ناظم بیگ
بلند شہر ،سماج نیوز سروس: آل انڈیا ملی کونسل کے قومی صدر، جامعہ گلزار حسینیہ اجراڑہ کے مہتممِ اعلیٰ اور ممتاز عالمِ دین حضرت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی کا سانحہ ارتحال ملتِ اسلامیہ ہند کے لیے ایک عظیم علمی و ملی المیہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل مغربی اتر پردیش کے سکریٹری اور مرحوم کے دیرینہ رفیق ڈاکٹر ظہیر احمد خاں نے اپنے ایک تعزیتی بیان میں کیا۔ ڈاکٹر احمد خاں نے مولانا کی حیاتِ خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ مولانا مغیثی دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز سپوت تھے، جہاں انہوں نے شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ جیسے اساتذہ سے فیض حاصل کیا۔ آپ کو معروف مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندویؒ سے بھی گہرا مرشدانہ تعلق حاصل تھا۔ اگرچہ آپ کا تعلق سہارنپور سے تھا، لیکن فراغت کے بعد میرٹھ کو اپنا مرکز بنایا۔ جامعہ گلزار حسینیہ اجراڑہ کی تعمیر و ترقی اور اسے ایک عظیم تعلیمی مرکز بنانے میں آپ کا کلیدی کردار رہا۔ آپ جامعہ رحمت گھگرولی کے بانی، تنظیم ابنائے قدیم دارالعلوم دیوبند کے مرکزی صدر، اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلسِ عاملہ کے موقر رکن تھے۔ اس کے علاوہ آپ مظاہر علوم وقف کی شوریٰ کے رکن اور مغربی یوپی و ہریانہ کے سینکڑوں مدارس کے سرپرست بھی تھے۔ڈاکٹر ظہیر احمد خاں نے کہا کہ مولانا مغیثی صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک تحریک تھے۔ انہوں نے دیہاتوں اور قصبات میں دینی مکاتب کا جال بچھایا۔ ان کی قیادت میں اعتدال، حکمت اور اتحادِ امت کا عنصر نمایاں تھا۔ وہ ہمیشہ ملی یکجہتی اور تعمیری سوچ کو فروغ دینے کے قائل تھے۔ڈاکٹر ظہیر نے انتہائی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے بتایاکہ مولانا سے میرا تقریباً 40 سالہ گھریلو تعلق تھا۔ وہ ہر موڑ پر میری ملی و سماجی سرگرمیوں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ ان کی وفات سے ایک ایسا خلاء پیدا ہوا ہے جسے پُر کرنا ناممکن ہے۔مولانا مغیثی کے مشن کو جاری رکھنے کے لیے ان کے صاحبزادے مولانا عبدالمالک مغیثی کو جامعہ گلزار حسینیہ کا نیا مہتمم بنائے جانے منتظمین کا شکریہ۔اللہ تعالیٰ حضرت مولانا کی جملہ خدمات کو قبول فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور تمام پسماندگان و متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔












