نئی دہلی 1مارچ شعیب رضا فاطمی
بہار میں ذات کی بنیاد پر مردم شماری کا آغاز ہوتے ہی پورے ملک میں اب اس کی حمایت شروع ہو گئی ہے ۔چھتیس گڈھ میں ہوئی کانگریس کے قومی کنونشن کے اعلامیہ میں بھی اس کی حمایت کا اعلان کیا گیا ۔اور جیسے ہی ذات کی بنیاد پر مردم شماری کے حق میں کانگریس کو بھی کھڑے ہوتے دیکھا بی ایس پی سپریمو مایا وتی کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی اور انہوں نے ٹوئیٹر کے ذریعہ کانگریس اور بی جے پی دونوں پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں رہتے ہوئے کانگریس کو دلتوں کی یاد نہیں آتی لیکن اقتدار سے ہٹنے کے بعد انہیں دلتوں اور پچھڑوں کی یاد آتی ہے ۔واضح ہو کہ یوپی میں سماج وادی پارٹی مسلسل اس کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جبکہ بی جے پی اس معاملے میں تذبذب کا شکار ہے وہیں بی ایس پی بھی اس میں چھپا سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے ذات کی بنیاد پر کی جانے والی مردم شماری کو لے کر بڑا بیان دیا ہے۔ اتوار کے روز، سوشل میڈیا پر اپنا بیان درج کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "کانگریس پارٹی نے رائے پور اجلاس میں ذات پات کی مردم شماری اور پرائیویٹ سیکٹر میں ریزرویشن وغیرہ کے حوالے سے جو باتیں کہی ہیں وہ دھوکہ ہے اور ان کی انتخابی خود غرضی کی سیاست ہے، کیونکہ اقتدار میں رہتے ہوئے کانگریس اس کے بالکل برعکس کرتی ہے اور بی
جے پی کا رویہ بھی دھوکہ دینے والا ہی ہوتا ہے ۔

بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی کی جانب سے پروموشن میں ریزرویشن کے اہم مسئلہ پر ایس پی پر دباؤ ڈال کر متعلقہ بل کو پارلیمنٹ میں منظور نہ ہونے دینے کی ذات پات کی سازش کو کون بھول سکتا ہے، جو بہت افسوسناک ہے۔ اور یہ طبقے آج تک افسوس ناک نتائج بھگت رہے ہیں۔”
بی ایس پی کی سربراہ یہیں نہیں رکیں، انہوں نے کہا کہ ’’ان بی ایس پی مخالف جماعتوں کی سازش کا نتیجہ ہے کہ سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں پچھڑوں کا ریزرویشن تقریباً غیر فعال اور غیر موثر ہو گیا ہے اور ان کی مخصوص نشستیں برسوں سے خالی پڑی ہیں۔ جبکہ EWS کا نیا نافذ کردہ کوٹہ حکومت فوری طور پر بھرتی ہے۔ اس لیے ہر سطح پر احتیاط ضروری ہے۔”
مایا وتی نے ایک اور میٹنگ میں کہا کہ "صرف یہی نہیں، کانگریس اور دیگر ذات پرست پارٹیاں اقتدار میں رہتے ہوئے، خاص طور پر دلت اور آدیواسی طبقات کو پارٹی تنظیم میں اعلیٰ عہدوں سے دور رکھتی ہیں، یعنی اچھے وقت میں صرف دوسرے طبقات کو ہی نوازا جاتا ہے۔ لیکن اقتدار سے باہر آکر مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں۔
دراصل کانگریس کا 85واں کنونشن گزشتہ ہفتے چھتیس گڑھ میں منعقد ہوا۔ جس میں کانگریس نے ذات پات کی مردم شماری اور پرائیویٹ سیکٹر میں ریزرویشن سمیت کئی مسائل پر بیان دیا۔ جس پر اب بی ایس پی سربراہ مایاوتی کا ردعمل آیا ہے۔
اس سے قبل اکھلیش یادو نے کچھ دن پہلے ودھان سبھا میں ذات پات کی مردم شماری کا مسئلہ اٹھایا تھا اور اس مسئلہ کو اپنا سیاسی مدعا بتایا ۔ اس کے بعد مایاوتی بھی اس معاملے پر مسلسل بیانات جاری کر رہی ہیں۔ دراصل وہ جانتے ہیں کہ پسماندہ طبقہ کی اس سیاست میں انہیں بھی جگہ بنانی ہوگی۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہیں، تو ایک بار پھر انہیں دلت ووٹ بینک کی بنیاد پر سیاسی ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔












