11نومبر1888ءکو مولاناابوالکلام آزاد نے مکہ مکرمہ کی مبارک سرزمین پر اپنی آنکھیں کھولیں۔ہمارا یہ بنیادی حق ہے کہ ان کی یوم پیدائش ”یومِ تعلیم “ کے نام سے یادکریں، کیونکہ وہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم اورعظیم مجاہد آزادی تھے۔
مولانا ابو الکلام آزا د نہایت ذہین شخصیت کے حامل انسان تھے ،پندرہ سولہ برس کی عمر سے ہی آپ نے درس و تدریس اوراپنی انقلابی تحریر و تقریر سے اپنا سکّہ منوالیا تھا اور اس معمولی عمر میں کئی تاریخی اجلاس کی صدارت فرما ئی آپ خداد صلاحیتوں کے مالک تھے،ذہانت و فطانت آپ کے قطرے قطرے میں پیوست تھی،آپ کی عبقری شخصیت کا ہندوستانی سیاست پر بڑا گہرا اثر پڑا آپ ہمیشہ ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار رہے اور آپ اسی نظریہ کے حامل تھے کہ ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے ضروری ہے کہ تمام برادران وطن متحد ہو کر ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں آپ نے ہمیشہ اسی نظریہ کو عام کرنے کی کوشش کی اور یہ آپ ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ تمام باشندگان وطن ملک کی آزادی کے لئے گاندھی جی کی قیادت میں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے بالآخر اپنے وطن عزیز کوانگریزوں سے آزادی دلانے میں کامیاب و کامران ہوئے لیکن افسوس کہ یہ قومی اتحاد دیرپا ثابت نہ ہوسکا اور کچھ خود غرض سیاست دانوں کی وجہ سے ملک عزیز کے ٹکڑے ہوگئے اس وقت بھی مولانا آزاد متحد ہندوستان کے نظریہ پر قائم تھے اور پوری کوشش کی کہ ملک عزیز ٹکڑے ہونے سے محفوظ رہے۔مولانا آزادکی وہ تاریخ اوربصیرت آموز خطاب کو کون بھول سکتاہے جب مولانانے جامع مسجد کی سیڑھیوں سے لوگوں کو ملک بدرہونے سے روکنے کی کوشش کی۔مولاناآزادچونکہ ماں باپ اور بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹے ہونے کے ساتھ سب سے زیادہ حسّاس بھی تھے،اس لیے گھر کے صبح وشام کے حالات سے بہت متاثر ہوتے تھے۔ اگرچہ گھر کے لوگ سب سے زیادہ ا±نہیں کا خیال رکھتے تھے اور سب سے زیادہ غیر مطمئن بھی وہی رہتے تھے۔
والدہ کے انتقال کے بعد اگرچہ گھر کی زندگی کے معمولات اور سونے جاگنے، اُٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے، اسباق وغیرہ کا نظام وہی تھا لیکن گھر کی دنیا بدل گئی تھی۔ گھر کا ماحول اور زندگی کا وہ لطف نہیں رہا تھا جو بدلتے ہوئے موسموں کی طرح گھر کی زندگی کا خاصہ ہوتا تھا۔ اب گھر کی زندگی پر ایک سناٹا چھایا ہوا تھا،اور کبھی کبھی اور کسی وقت فضا میں ایک بلند آواز گونجتی تھی اور سناٹا چھا جاتا تھا۔ مولانا آزا د نے ‘ماں سے خالی گھرکے عنوان سے مختصر پارہ لکھا ہے، اگرچہ حالت پوری کتاب میں پھیلی ہونی چاہیے تھی اور زندگی بھر اس کا راگ ہونا چاہیے تھا، اس لیے کہ ابو الکلام کی ابھی عمر ہی کتنی تھی اور ماں کی محبت کے حظ ہی کہاں ا±ٹھا پائے تھے کہ وہ ماں کو بھول جاتے۔ لیکن ا±نہوں نے نہایت قوتِ برداشت سے ماں کی محبت کو دل میں چھپا لیا تھا۔ اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ مضمون کا آغاز ماں کی یاد اور اس کی محبت سے نہیں، باپ کی ہیبت سے ہوتا ہے۔ مولانا فرماتے ہیں:والد مرحوم کی ہیبت ا±ن کی شفقت پر غالب تھی۔ مجموعی طور پر ان کی زندگی چوں کہ بزرگی، عظمت اور عوام پر اثر سے مرکب تھی اور گھر ماں سے خالی تھا، اس لیے قدرتی طور پر ہم لوگوں کو گھر میں بھی ا±ن کا وہی اثر غالب نظر آتا تھا اور قلب اس قدر مرعوب ہو گیا تھا کہ ان کی آواز سے ہم لوگ کانپ جایاکرتے تھے۔
مولانا ابوالکلام آزاد صرف ملک کے وزیر تعلیم ہی نہیں ، بلکہ ایک بے باک صحافی تھے وہ ایسے صحافی تھے جو حق کی سربلندی کیلئے کسی حد پر رکنے والے نہیں تھے جس کی مثال اردو کا ان کا اپنا رسالہ ”الہلال“جس نے پورے ہندوستان میں ،یعنی اس وقت کا غیر منقسم ہندوستان ، ایک طوفان برپا کردیا۔ اس کی اشاعت گیارہ ہزار کے قریب ہوگئی تھی ، اس وقت رسالوں کی اشاعت پانچ سویا چھ سو سے زائد نہ تھی۔جب اخبار” الہلال “کا انگریزوں کی حکومت نے گلا گھونٹ دیا تو 1915ءمیں مولانا نے ’البلاغ‘شروع کیا مگر وہ ایک ہی سال چل سکا۔ برطانی حکومت نے مولانا کو رانچی جیل میں نظر بند کیا۔ جہاں سے وہ 1920ءمیں رہاہوئے۔ جیل کے انہی ایام میں انہوں نے قرآن کریم کی مشہور عالم تفسیر ”ترجمان القرآن “کے 23پارے مکمل کئے۔ ماہرین قرآنیات نے اس تفسیر کے بارے میں لکھا ہے کہ مولانا آزاد نے قرآن کی عربی مبین کو اردوئے مبین کے قالب میں ڈھالا ہے۔ مولانا آزاد کا یہ لا فانی کارنامہ ہے۔مولانا آزاد ایک سچے قوم پرست اور محب وطن مسلمان تھے وطن کی محبت آپ کے رگ و ریشہ میں پیوست تھی۔ آپ اپنا ایک سیاسی مسلک رکھتے تھے۔ آپ نے سیاست کی پرخاروادی میں خوب سوچ سمجھ کر قدم رکھا تھا۔ کانگریس کی قیادت کا بار ان کے کندھوں پر اس وقت تھا جب کہ آزادی ¿ ہند کی تاریخ کا سب سے پیچیدہ زمانہ تھا۔ جب کہ آزادی ¿ہند کے ساتھ ساتھ تقسیم ہند کے فلک شگاف نعرے بلند ہورہے تھے، اس وقت کے حالات کا جائزہ آپ نے جذبات کی عینک سے نہیں بلکہ دور اندیشی کی دوربین سے لیا۔ انہوں نے گلیوں کوچوں میں گونجتے نعروں پر دھیان نہیں دیا بلکہ نوشتہ¿ دیوار کو پڑھا۔ قوم کی رہنمائی اس راستے کی طرف فرمائی جو ایک صحیح راستہ تھا مگر وہ اس وقت نامنظور اور نامقبول رہا۔بحیثیت ہندوستان کے اولین وزیر تعلیم ان کی تعمیری خدمات لائق تحسین ہیں۔ انہوں نے آزاد ہندوستان کے شاندار مستقبل کےلئے سائنس، ٹکنالوجی اور میڈیکل سائنس کی تعلیم کے لئے بہترین ادارے قائم کرنے میں اپنی بے پناہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ تعلیم کے میدان میں آج ہم جتنی ترقیاں دیکھ رہے ہیں ان کی بنیادیں امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد ؒنے ہی رکھی تھیں۔
مولانا آزاد کی دینی اور عملی زندگی کے بارے میں بہت سی انگلیاں اٹھیں ، مولانا علی میاں ؒ نے ایک واقعہ کا ذکر کیا ہے کہ ہندوستان میں جب ان کا سکہ رائج الوقت تھا ہر طرف آپ کی قابلیت کا ڈنکا بج رہا ہے آپ سب کی آنکھوں کا نور بنے ہوئے تھے۔ ’الہلال ‘ کا جادو سرپر چڑھ کر بول رہاتھا۔ ہر طرف ان پر عقیدت کے پھول نچھاور کئے جارہے تھے عوام اور خواص آنکھیں بچھا رہے تھے اس وقت لکھنو¿ میں گنگا پرشاد میمورئیل ہال میں ان کی تقریر تھی سیاسی موضوع پر انہوں نے تقریر کی۔ مغرب کی نماز کا وقت ہوگیا ، مولانا علی میاں ؒ رقم طراز ہیں کہ ہال کے پیچھے ایک کشادہ جگہ تھی ، نماز کے پابند حضرات وہاں جمع ہوئے، مغرب کی نماز مولانا آزاد کی امامت میں ادا کی گئی۔ مولانا علی میاں ؒ فرماتے ہیں کہ ان کو مولانا آزاد کی امامت میں نمازِ مغرب اداکرنے کی سعادت ملی۔ اس سے ان کے مذہبی عقیدے اور عملی زندگی کی بہترین تصویر سامنے آتی ہے ورنہ برٹش قلم رو جس کی حکومت میں سورج غروب نہیں ہوا کرتاتھا اس کے خلاف اسٹیج پر للکار کریہ شیر اب خدا کے سامنے سجدہ ریز تھا۔ بڑا دلآویز منظر تھا۔
مولانا آزادماقبل ومابعد آزاد ہند کے ایک عظیم مذہبی وسیاسی رہنما تھے۔وہ نجیب الطرفین تھے۔ ایسے خانوادے میں انھوں نے پرورش و پرداخت پائی تھی جو علم وادب کی شمع زرنگار سے ضوفشاں تھا۔بیسویں صدی کی چھٹی دہائی کے اخیر تک جب تک مولانا زندہ رہے پورے ہندوستان بلکہ پوری دنیاپران کی علمیت وادبیت اور دینی وسیاسی حیثیت کا سکہ رائج رہا۔ ملک کے پہلے وزیر تعلیم کی حیثیت سے انھوں نے بڑے اہم کارنامے انجام دیے۔ ٹیکنکل ایجوکیشن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ تعلیم بالغاں کا منصوبہ بنایا اور چلایا۔ تعلیم نسواں پر زور دیا۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن قائم کیا۔ ہمیں ان کے تعلیمی وسیاسی کارناموں کو یاد کرناچاہیے ،ان کو آگے بڑھانے کی سعی کرنی چاہے ،ہماری جانب سے یہی ان کیلئے سچا خراج عقیدت ہوگا۔












