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی منظوری کا خاتمہ محض ایک خبر نہیں، بلکہ مستقبل کے بھارت کا اشاریہ ہے۔ کشمیر آج ہے، کل کوئی اور خطہ ہو سکتا ہے۔












