انسانی زندگی مستعار ہے۔ لہٰذا موت وحیات کا کوئی تاریخ ماہ وسال یا وقت طے نہیں ہے۔رب قدیر کے حکم کے بموجب دنیا کا نظام قائم و دائم ہے۔ روزانہ لاکھوں زندگیاں وجود میں آتی ہیں۔ اور ہزارہاں لوگ ہمیشہ کےلئے لقمہ¿ اجل ہوجاتے ہیں۔ بسا اوقات دنیا کو خیرآباد کہنے والے شخصیات کے ہم اتنے عزیز یا وہ ہمارے مشفق و محترم ہوتے ہیں کہ ان کا بچھڑنا اکھڑجاتا ہے۔دل میں ہو اٹھتا ہے۔ ذہن ودماغ سن ہوکر رہ جاتا ہے۔اور ہم بس ایک سرد آہ بھر کرہ رجاتے ہیں۔ 12 دسمبر2022 کی شام ہے سورج پہلے سے غروب ہے۔شام کے ڈھلنے اور رات کی ابتدا کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ شہر بھی جامد اور ساکت ہے۔ اسی درمیان یہ اندوہناک اور دلدوز خبر موصول ہوئی کہ (محترم و مکرم مولانا عامر سلیم خان صاحب جو میرے سب سے اچھے دوست ) صاحب جی بی پنت اسپتال میں انتقال پرملال ہوگیا ہے۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔ اچانک موت کی اطلاع پاکر میں دم بخود اور ساکت ہوگیا۔ دراصل مولانا عامر سلیم خان صاحب کی موت غیر متوقع واقع ہوئی ہے۔ گزشتہ کئی بسبب ہارٹ اٹیک سے وہ علیل ضرور تھے مگر معالجین کی نگہداشت میں روبہ صحت ہورہے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اسپتال سے وہ واپسی کابھی ارادہ رکھتے تھے۔ میری ان دونوں سے بات نہیں ہوئی تھی۔ البتہ ان کی طبیعت کی خبریں مختلف حوالہ سے مل جاتی تھیں۔ میں ان کے واپسی پرملاقات کے ارادہ میں تھا۔ مگر آہ میں ملاقات سے محروم ہی رہا۔ صوبہ یوپی کا حاشیائی خطہ یوپی کا انتہائی دور افتادہ قصبہ کوہنڈہ بستی میں ایک زمیندار گھرانے میں پیداہوئے۔مولانا کی زندگی کے شب وروز مثالی اور قابل تقلید رہی ہے۔ وہ عدل قائم کرنے والے جج،روحانی محفلوں میں جان ڈالنے والے صاحب طرز دلنواز عالم اور سماج کےلئے ایک مشفق سرپرست سمیت ہمارے صحافت استاد تھے۔ انسانی کمالات اور خوبیوں سے متصف عدل و انصاف کے پیکر حضرت مولانا عامر سلیم خان صاحب کی زندگی کا ہرپہلو روشن ہے۔ جس میں ہرایک کو اپنے لئے کچھ نہ کچھ نظر آتا تھا اور ہرشخص مستفید ہوتے تھے۔ اس میں اہل علم،شعرا و ادبا،علما،اہل مدارس،گاو¿ں کے ہم سایہ، زمینوں کے بٹائی دار،شہر کے ضرورت مند، حاجت مند غرض وہ مرجع خلائق تھے۔ ان کے پاس ہرآنے والا شخص مطمئن ہوکر رخصت ہوتا تھا۔شریف النفسی،خوش اخلاقی اور صلہ رحمی کے نیک جذبہ سے سرشار مولانا عامر سلیم خان صاحب بہتوں کی آس تھے۔آہ اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے۔ایک بڑی تعداد ان کے قریب ترین وہ لوگ تھے جو بستی اور خاص طور پر دہلی قرب وجوار کے تھے اور سبھی کو بس یہی لگتا تھاکہ حضرت ایڈیٹر صاحب کے ہم خاص ہیں۔
مجھے اپنی پہلی ملاقات ان سے کب کی ہے، یاد نہیں۔البتہ ملاقاتوں کے سلسلے، ملاقاتوں پہ اصرار اور گاہے گاہے ان کا میرے احوال دیگر صحافی صاحبان سے دریافت کرنا یاد ہے۔کئی ایک مواقع ایسے بھی ہیں جس کا ذکر یہاں بنتا ہے یہی کوئی 20سال پہلے،جمعیة علماءہند کے مہمان خانے کے باہر ہوئی تھی ،در اصل ہوا یہ تھا حضرت کے اور میرے محسن ڈاکٹر ذاکر جمال جو موصوف کے بھی گائڈراور آئڈیل تھے ،جب وہ ان سے ملنے آئے تو ان کی ملاقات حاجی شاہ نواز خان نگینہ بجنوروالے ڈاکٹر صاحب سے مخاطب ہوئے کہ منہاج کو بلاےئے تو وہ مجھکو بلا کے لائے کہ ”تمہارے نیتا جی صاحب آئے ہیں “میری خوشی کا ٹھکانہ نہیں میں بھاگا تو سب کو سامنے پایا تو ہم دونوں ہکے بکے ،انہوں نے سنبھل کر کہا کہ ڈاکٹر ذاکر جمال صاحب یہ میرا چھوٹا بھائی منہاج احمد قاسمی ہے انہیں بھی دہلی کے کسی اخبار لگوا دیجئے ،تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ یہ عامر سلیم خان صاحب ہیں یہ کام یہ کریں گے۔ عامر سلیم خان صاحب نے کہا کہ کہیں کام کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ ابھی”تحفہ خواتین“میں کام کر رہے ہیں۔ عامر سلیم صاحب نے کہا کہ”ہندوستان ایکسپریس میں جس میں ہوں رکھوا نے کی کوشش کروں گا وہ دن ہے اور مرحوم کے آخری دم تک میں ان کا روحانی اور تربیتی شاگرد رہا۔عامر خان صاحب کے بیٹے عقیقہ سے دو روز قبل میں الہ آباد میں تھا ،عامر صاحب بولے ہر حال مےں عقیقے میں شامل ہونا ہے لیکن میرے لاکھ جتن کے باوجود پہنچنے سے قاصر تھا ،میں بچنے کی سفارش لےکر کسٹم ڈپارٹمنٹ کانپور کے جاوید بھائی کے پاس گیا اور کہا کہ کہہ دیجئے میرا پہنچنا کتنامشکل ہے مجھے یاد ہے اس دن میں نے اپنے دوست اور استاد محترم کا اصلی تیور دےکھا تھا۔جس ڈر کےوجہ سے میں مال گاڑی میں بیٹھ کر دہلی اور پھر عقیقہ میں پہنچا تھا۔میں اور عامر سلیم صاحب مجھے مختلف بیٹ دیے ہوئے تھے جس میں دہلی ریاستی اور سینٹرل بی جے پی، سینٹر بیٹ پریس کلب حج کمیٹی وغیرہ بارہا عامر صاحب سے پنگا ہوا لیکن غصہ صرف آفس ٹائم تک۔سردی کا موسم تھا وہ دھوپ سینک رہے تھے۔ کچھ ناآشنا افراد کسی کام آئے تو دیکھا خدام کو ڈھونڈ تے ہوئے پریشان ہو گئے تو ہم نے پوچھا کہ آپ ناآشنا لوگوں کے لئے بے چین ہورہے ہیں وہ کہنے لگے کہ گاو¿ں سے لوگ آتے ہی اسی غرض سے ہیں اور پھر وہ بوڑھے تھے اکیلے کہاں خوار ہوتےاسی لئے۔کئی ایک نشست اور بیٹھک میں لوگوں سے ملاقات کا جو سلیقہ ان میں تھا شاید ہی اب ایسے لوگ ملیں۔ اللہ اتنے خلوص کہ آدمی شرمندہ ہوجائے رواداری اور تواضع کی اعلیٰ مثال تھے وہ۔ ایک موقعہ پر گھر کے لوگوں کے بیچ تھے انہیں معلوم ہوا کہ منہاج احمد قاسمی ،مین اسٹریم میڈیا کا باقار اعزاز یافتہ صحافی ہوگیا ہے تو اس پر وہ بے انتہا خوش ہوئے اور حاضرین کو بہت شوق سے بتانے لگے کہ میرا یہ والا یہ دوست بڑا ’پترکار‘ہے معلو ہے تم لوگوں کو۔ یہ اور اس طرح کے سینکڑوں یادادشت ذہن میں گردش کررہا ہے جو ان کے خلوص کی خوشبو سے گوندھا ہے اور ان کی فرشتہ صفت پیکر کے کینواس کو وسیع ترکررہا ہے۔ ان کی یادیں، باتیں، ان کا زیرلب مسکرانا، ملاقاتیوں سے حسب حال گفتگو کرنا۔عموماً ان کا رویہ سب کے ساتھ مشفقانہ ہوتا تھا۔مگر ہراس شخص کی ضرور پذیرائی کرتے یا حوصلہ بڑھاتے تھے جن کو ضروری سمجھتے تھے اس میں قرابت یا کوئی اور وجہ نہیں ڈھونڈھتے تھے بس اچھے کرنے والوں کو حوصلہ بڑھاتے تھے۔عمر کے اخیر حصے میں پے در پے کئی حاد ثوں سے لڈنے والے 40 روز قبل والد کو کھونے والا اتنا مضبوط صابر وشاکرانسان میں نے دوسرا نہیں دےکھا۔
آہ کیا ترتیب اور تنظیم کی تھی زندگی کی ان کی۔ زندگی بھر عجزوانکساری کے پیکر بنے رہے۔ طبقاتی درجہ بندی کے بھی بت تراش تھے وہ۔ لہٰذا وہ تعلیمی انسانی اعزازی سربلندی کےلئے بہت کوشاں رہے ورکنگ پریس کلب کے صدر بنائے گئے تو وہ اپنے مدت کار میں جونیئر صحافیوں کی تعمیر کےلئے اپنی سی کوشش کرتے رہے ابھی وہ الجمعیة اخبار کے ایڈیٹر بھی بنائے جا رہے تھے اس کے لئے وہ مقامی صحافیوں کو قائل بھی کرلئے تھے مگر پھر کام کو مکمل نہیں کر سکے اور مایوس ہوکر زندگی کی کمیٹی کی صدارت سے ازخود مستعفی ہوگئے۔
تعلیمی پسماندگی پر اکثر اظہار کرب کرتے اور تعلیمی انقلاب کے لئے عملی اقدامات پر زور دیتے تھے جب کہ اکثر دوران گفتگو علما کی بدعملی، ملی اداروں کے ذمہ داران کی بدنیتی اور بے ایمانی کو ملت کی خواری کا سبب بتلاتے تھے ایک موقعہ سے ان کا کہنا تھاکہ”تعلیمی میدان میں اپنا علاقہ پسماندہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ زمیندار اور اس کے مزارع کا علاقہ ہے ان کے ذہن میں تھا کہ پڑھائی کرنے سے کیا ہوگا۔زمیندار طبقہ تعلیمی طور پر پسماندہ رہا ہے۔ پہلے کے مقابلہ اب تعلیمی بیداری آئی ہے۔ مسلم بچے پڑھائی سے جی چراتے ہیں۔انٹر کے بعد ڈراپ آو¿ٹ ہوجاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کا حال یہ ہے کھیتی کی طرح ہے اس کو لوگ جوت رہے ہوں جیسے ان کے گھر کے بغل والا مدرسہ پتہ نہیں کب قائم ہوا تھا اس وقت ابتدائی وردو مسعود کادور تھا اور خوب پڑھائی ہوتی تھی ابھی گراوٹ آئی ہے۔ہم تعمیری کام کے بجائے مسجد قبرستان خانقاہ اور وقف زمین پر لڑتے جھگڑتے ہیں۔ صورتحال کو بدلنے کےلئے منظم جدو وجہد کی ضرورت ہے۔مسلم دانشوروں کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے تحریک اٹھنی چاہئے۔تبلیغی جماعت کی طرز پر اب تعلیمی جماعت بھی نکلنی چاہئے تعلیمی اداروں کے منتظمین اور سرکردہ ا فراد کو بے ایمانی کی عادت پڑگئی ہے”
قوم وملت کی سربلندی اور عوام الناس کی خدمت کے علاوہ شعروادب کو انہوں نے مالامال کیا ہے تصوف اور ظریفانہ شاعری کے حوالہ سے وہ ایک معتبر نام ہیں۔ مہندیان میں علم ظرافت کو جن علما نے معیار اور وقار بخشا ہے ان میں مولانا عامر سلیم خان صاحب رحمہ اللہ کا نام بھی سرفہرست ہے۔ “حضرت استاد جی کے بارے میں کچھ لکھنا بڑاکام ہے لیکن جس طرح کسی دولہا کا اپنے نکاح میں موجود رہنا انتہائی ضروری ہوتا ہے اسی طرح کسی ادیب،مصنف یا بڑے پائے کے جرنلسٹ کا اپنے مجموعہ کی اشاعت کےلئے ان کے بارے میں لکھنا اتنا ہی ضروری سمجھاگیا یے’حضرت وسیع المطالعہ کے سبب ان کی زندگی میں کشادگی تھی لہٰذا ان کی وسیع القلبی اور وسعت ظرفی کا ایک زمانہ قائل ہے۔ اب شہر ایک مشفق مربی اور سینئر لکھا ڑی و چھوٹے لکھنے والے سرپرست سے محروم ہوگیا ہے۔جو ناقابل تلافی خسارہ ہے۔اللہ رب العزت حضرت عامر سلیم صاحب رحمتہ اللہ کی بال بال مغفرت فرمائے۔ ان کے جملہ خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے اور اپنے جوار رحمت میں جگہ عطافرمائے۔ آمین۔ ان ہی کے ایک شعر پر اختتام کہ
کوئی کرے نہ ہمارا پیچھا کوئی نہ دے اب ہمیں صدائیں
کہ بیتے لمحوں کی جستجو میں ہم آج گھر سے نکل گئے ہیں












