
کانپور:۔ سہارا انڈیا پریوار کے بانی اور سرپرست اعلی ’سہارا شری‘ سبرت رائے کے انتقال پر جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے تعزیت پیش کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔ مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ ہم نے ملک میں ’سہارا شری‘ سبرت رائے کی قائم کردہ کمپنی سہار ا کا ملک میں عروج کا دور بھی دیکھا ہے، اور آزمائشوں کے موجودہ دور میں جبکہ سہارا کمپنی کو ان کی پہلے سے زیادہ ضرورت تھی وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک بھر میں کمپنی سے جڑے لاکھوں لوگوں کیلئے صبر اور امتحان کا موقع ہے۔ ہم سہارا کمپنی اور ’سہارا شری‘ کے ذریعہ ملک کے لئے دی گئیں قربانیوں اور خدمات کی معترف ہیں۔ انہوں نے قریبی تعلق رکھنے والے ایک عزیز کے حوالہ سے سہارا شری سے جڑا واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب ملک میں ’روزنامہ راشٹریہ سہارا‘ نیا نیا لانچ ہوا تو اُس وقت کئی متعصب ذہنیت رکھنے والوں نے سہارا شری سے اردو اخبار کو قارئین نہ ملنے اور کم سرکولیشن کا کا بہانہ بناتے ہوئے اسے بند کرنے کا مشورہ دیا، جس پر ’سہارا شری‘نے تاریخی جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’جب تک پورے ملک میں اس روزنامہ کو کوئی ایک شخص بھی خریدنے والا باقی ہے،کسی بھی صورت میں اس روزنامہ کو بند نہیں کیا جا ئے گااور جس دن اس کو کوئی ایک خریدار نہیں ملے گا تو میں خود روزانہ راشٹریہ سہارا خریدوں گا اور اس کی اشاعت جاری رہے گی‘۔ اس واقعہ سے ان کے سیکولر مزاج ہونے کو بھی بہتر طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے۔آج کے دور میں اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں میں ایسا مزاج اور صاف ذہن رکھنے والے عام طور پر بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ان کی خصوصی توجہات کے سبب ہی سہارا میڈیا اور خاص طور پر’روزنامہ راشٹریہ سہارا‘ نے پورے ملک میں صحافت کی دنیا میں اپنا ایک مقام بنایا ہے۔ ہم غم کی اس گھڑی میں ان کے اہل خانہ اور کمپنی کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہیں۔












