پٹنہ میں 12مئی کی میٹنگ اور گودی میڈیا
مرکزی اقتدار پر قابض کسی پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے اپوزیشن کی پارٹیوں کا متحدہ محاذ بنانا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔اس طرح کا محاذ انتخاب کے پہلے بھی بنتا رہا ہے اور بعد از انتخاب بھی ۔فی الوقت ایک ایسی ہی میٹنگ 12 جون کو پٹنہ میں ہونے کی خبر آئی ہے جس کے کنوینر وزیر اعلی بہار نتیش کمار ہیں ۔اس سلسلے میں نتیش کمار کئی مہینوں سے کوشاں ہیں اور انہوں نے کئی ریاستوں کا دورہ کر کے مختلف علاقائی پارٹی سربراہوں سے ملاقات بھی کی ہے ۔عام انتخاب کے پہلے اس طرح کی سرگرمی نہ تو حیرت انگیز ہے اور نہ ہی خلاف توقع ۔لیکن میڈیا کا ایک خاص حلقہ ابھی سے اس میٹنگ کی ناکامی کا اعلان کر نا شروع کر چکا ہے جبکہ ابھی اس میٹنگ کے ہونے میں بھی کم وبیش ایک ہفتہ باقی ہے ۔ ایک اخبار کی یہ سرخی قابل توجہ ہے ۔’’ پٹنہ میں اپوزیشن کی میگا میٹنگ ‘‘پھر اخبار لکھتا ہے’’ بہار کی راجدھانی پٹنہ میں 12 جون کو اپوزیشن پارٹیوں کی ایک بڑی میٹنگ ہونے والی ہے، لیکن یہ میٹنگ بے کار ہونے کی امید ہے۔‘‘اور اخبار جب یہ لکھتا ہے تو ہنسی آتی ہے کہ ’’راہول گاندھی سمیت کئی پارٹیوں کے قائدین نے اس عظیم الشان اور وسیع پیمانے پر تشہیر کی گئی میٹنگ میں شرکت کرنے سے معذوری ظاہر کی ہے۔ حالانکہ سابق مرکزی وزیر اور کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا ہے۔کہ کانگریس اس میٹنگ میں ضرور شرکت کرے گی، لیکن ابھی یہ طے نہیں ہوا ہے کہ کون سا لیڈر جائے گا۔‘‘اب ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جس میٹنگ کا انعقاد کرنے کی تحریک ہی کانگریس کی طرف سے ملی ہو اور نتیش کمار نے سب سے پہلے کانگریس صدر اور سونیا گاندھی سے ملنے کے بعد ہی اپنا قدم آگے بڑھایا ہے ایسے میں کسی اخبار کا یہ لکھنا کہ راہل گاندھی سمیت کئی لیڈروں نے اس میٹنگ میں جانے سے معذوری ظاہر کی ہے۔’’چہ معنی دارد ۔جبکہ وہی اخبار اسی خبر میں آگے لکھتا ہے کہ ‘‘جئے رام رمیش نے کہا کہ ابھی کانگریس اعلی کمان نے یہ طئے نہیں کیا ہے کہ اس میٹنگ میں کون جائے گا ۔صاف لگتا ہے کہ بسر اقتدار جماعت کی اس میٹنگ سے دھڑکنیں بڑھ گئی ہیں اور اس کے وفادار میڈیا ہاؤسز اپنے کام پر لگ گئے ہیں اور قبل از وقت ہی سے اس میٹنگ کے خلاف رائے عامہ کو خراب کرنے کی مہم میں مصروف ہو چکے ہیں ۔جبکہ ابھی اس میٹنگ کے ہونے میں دس روز باقی ہیں ۔ابھی اس میٹنگ کو’’میگا میٹنگ‘‘قرار دینا بھی قبل از وقت ہی ہوگا کیونکہ بھان متی کے اس کنبے کو جوڑنا آسان نہیں ۔جس کنبے میں ممتا بنرجی ،کمیونسٹ پارٹی ،عام آدمی پارٹی اور کانگریس بھی ہو ۔دراصل نتیش نے 12 جون کو پٹنہ میں اپوزیشن پارٹیوں کے سربراہان کی ایک میٹنگ کا اہتمام کیا ہے۔ اکھلیش یادو اور ممتا بنرجی جو اب تک ایسی میٹنگوں سے دور تھے، نے بھی اس میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف سنجے راوت نے ادھو ٹھاکرے اور شرد پوار نے بھی پٹنہ جانے کا اشارہ دیا ہے ۔ اور یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 12 جون کی یہ ملاقات 2024 کے حوالے سے اہم ثابت ہو سکتی ہے ۔
نتیش کمار کے تجربے اور ان کی شخصیت کا بھی اس میٹنگ میں اہم رول ہوگا کیونکہ انہوں نے ان تمام پارٹیوں کو یکجا کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے جن پارٹیوں کو کانگریس سے اسی طرح ڈر لگتا ہے جیسے بی جے پی سے اور وہ بی جے پی اور کانگریس سے یکساں دوری بنائے رکھنے کی حکمت عملی پر قائم ہیں ۔مثال کے طور پر ممتا بنرجی ہیں جو نہ صرف کانگریس کو نیچا دکھانے کی جگت میں ہمیشہ لگی رہتی بلکہ کمیونسٹ پارٹی کے لال جھنڈے سے انہیں ایس الرجی ہے کہ وہ لال رنگ دیکھتے ہی اس طرح بھڑکتی ہیں جیسے لال کپڑا دیکھ کر سانڈ بھڑکتا ہے ۔ابھی حال ہی میں بنگال کے ساگر دیگھی کے ضمنی انتخاب میں کانگریس اور لیفٹ فرنٹ کے مشترکہ امیدوار کا کامیاب ہونا انہیں اتنا شاق گذرا کہ انہوں نے جب تک اس ایم پی کو توڑ نہیں لیا چین کی سانس نہیں لی ۔عام آدمی پارٹی کے لیڈر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور کانگریس کے رشتے پر تو کیا بات کی جائے ۔دہلی میں حال ہی میں ایک میٹنگ کر کے جب کانگریس ہائی کمان نے ریاستی کانگریسی لیڈروں سے جب یہ جاننا چاہا کہ کیا راجیہ سبھا میں دہلی سر کار کے خلاف آئے آرڈینینس کی مخالفت میں کانگریس عاپ کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے؟ تب سارے ریاستی لیڈر نے منفی جواب دیا ۔پنجاب کانگریس کے لوگ بھی کانگریس ہائی کمان کے اروند کیجریوال کا ساتھ دینے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ ان دونوں ریاستوں کی کانگریس سرکار اروند کجریوال نے چھینی ہے ۔یہ وہ حالات ہیں جس میں 12 جون کو پٹنہ میں اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ ہو رہی ہے ۔نتیش کمار یہ جانتے ہیں کہ ان تمام علاقائی اختلاف کے باوجود کانگریس کے بغیر کسی اپوزیشن محاذ کا قیام ممکن نہیں ہے۔اور اب کرناٹک انتخاب کے نتائج نے نتیش کمار کے سچ کو سب کے سامنے لاکر رکھدیا ہے ۔کانگریس خود بھی ابھی 2024کے عام انتخاب سے قبل ہونے والے چھتس گڈھ ،مدھیہ پر دیش اور راجستھان میں ہونے والے ضمنی انتخاب کو کسی بھی قیمت پر جیتنے میں اپنی پوری توانائی سرف کر رہی ہے۔لہٰذا اسے اس کی مطلق پرواہ نہیں ہے کہ اس میٹنگ کا کیا انجام ہوتا ہے۔وہ جانتی ہے کہ ان ریاستوں کے اسمبلی انتخاب میں اگر اس نے اچھا اسکور کیا تو پھر 2024اس کے لئے آسان ہو جائیگا ۔اور کانگریس کا یہ سوچنا خلاف عقل بھی نہیں۔لیکن اس دوران اپوزیشن اتحاد میں دراڑ کے آثار بھی آنے لگے۔ سب سے پہلے، ڈی ایم کے سربراہ اسٹالن نے 12 جون کی مصروفیت کا حوالہ دیتے ہوئے میٹنگ کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ کانگریس اور ممتا کی موجودگی نے سی پی ایم لیڈر سیتارام یچوری کو بے چین کردیا۔ ذرائع کے مطابق یچوری پہلے ہی 12 جون کو اپنی مصروفیات کا حوالہ دے چکے ہیں، لیکن نتیش اور لالو نے کہا کہ میٹنگ کی تیاریاں مکمل ہیں۔ اب اس سے بچنا ممکن نہیں۔ ایسے میں اب اسٹالن، کانگریس اور یچوری کو اپنے نمائندے بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔دراصل، کانگریس ممتا اور اکھلیش کے ساتھ پھنسی ہوئی ہے، جب کہ سی پی ایم اور ممتا کے اعداد و شمار اب بھی الجھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ‘ہم ساتھ ساتھ ہیں کا نعرہ، جیسا کہ اس کا پرچار کیا جا رہا ہے، کم از کم 12 جون کو پٹنہ کی سرزمین پر اترتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔نتیش حکومت نے ایک اور قانون کو کمزور کیا، شراب پر پابندی میں نرمی!کانگریس اپوزیشن اتحاد کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ذرائع کے مطابق کانگریس بہرحال نومبر اور دسمبر تک اپوزیشن اتحاد کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ پارٹی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں لینا چاہتی۔ تب تک کانگریس کئی ریاستوں میں جیت کر اپنی سودے بازی کی طاقت بڑھانا چاہتی ہے۔ ساتھ ہی اسے لگتا ہے کہ تب تک باقی ساتھیوں پر تفتیشی ایجنسیوں کا دباؤ بھی ختم ہو جائے گا۔
(شعیب رضا فاطمی )












