ایتھنز، (ہ س)۔ یونان اور ترکیہ کے درمیان واقع بحیرہ ایجیئن میں چیوس جزیرے کے ساحل پر یونانی کوسٹ گارڈ کے ایک گشتی جہاز اور مہاجرین اور پناہ گزینوں کو لے جا رہی ایک کشتی کے درمیان ٹکر میں 15 لوگوں کی موت ہو گئی۔ ان میں سے 14 کی لاشیں سمندر سے برآمد کی گئیں۔یونانی نیشنل براڈکاسٹر ای آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق، بچائے گئے 24 مہاجرین میں سے ایک کی پاس کے اسپتال میں چوٹوں کے سبب موت ہو گئی۔ محکمہ صحت کے افسران کے مطابق، مرنے والوں میں 11 مرد اور چار خواتین شامل ہیں۔یہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 9.00 بجے ہوا۔ زخمیوں میں کئی بچے اور دو حاملہ خواتین شامل ہیں۔ دونوں خواتین درد برداشت نہیں کر پائیں اور مبینہ طور پر حمل ضائع ہو گیا۔ نیشنل ایمرجنسی ایڈ سینٹر کے مطابق، بچائے گئے زیادہ تر لوگوں کو معمولی چوٹیں آئیں۔ کچھ لوگ ابھی بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ تلاش اور بچاو مہم جاری ہے۔ اس مہم میں چار کوسٹ گارڈ جہاز، رضاکار غوطہ خوروں کو لے جا رہی ایک نجی کشتی اور ایک ہیلینک فضائیہ کا ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔یونان کے سرکاری ریڈیو ای پی ٹی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، زخمیوں کی تعداد بڑھ کر 25 ہو گئی ہے۔ رات تقریباً 12 بجے زخمیوں میں سے ایک خاتون کو چیوس اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ زخمیوں میں دس بچے ہیں۔ اسی درمیان، دو کوسٹ گارڈ افسران بھی زخمی ہوئے ہیں اور انہیں اسپتال لے جایا گیا ہے۔ اوینوسس کے میئر جیوگوس ڈینیل نے کہا کہ گشتی جہاز اوینوسس میں تھا۔ اسی نے مہاجر کشتی کو دیکھا۔یونان کے نیوز آوٹ لیٹ پروٹوتھیما کی رپورٹ کے مطابق، چیوس کا یہ واقعہ کوسٹ گارڈ اور مہاجر اسمگلروں کے درمیان ہوئی ٹکر کا نتیجہ ہے۔ کوسٹ گارڈ کے گشتی جہاز پر چھوٹی کشتی پر سوار اسمگلروں نے ہی پینترے بازی کرتے ہوئے ٹکر ماری۔ اس سے افراتفری مچ گئی۔ کوسٹ گارڈ کی کارروائی میں کئی مہاجرین مارے گئے۔ کئی زخمی ہو گئے۔ یہ لوگ مرسینیڈی علاقے کے بتائے گئے ہیں۔ اس دوران فائرنگ کی بھی خبریں ہیں۔ مگر ان کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ کشتی میں تقریباً 35 لوگ سوار تھے۔












