جےپور: ہندوستان کی بین الاقوامی ٹریک سائیکلسٹ میناکشی روہیلا نے اپنی کامیابی میں والد کی انتھک محنت اور مضبوط عزم کو بنیادی سبب قرار دیا ہے۔ کھیلو انڈیا یونیورسٹی گیمز کے دوران سوائی منسنگھ اسٹیڈیم، جے پور میں یو این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے چار بار کی ایشیا کپ گولڈ میڈلسٹ نے کہا کہ ان کے والد نے سماجی دباؤ کے باوجود ہمیشہ ان کی بھرپور حمایت کی۔میناکشی کا کہنا تھا”میرے والد بہت اچھے ہائی جمپر تھے، لیکن مناسب سہارا اوربر وقت مدد نہ ملنے کی وجہ سے وہ آگے نہیں بڑھ پائے۔ لیکن انہوں نے ہمیشہ میرے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ ہمارے گاؤں کے لوگ چاہتے نہیں تھے کہ وہ اپنی بیٹی کو کھلاڑی بننے دیں، لیکن وہ میرے لیے ثابت قدم رہے۔ گاؤں کی حالت ایسی تھی کہ کبھی کبھی وہ مجھے چھپ کر ٹریننگ کراتے اور وہ میرے کھیل میں سنجیدہ ہونے سے زیادہ میری کامیابی کے لیے پرعزم تھے۔میناکشی کے والد، نرنندر روہیلا، ہریانہ کے ضلع جھجھر کے گاؤں دوبلدھان مجرا کے چھوٹے تاجر ہیں۔میناکشی نے اپنی سائیکلنگ کی شروعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شروع میں میں ٹریک اینڈ فیلڈ کی کھلاڑی تھی۔ ایک بار مجھے بیک ڈسک کی چوٹ لگی جس پر کچھ عرصہ کے لئے بستر پر آرام کی ہدایت دی گئی۔ اس کے بعد بحالی کے لیے مجھے سائیکلنگ کی مشق کرنے کا مشورہ دیا گیا، لیکن جیسے ہی میں نے شروع کیا، مجھے اس میں شدید دلچسپی ہو گئی۔ جو کھلاڑی ایتھلیٹکس کر سکتا ہے وہ دیگر کھیل بھی کر سکتا ہے اور میں نے ایتھلیٹکس سے حاصل شدہ اسٹیمینا اور برداشت کو سائیکلنگ میں استعمال کیا۔میناکشی نے ہر مقابلے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا”میں ہر مقابلے میں اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتی ہوں، چاہے وہ بین الاقوامی ٹورنامنٹ ہو یا یونیورسٹی کی سطح کا مقابلہ۔ میں ہمیشہ اپنی بہترین ٹائمنگ کو توڑنے کی کوشش کرتی ہوں۔”میناکشی نے بی پی ایڈ مکمل کر رکھی ہے اور اب بی کام کی تعلیم گرو نانک دیو یونیورسٹی، امرتسر سے حاصل کر رہی ہیں۔انہوں نے امریکی سائیکلسٹ اور چار بار کی اولمپک میڈلسٹ کلوئی ڈیگرٹ کو اپنا رول ماڈل قرار دیا، جنہوں نے شدید زخمی ہونے کے بعد شاندار واپسی کر کے اپنا ریکارڈ توڑا۔میناکشی نے سائیکلنگ کے مہنگے ہونے پر بھی روشنی ڈالی:سائیکلنگ مہنگا کھیل ہے، ایک مقابلہ کے لیے سائیکل 6-7 لاکھ روپے میں آتی ہے۔ اس وجہ سے کئی کھلاڑی کھیل چھوڑ دیتے ہیں، لہٰذا کھلاڑیوں کو حکومت اور کارپوریٹ سپورٹ کی ضرورت ہے۔انہوں نے اپنی ترقی میں اسمیتا لیگ کے کردار کو بھی سراہا، جو خواتین کی کھیل میں شمولیت کو فروغ دینے کے لیے کھیلوں کی یونیورسٹی پروگرام کے تحت لیگ اور مقابلے منعقد کرتی ہے۔مستقبل کے منصوبے:ہم 2026 میں بین الاقوامی مصروف سیزن کے لیے تربیت کر رہے ہیں، ایشیا کپ، ایشیائی چیمپیئن شپ، ایشیائی کھیل اور کامن ویلتھ گیمز میں حصہ لیں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ ٹیم عالمی چیمپیئن شپ کے لیے کوالیفائی کریں۔میناکشی کی کامیابیاں کھیلو انڈیا یونیورسٹی گیمز2025 میں 30 کلومیٹر انفرادی روڈ ایونٹ – گولڈ 80 کلومیٹر روڈ ریس – گولڈ 4 کلومیٹر ٹریک ایونٹ – گولڈ 10 کلومیٹر انفرادی اسکریچ ریس – گولڈ انفرادی پرسیوٹ ایونٹ – سلور۔












