• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعرات, مارچ 26, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

مولانا ابوالکلام آزادملکی رواداری کی اعلیٰ مثال

ڈاکڑ محمد سعید اللہ ندوی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 22, 2023
0 0
A A
مولانا ابوالکلام آزادملکی رواداری کی اعلیٰ مثال
Share on FacebookShare on Twitter

مولانا آزاد 11نومبر1888ءکو مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے ان کا تاریخی نام فیروز بخت، اصل نام محی الدین احمد، کنیت ابوالکلام اور تخلص آزاد تھا۔آپ کے والد محترم مع اہل و عیال بغرضِ علاج مکہ سے ہجرت کرکے کلکتہ چلے آئے تھے اور کلکتہ ہی میں مستقل قیام رہا۔ اس لئے مولانا آزاد نے اپنی تعلیمی و سیاسی سرگرمیوں کا مرکز کلکتہ ہی کو بنایا ، اس طرح آپ کا علمی و سیاسی سفر پندرہ سال کی عمر میں جریدہ ”لسان الصدق“جاری کرکے ہوتا ہے ، یہ رسالہ اپنی طرز کا انوکھا اور بے مثال جریدہ تھا جس کی تعریف مولانا الطاف حسین حالی نے بڑے انوکھے انداز میں کی ہے۔
مولانا آزاد کی شخصیت اتنی کثیرالجہت اور ہمہ گیرو عالمگیر ہے کہ کسی شخص کیلئے آپ کی زندگی کا مکمل احاطہ کرنا بڑا مشکل ترین امر ہے آپ کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ ذھانت و فطانت عطا فرمائی تھی ایک طرف آپ دینی و عصری علوم کا بحر ذخار تھے تو دوسری طرف ایک مایہ ناز شاعر تھے آپ کی ادبی خدمات کی وجہ اردو دنیا پر رہتی دنیا تک آپ کا احسان رہے گا آپ ایک بہترین قلم کار انشاءپرداز اور سلیم الفطرت شخصیت کے حامل انسان تھے ، آپ ایک بہترین سیاست دان تھے اور سیاسی بصیرت میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے یہ آپ کی سیاسی سوجھ بوجھ ہی کا نتیجہ تھا کہ گاندھی جی اور جواہر لعل نہرو جیسے سیاست داں آپ کی بڑی قدر کرتے تھے اورآپ کوکانگریس کےلئے ریڑھ کی ہڈی سمجھتے تھے چنانچہ جب ملک عزیز کو فرنگیوں کے ظالم ہاتھوں سے آزادی نصیب ہوئی اور ملک کے لوگوں پر اپنے ملک کا قانون نافذ ہوا تو آپ کو ملک کا پہلا وزیرِ تعلیم نامزد ہونے کا شرف حاصل ہوا 15اگست 1947ءتا یکم فروری 1958ءتک آپ اس عہدہ پر فائز رہے ، وزارتِ تعلیم کے عہدہ پر متمکن ہونے کے بعد بطور خاص تعلیمی میدان میں آپ کی سرگرمیاں بڑھ گئیں ، اور ممکنہ حد تک باشندگانِ ہند کو تعلیم سے آراستہ کرنے کی فکر دامن گیر رہتی تھی اور خاص طور پر مسلم معاشرہ میں تعلیمی بیداری پیدا کرنے کیلئے آپ نے بڑی جد و جہد کی اور مسلسل ان کی توجہ تعلیم کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتے رہے ، جہاں تک تعلیم نسواں کی بات ہے تو آپ اس پر بہت زور دیا کرتے تھے کہ حدود میں رہتے ہوئے خواتین کیلئے بھی یکساں طور پر تعلیم کا نظم ہونا چاہئے اور انہیں بہتر سے بہتر تعلیم سے مزین کرنا چاہئے اور تاریکی و جہالت سے باہرآنا چاہئے۔
عصری علوم کو جزو لاینفک کے درجہ میں شمار کرتے تھے اور بالخصوص تعلیم صنعت و حرفت پر خوب زور دیا کرتے تھے ،یہی وجہ ہے کہ آپ نے مختلف تعلیمی و تحقیقی مراکز قائم کئے جو آج بھی ملک میں موجود ہیں ، اس طرح آپ نے اپنی قوم کو تعلیم کے ہر شعبے میں آگے بڑھنے اور بڑھانے کی کوشش میں لگے رہے ، آپ نے ترقی و زوال کے تمام پہلوؤں پر غور و فکر کرنے کے بعد کہا تھا کہ ہر حال میں سب سے ضروری کام عوام کی تعلیم ہے جس سے ہم دورہیں۔
جنگ آزادی میں آپ کا کردار بہت نمایاں نظر آتاہے ، تاریخ جنگ آزادی آپ کے ذکر کے بغیر ناقص ہے ، جس کےلئے آپ کی ایک بڑی اور اہم کوشش ہندو مسلم کے درمیان اتحاد کی رہی ہے ،آپ ہندو مسلم اتحاد کے علم بردار تھے جس کےلئے زندگی بھر کوشش کرتے رہے۔تقسیم ہند کے وقت فرقہ وارانہ کشیدگی اپنی انتہاءکو پہنچی ہوئی تھی آپ نے اس کشیدگی کو دور کرنے کےلئے بہت اہم اقدامات کئے۔
بہت سارے حالات سے گزرنے اور تجربہ و مشاہدہ کے بعد آپ نے ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا ،اگر دنیا دس ہزار سال یا دس لاکھ سال مزید قائم رہے پھر بھی اس ملک سے دو چیزیں ختم نہیں ہوں گی، ایک تو ہندو قوم کی تنگ نظری ، دوسرے مسلمان قوم کی اپنے سچے رہنماؤں سے بد گمانی جس کا مشاہدہ ہم آج بھی کر رہے ہیں ،مولانا آزاد ایک ہمہ گیر ہمہ جہت شخصیت کا نام ہے ، یہ شخصیت مختلف پہلوؤں پر محیط تھی ،ان کی زندگی مختلف اور متضاد حیثیتوں میں منقسم نظر آتی ہے، وہ بیک وقت بے باک مجاہد آزادی ہیں ،مصنف بھی ہیں، عظیم خطیب بھی ہیں، مفکر بھی ہیں، فلسفی بھی ہیں، ایک طرف ادب کے شہسوار ہیں تو دوسری طرف ماہر عالم دین ، ان تمام خوبیوں کے ساتھ ایک عظیم قومی لیڈر اور سیاسی میدان کے شہنشاہ ہیں۔ مختصراً اگرہرفن مولا کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ، آپ کی ایک خاصیت تھی کہ شرعی معاملات کو چھوڑ کر دیگر معاملات میں تقلیدی اور رواجی ذہن نہیں رکھتے تھے بلکہ تخلیقی ذہن کے مالک تھے۔
مختصراً آپ نے تقریباً ہر میدان میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں خواہ وہ شعر گوئی ہو یا نثر نویسی ، تقریر و خطابت ہو یا تصنیف و تالیف ، سیاسی میدان ہو یا علمی میدان الغرض آپ کی شخصیت مختلف پہلوؤں پر محیط ہونے کی وجہ سے اس مختصر تحریر میں احاطہ مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔
تاریخ 22 فروری 1958کو ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے سب سے اہم رہنما مولانا ابوالکلام آزاد کا انتقال ہوگیا۔ قوم کیلئے ان کی انمول شراکت کے لئے، مولانا ابوالکلام آزاد کو 1992 میں ہندوستان کے سب سے بڑے شہری اعزاز، بھارت رتنا سے بعد ازاں نوازا گیا۔
مولانا مذاہب کے باہمی وجود پر پختہ یقین رکھتے تھے۔ ان کا خواب ایک متحد آزاد ہندوستان کا تھا جہاں ہندو اور مسلمان پر امن طور پر شریک تھے۔ اگرچہ آزاد کا یہ نظریہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد بکھر گیا تھا جس کاآپ کوبہت صدمہ تھاجس کااظہار آپ نے اپنی جامع مسجد دہلی کی تقریرمیں بڑے دردکے ساتھ کیا ہے، اس خواب کے بکھرنے کے بعد بھی آپ مایوس نہیں ہوئے بلکہ مستقل آپ قوم و ملت کی ترقی کے لئے کوشاں رہے۔ وہ دہلی میں جامع ملیہ اسلامیہ انسٹی ٹیوشن کے بانی تھے اور ان کے ساتھ ساتھی خلافت رہنما بھی تھے۔ ان کی سالگرہ، 11 نومبر، ملک میں قومی یوم تعلیم کے طور پر منائی جاتی ہے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    امریکہ ایران مذاکرات پاکستان میں

    امریکہ ایران مذاکرات پاکستان میں

    مارچ 25, 2026
    پاکستان کا کردار بھارت کیلئے سفارتی دھچکا: جے رام رمیش

    پاکستان کا کردار بھارت کیلئے سفارتی دھچکا: جے رام رمیش

    مارچ 25, 2026
    الیکشن کمیشن آف انڈیا نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو  یقینی بنانے کے لیے بین ریاستی کوآرڈی نیشن کوتیز کیا

    الیکشن کمیشن آف انڈیا نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے بین ریاستی کوآرڈی نیشن کوتیز کیا

    مارچ 25, 2026
    مغربی ایشیا کے بحران کے اثرات طویل عرصے تک رہنے  کا خدشہ، ہر صورتحال کے لئے تیار رہنا ہوگا: نریندر مودی

    مغربی ایشیا کے بحران کے اثرات طویل عرصے تک رہنے کا خدشہ، ہر صورتحال کے لئے تیار رہنا ہوگا: نریندر مودی

    مارچ 25, 2026
    امریکہ ایران مذاکرات پاکستان میں

    امریکہ ایران مذاکرات پاکستان میں

    مارچ 25, 2026
    پاکستان کا کردار بھارت کیلئے سفارتی دھچکا: جے رام رمیش

    پاکستان کا کردار بھارت کیلئے سفارتی دھچکا: جے رام رمیش

    مارچ 25, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist