حیدرآباد ،پریس ریلیز،ہماراسماج:بامعنی مکالمہ، تنقیدی شعور اور علمی اختلاف ہی کسی قوم کی تعلیمی ترقی کی بنیاد ہیں، اور اساتذہ کی بہترین تربیت ایک بہترین قوم کی ضمانت ہے۔ ان خیالات کا اظہار وائس چانسلر مانو پروفیسر سید عین الحسن نے کیا۔ وہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں صدارتی خطبہ دے رہے تھے۔ اس کانفرنس کا عنوان "قومی تعلیمی پالیسی 2020: اساتذہ کی تعلیم کے لیے مستقبل کی راہیں” ہے۔ اس بین الاقوام ی کانفرنس کا انعقاد مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے یونیورسٹی آف حیدرآباد کے اشتراک سے کیا۔ پروفیسر عین الحسن نے کہا کہ علم کی اصل روح، مکالمہ ہے۔ جبکہ اختلافِ رائے کے ساتھ بامعنی گفتگو تعلیمی ترقی کی راہ ہموار کرتی ہے۔ ان کے مطابق اساتذہ افراد کی تشکیل کرتے ہیں اور افراد قوموں کی تعمیر کا ذریعہ بنتے ہیں۔ہائبرڈ موڈ میں منعقد کی جانے والی اس کانفرنس میں ملک و بیرون ملک سے 450 سے زائد ماہرین تعلیم، تعلیمی منتظمین، پالیسی ساز، محققین اور اساتذہ شرکت کر رہے ہیں۔پروفیسر چندر بھوشن شرما نے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبہ دیا۔ ونوبا بھاوے یونیورسٹی، ہزاری باغ کے وائس چانسلر پروفیسر بھوشن شرما کے مطابق قومی تعلیمی پالیسی 2020 اساتذہ کو محض مضمون پڑھانے والا نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کا قائد تصور کرتی ہے۔نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (NCTE) کے چیئرپرسن پروفیسر پنکج اروڑا نے اپنے افتتاحی آن لائن پیغام میں کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کا مرکز و محور استاد ہے۔ ہم تدریس کے روایتی تصور سے نکل کر فکری دریافت اور پیشہ ورانہ خودمختاری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ مربوط اساتذہ تعلیمی پروگرام (ITEP) اساتذہ کی تیاری میں معیار اور وقار کو یقینی بنائے گا۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن (نیپا) کی وائس چانسلر پروفیسر ششی کلا ونجاری نے کہاکہ تعلیم انسانی شخصیت کی ہمہ جہت نشوونما کا ذریعہ ہے، اور مضبوط اساتذہ کے بغیر ترقی یافتہ بھارت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔بنارس ہندو یونیورسٹی کے ڈائرکٹر، IUCTE، پروفیسر پریم نارائن سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہاگر ہم سو سال کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں انسان سازی پر توجہ دینی ہوگی، اور یہ کام صرف ایک باصلاحیت استاد ہی انجام دے سکتا ہے۔مانو کے رجسٹرار پروفیسر اشتیاق احمد نے بھی اجلاس کو مخاطب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی کانفرنسیں تعلیمی اداروں، ریگولیٹری باڈیز اور پالیسی سازوں کے درمیان مضبوط ربط قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں اور ان کے نتائج قومی تعلیمی اصلاحات کے لیے رہنما ثابت ہوں گے۔ استقبالیہ خطاب میں پروفیسر ایم ونجا، ڈین، اسکول آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ، مانو نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 اساتذہ کی تعلیم میں ایک جامع اور دور رس تبدیلی کا خاکہ پیش کرتی ہے، جس کا مقصد معیاری، لچکدار اور مستقبل سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کی تشکیل ہے۔کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے پروفیسر شاہین شیخ، صدر شعبہ تعلیم و تربیت، مانو نے کہا کہ یہ کانفرنس پالیسی اور عملی نفاذ کے درمیان خلیج کو کم کرنے اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تیاری کو مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔اس موقع پر کانفرنس سووینئر، اسکول آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ کے نیوز لیٹر اور ‘Artificial Intelligence for Education and Sustainability’کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب کی باضابطہ رونمائی عمل میں آئی۔افتتاحی پروگرام کی نظامت ڈاکٹر اشرف نواز اور ڈاکٹر محسنہ انجم انصاری نے مشترکہ طور پر انجام دی۔ افتتاحی اجلاس کے اختتام پر شکریہ کی رسم پروفیسر اختر پروین نے ادا کی ۔ افتتاحی اجلاس کا آغاز طالب علم محمد سلمان کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا۔ کانفرنس کے دوسرے دن مختلف پلینری اور تکنیکی سیشنز کے ذریعے اساتذہ کی تعلیم کے مستقبل سے متعلق سفارشات مرتب کی جائیں گی۔












