نئی دہلی، اللہ رب العالمین نے قرآن مجید کی سورۂ رعد میں واضح کردیا کہ وہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا ہے جب تک وہ قوم بذات خود اپنے دل کی پاکیزگی اورحالت کوبدلنے کی ذمہ داری نہ اُٹھالے اور اللہ نے یہ بھی واضح کردیا کہ اگر اللہ کسی کے ساتھ اس کے کرتوتوں کی وجہ سے برائی کا ارادہ فرمالیتا ہے تو اللہ کے سوا اس برائی کوکوئی بھی نہیں ٹال سکتا ہے اوراللہ کے علاوہ کوئی کارساز ہے بھی نہیں۔ اللہ رب العالمین کے انعامات انسانیت پر جس قدر عظیم ہیں آج انسان اس کی نعمتوں کا اتنا ہی ناشکر ا ہے، اللہ نے ہمیں ہمارے اعضائے جسمانی جیسی نعمت عطا فرمائی ، ہمیں پیدا کیا، ہماری رشدوہدایت کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا نبی اوررسول عطا کیا ۔ انسان زندگی کے تمام مراحل میں اللہ کی نعمتوں سے گھرا ہوا ہے لیکن افسوس کہ وہ اتنا ہی ناشکری کا شکار بھی ہے، نہ وہ نمازوں کی پابندی کرتا ہے اورنہ اللہ کے احکامات کا پاس ولحاظ رکھتا ہے ، نہ قرآن مجید جیسی مقدس کتاب کے ساتھ وفاداری کرتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آ زاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر مولانا محمدرحمانی سنابلی مدنی حفظہ اللہ نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق ، جوگابائی جامعہ نگر ، نئی دہلی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا ۔ مولانا مسلم آبادیوں میں بڑھتے جرائم اور حادثات پر گہری تشویش کا اظہار فرمارہے تھے ۔ مولانا نے فرمایا کہ آج مسلمانوں کی آبادیوں میں قتل وغارتگری، نشہ آور اشیاء اور ڈرگس کا استعمال، بدسلوکی اوربداخلاقی بالکل عام ہیں جبکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ میں بحیثیت نبی کے اس وجہ سے بھیجا گیا ہوں کہ اخلاقی اقدار کی تکمیل کردوںاوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خبردار تم میں سے ہر شخص ذمہ دار اورمسئول ہے اور قیامت کے دن اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا ۔
خطیب محترم نے مزید فرمایا کہ اس وقت ڈرگس کی بڑھتی عادت نے علاقہ کوتباہ کرڈالا ہے اور معاملہ قتل وغارت گری تک پہنچ رہا ہے جبکہ اسلام نے ہمیں جن پانچ چیزوں کی حفاظت پر ابھارا ہے وہ پانچوں چیزیں نشہ آور اشیاء کی وجہ سے تباہ ہوجاتی ہیں۔ اسلام نے ہمیں جان کی حفاظت کا حکم دیا اور آج جانیں غیر محفوظ ہیں مال کی حفاظت کا حکم دیا لیکن نشہ کی عادت نے مال پر بھی ڈاکہ ڈال کر اسے تباہ کرڈالا، عزت وآبرو کی حفاظت بھی اہم چیزوں میں سے ایک ہے لیکن نشہ کی لت میں انسان سگے اورپرائے کا فرق بھی بھول جاتا ہے اور زنا کاری کا عادی بن جاتا ہے اسلام نے ہمیں دین اور مذہب کی حفاظت کا بھی حکم دیا لیکن آج ہمارا مذہب بھی ہم سے رخصت ہوتا دکھ رہا ہے اورنشہ کی لت نے ہمیں دین سے دو ر کرڈالا ہے ۔ اسی طرح اسلام نے ہمیں عقل وشعور کی حفاظت کا حکم دیا لیکن دماغی توازن اور شعور کا فقدان بھی اسی نشہ کی وجہ سے ختم ہوتا جاتا ہے ۔ اسی وجہ سے بعض آثار میں کہاگیا ہے کہ ڈرگس ام الخبائث ہے یعنی برائیوں اورگندگیوں کی ماں ہے اور افسوس کہ ہم نئی نسلوں کو اس سے بچانے میں ناکام ہوتے جارہے ہیں۔مولانا رحمانی نے وقت کی تنگی کی وجہ سے خطبہ کوسمیٹتے ہوئے آئندہ ہفتہ خطبہ جمعہ میں منشیات کی قباحت ، ارتداد (اسلام کوچھوڑنے ) کی برائی کے بڑھتے رجحان، سود خوری اورحرام خوری کی لت، الحاد اور نئی نسل کی اسلامی تربیت کے فقدان پر گفتگو کرنے کا وعدہ فرمایا اوردعائیہ کلمات نیز دینی تعلیمات کی طرف رجوع کرنے کی اپیل پر خطبہ ختم ہوا ۔












