میڈیا جمہوریت کا وہ مضبوط ستون ہے جو حکومت کو آئینہ دکھانے اور راستے سے بھٹکتی حکومت کو لگام کسنے کا کام کرسکتا ہے بلکہ میڈیا میں وہ طاقت ہے جو ایک آمرانہ حکومت کو سیدھے راستے پر بھی لانے کا کام کرسکتی ہے بشرطیکہ غیر جانبداری کو ملحوظ رکھا جائے غیر منصفانہ طرز عمل سے رکا جائے خبروں کے درمیان مذاہب کے پردے کو حائل ہونے سے بچایا جائے تب بلا جھجھک یہ کہا جاسکتا ہیکہ جمہوریت کا مضبوط ستون اپنا کام بخوبی ادا کررہا ہے اگر میڈیا حکمرانوں کے گن گانے لگتی ہے یا صرف حکومتوں کی خوبیوں کو پیش کرتی ہے لیکن خامیوں کی پردہ پوشی کرتی ہے تو اس جمہوری ملک کی حکومت ایک تانا شاہ حکومت بن جاتی ہے جو من چاہے فیصلے صادر کرنے لگتے ہیں جسکی وجہ سے انصاف کی دھجیاں آڑائی جاتی ہیں جسکو مجموعی طور پر جمہوریت کا قتل بھی کہاجاسکتا ہے۔
ہمارے ملک میں اکثر یہ دیکھا جاتارہا ہیکہ قومی میڈیا کی اکثریت حکمرانوں اور انکی حکومت کے قصیدے پڑھنے میں ذرا سا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی حالانکہ یہ دور ٹکنالوجی کا ہے میڈیا سے بڑھ کر سوشیل میڈیا کا ہے پھر بھی اس قومی گودی میڈیا اور حیقیقت کا آئینہ سوشیل میڈیا ان دونوں میں بہت بڑا تضاد نظر آنے لگتا ہےوہ اسلیئے کہ جو خبر جو حکومت مخالف ہو گودی میڈیا نہیں بتاتی وہی خبرصارفین سوشیل میڈیا کی مدد سے دیکھتے ہیں موجودہ ملک کی قومی میڈیا کا یہ حال ہیکہ وہ کبھی حکومت اور حکمرانوں کے خلاف کھڑی نہ ہوسکی جسکی وجہ سے میڈیا کا دبدبہ اور رعب ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے لیکن آج بھی وہی دبدبہ اور رعب جما ہوا ہے صرف انہی کا جو حق گوئی سے کام لیتے ہیں جوسچ کو جھوٹ بتاکر پیش نہیں کرتے حکومت کے غیر آئینی فیصلوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہتے ہیں انکے کرتوتوں کو کھول کھول کر عوام کے سامنے لاتے ہیں اور انکی خوبیوں کو سراہتے بھی ہیں اور خامیوں کا آئینہ بھی دکھانے پس و پیش نہیں کرتے یہی دراصل اصل میڈیا اور صحافت کا معیار حق ہے لیکن آج کے اس بھارت میں ہر چیز بازار فروخت کا حصہ بن چکی ہے جو خود ہی اپنی عزت کو داؤ پر لگا رہی ہے آج ان ہی مٹھی بھر گودی میڈیا کا خمیازہ حق گو میڈیا کو بھگتنا پڑ رہا ہے چونکہ موجودہ تانا شاہی حکومتیں حق گو میڈیا کو مخدوش کرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ حق گو میڈیا کے وجود کو ختم کیا جاسکے۔
سپریم کورٹ کی بنچ چیف جسٹس آف انڈیا وائی چندر چوڑ اور جسٹس ہیما کوہلی نے بدھ کے روز ملیالم نیوز چینل میڈیا ون پر مرکز کی طرف سے ٹیلی کاسٹ پر لگائی گئی پابندی کو منسوخ کر دیاعدالت نے حکومت سے کہا کہ وہ چار ہفتوں کے اندر نیوز چینل کو نشریات کیلئے اجازت کی تجدید کرے
چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ہیما کوہلی پر مشتمل بنچ نے زبردست انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت شہریوں کو قانون کے تحت فراہم کردہ ان کے حقوق سے محروم کرنے کے لیے قومی سلامتی کے نام کا غلط طور پراستعمال کر رہی ہےمیڈیا ون چینل کی نشریات 31 جنوری 2022 کو بند کر دی گئی تھیں جب مرکز نے ”سیکیورٹی وجوہات“ کا حوالہ دیتے ہوئے اس کا ٹیلی کاسٹ معطل کردیا تھاجبکہ کیرالہ ہائی کورٹ نے گذشتہ سال مارچ میں مرکز کے فیصلےپر حامی بھردی تھی کہ ہائی کورٹ نے اس معاملے کے بارے میں خفیہ فائلوں کی جانچ کی اوربعد میں یہ وضاحت کی کہ واقعی اس چینل سے قومی سلامتی کوخطرہ لاحق ہےاس کے بعد انصاف کیلئے میڈیا ون چینل سپریم کورٹ سے رجوع ہوا سپریم کورٹ نے مرکز کو وہ تمام فائلوں کو پیش کرنے کی ہدایت دی تھی جسکی بنیاد پر مرکز نے اس نیوز چینل کے لائسنس کی تجدید سے انکار کر دیا تھافائلوں کی جانچ پڑتال کے بعد سپریم کورٹ نے ایک عبوری حکم جاری کیا جس میں چینل کو کام جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی بنچ نے بدھ کو میڈیا ون پر سے پابندی برخواست کردی سپریم کورٹ نے کہا کہ ہائی کورٹ کے پاس مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے مہر بند لفافے میں جمع کرائے گئے دستاویزات کی بنیاد پر کیس کا فیصلہ کرنے کا جواز نہیں تھاسپریم کورٹ نےیہ بھی کہا کہ قومی سلامتی کے تحفظات ریاست کو منصفانہ کام کرنے سے نہیں روکتےاگر ریاست منصفانہ طور پر کام کرنے کے اپنے فرض کو ترک کرتی ہے تو اسے عدالت اور کیس کے حقائق کے سامنے جواز پیش کیا جانا چاہیے بلکہ اگر چارج شیٹ کا معاملہ بھی ہوتو اسکا جواز بتانا ہی ہوگا سب سے پہلے ریاست کو چاہیئے کہ وہ عدالت کو مطمئن کرے کہ قومی سلامتی کے خدشات اس میں شامل ہیں عدلیہ نے کہا کہ چینل کو بتانا ہوگا کہ آخر اسکی کونسی غلطی سے ملک کی سلامتی کو خطرہ ہے بنچ نے کہا کہ مرکز نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ کیوں میڈیا ون کو لے کر حکومت کے فیصلے کی وجوہات کا انکشاف کرنا قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہوگا اس نے زور دے کر کہا کہ محض ”قومی سلامتی“ کا تذکرہ کرنے سے عدالتی نظرثانی کے فیصلے کو خارج نہیں کیا جائے گابنچ نے کہا ریاست قومی سلامتی کو قانون کے تحت فراہم کیے جانے والے شہریوں کے حقوق سے انکار کرنے کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہے یہ قانون کی حکمرانی سے مطابقت نہیں رکھتا جبکہ مرکز نے شہریت ترمیمی قانون اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن(CAA,NRC) پر چینل کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس میں اسٹیبلشمنٹ مخالف موقف ہےعدالت نے تاہم کہا کہ یہ اس کے براڈکاسٹ لائسنس کی تجدید سے انکار کرنے کی بنیاد نہیں ہو سکتاعدالت نے مزید کہا کہ کسی بھی جمہوری ملک کیلئے خود مختار اور آزاد صحافت بہت ضروری ہے عدالت نے زور دے کر کہا کہ پریس کا فرض ہے کہ وہ حق گوئی سے کام لےاور شہریوں کے سامنےحقائق پیش کرے عدالت نے یہ بھی کہا کہ میڈیا ون میں جماعت اسلامی ہند سے منسلک ہونے کا الزام جھوٹا ہے کیونکہ اسمیں کوئی بھی شواہد موجود نہیں ہے بلکہ اگر جماعت اسلامی کے شیئر ہولڈر بھی ہوتے تب بھی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔
عدالت اعظمی کی اس دلچسپ بحث اور فیصلے نے انصاف پسند اور حق گو حامیوں کے حوصلوں میں اضافہ کردیا ہے بلکہ ایک ایسی جمہوری طاقت عطا کی ہے کہ قانون کےسامنے جھوٹ کے منہ پر پوت لگ ہی جاتی ہے حکومت میڈیا ون کی غیر جانبداری رپورٹنگ کو سماج سے ختم کرنا چاہتی تھی اسی لیئے ملک کی سلامتی کے خطرے کا بہانہ بناکر کیرالا ہائی کورٹ سے فیصلہ تو اپنے حق میں لے لیا تھا لیکن داد دینی ہوگی عدالت اعظمی کی جس کی بنچ نے انتہائی باریک بینی سے ہر نکتہ پر بحث کی اور مدلل جوابات بھی دیئے جسکے بعد حکومت کے پاس ملک کی سلامتی کے خطرات کے نہ کوئی ثبوت پائے گئے اور نہ کوئی ایسا مشکوک کردار پایا گیا ہوگا بھی کیسے کیونکہ جب سب کچھ مہر بند لفافے میں دستاویزات پیش کیئے گئے ہوں تعجب تو کیرالا ہائی کورٹ پر بھی ہے کہ آخر کس بنیاد پر ہائی کورٹ نے میڈیا ون پر پابندی عائد کی تھی؟عدالت اعظمی کے اس فیصلے کے بعد کیرالا ہائی کورٹ اور حکومت دونوں کو سچائی کاآئینہ دکھایا بہر حال عدالت اعظمی کے اس فیصلے نے ثابت کر دکھایا کہ سچ کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے اور یہ فیصلہ ملک کی جانبدار میڈیا کیلئے بھی ایک بڑا سبق ہے کہ غیر جانبداری سے ہی ملک کی سلامتی قائم رہ سکتی ہے ورنہ حال یہی رہا تو اسکے برے نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے آج غیر جانبدار میڈیا ون پابندی کے باوجود بھی اسکی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا یعنی جتنا اسکی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی وہ اتنا ہی ابھرتا گیا بالآخر میڈیا ون حکومت کے شکنجہ سے آزاد ہو ہی گیا۔












