قطر:اقوام متحدہ میں سیاسی امور کی ذمے دار روز میری ڈیکارلو کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے کے آخر میں قطر میں افغان طالبان کے ساتھ منعقد ہونے والے اجلاس کا مقصد طالبان کو بین الاقوامی طور پر تسلیم کرنے کا معاملہ زیر بحث لانا نہیں ہے۔اقوام متحدہ کے زیر قیادت اجلاس میں تقریبا 25 ممالک کے نمائندے شرکت کریں گے۔ یہ دوحہ میں اپنی نوعیت کا تیسرا اجلاس ہے تاہم افغان تحریک طالبان کی شرکت کے ساتھ پہلا اجلاس ہو گا۔ واضح رہے کہ اگست 2021 میں بین الاقوامی افواج کے مکمل انخلا کے بعد طالبان کی جانب سے اقتدار سنبھال لینے کے بعد سے اب تک اس حکومت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔روز میری ڈیکارو نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "یہ اجلاس (طالبان کو) تسلیم کرنے کے لیے نہیں ہے۔ اس میں شرکت کا مطلب انہیں تسلیم کرنا نہیں ہے۔ اس معاملے کا تعلق طالبان سے نہیں بلکہ یقینا افغانستان اور اس کے عوام سے ہے”۔اقوام متحدہ کے زیر قیادت اس اجلاس کا مقصد تحریک طالبان کے ساتھ رابطہ ہے تا کہ لاکھوں افغان شہریوں کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اجلاس میں جن امور پر توجہ مرکوز ہو گی ان میں مکالمے میں پیش رفت ، نجی سیکٹر کی سرگرمیاں اور انسدادِ منشیات شامل ہے۔روز میری ڈیکارلو کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات کے حوالے سے بہت سی شکایات مل رہی ہیں کہ (طالبان کی جانب سے) مذاکرات کی میز پر افغان خاتین کیوں نہیں ہیں ؟ سول سوسائٹی کی نمائندگی کیوں نہیں ہے ؟ یہ افغانستان کی اندرونی بات چیت نہیں ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ ہم کسی روز اس نقطے پر پہنچ جائیں گے” ۔












