غزہ:عرب ثالثین کے ہمراہ امریکہ نے بدھ کے روز غزہ میں 14 ماہ پرانی جنگ روکنے کے لیے ایک معاہدہ طے کرنے کی کوشش کی غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں مزید 50 سے زیادہ فلسطینی جام شہادت نوش کرگئے، مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فائرنگ سے 2 فلسطینی شہید ہوئے۔
فلسطینی صدر محمود عباس قاہرہ میں غزہ جنگ بندی پر مذاکرات کے لیے قاہرہ پہنچ گئے، امریکا کا کہنا ہے کہ انہیں فریقین کے معاہدے کے قریب پہنچنے کا یقین ہے۔
منگل کو قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ جنگ بندی اور اسرائیل کے زیرِ حراست فلسطینی قیدیوں کے بدلے غزہ میں اسیر اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے آئندہ دنوں میں ایک معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں۔طبی ماہرین نے بتایا کہ شمالی قصبے بیت لاہیا میں ایک گھر پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے جہاں اکتوبر سے فوجی دستے کام کر رہے ہیں جبکہ غزہ شہر، وسطی علاقوں میں نصیرات کیمپ اور مصر کے ساتھ سرحد رفح کے قریب الگ الگ فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک ہو گئے۔
امریکی انتظامیہ نے مصر اور قطر کے ثالثین کے ہمراہ حالیہ دنوں میں مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں، اس سے پہلے کہ صدر جو بائیڈن اگلے ماہ عہدہ چھوڑ دیں۔بدھ کے روز مذاکرات کے بارے میں قریبی معلومات کے حامل ایک فلسطینی اہلکار نے کہا کہ ثالثین نے معاہدے کی بیشتر شقوں پر اختلافات کم کر دیئے تھے لیکن انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے ایسی شرائط پیش کیں جو حماس نے مسترد کر دیں۔ البتہ انہوں نے تفصیل نہیں بتائی۔
دیگر باخبر ذرائع نے بتایا کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنس کی بدھ کے روز دوحہ میں قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آلِ ثانی سے ملاقات طے شدہ تھی تاکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان بقیہ اختلافات ختم کیے جائیں۔ سی آئی اے نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔مئی میں بائیڈن کا پیش کردہ معاہدہ طے کروانے کی کوششوں کے سلسلے میں اسرائیلی مذاکرات کار بھی پیر کو دوحہ میں تھے۔گذشتہ ایک سال کے دوران مذاکرات کے بارہا دور ہو چکے ہیں جن میں سے تمام ہی ناکام رہے کیونکہ اسرائیل غزہ میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے پر بضد رہا اور حماس نے غزہ سے اسرائیلی فوجیوں کے انخلاء تک یرغمالیوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا۔یاد رہے کہ غزہ میں اسرائیلی مظالم میں 45000 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں بربریت کا سلسلہ کسی صورت تھمنے کا نام نہیں لے رہا، شمالی غزہ میں جبالیا، بیت حنون اور بیت لاہیا کا محاصرہ 70 روز سے جاری ہے، قابض فوج کی جانب سے المواصی کیمپ پر بھی بمباری کی گئی ہے۔خبر ایجنسی نے جنگ بندی چند دن میں ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ حماس کا کہنا ہے معاہدہ اسی وقت کیا جائے گا جب اسرائیل نئی شرائط نہ لگائے۔دوسری جانب شام کے دارالحکومت دمشق کے باہر ایک اجتماعی قبر دریافت ہوئی ہے، جس میں ہزاروں افراد کی باقیات ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔












