آخر کار آزادی کے محض پچھتر برس بعد وہ دن بھی آگیا جب ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو ایک ریاست سے انخلا کا حکم دے دیا گیا ۔اور ان حکم دینے والوں پر عدالتی حکم کے باوجود انتظامیہ کوئی کارروائی کرنے کو تیار نہیں، شر پسندی کا یہ وہی پیٹرن ہے جس کے تحت پہلے اترکاشی کے قصبہ پرولا میں ایک مسلم نوجوان پر جبریہ تبدیلیٔ مذہب کا الزام لگایا گیا اور پھر مسلمانوں کی دکان اور تجارتی مراکز پر حملے کئے جانے لگے ۔ بعد ازآں پوری مسلم آبادی کو اتراکھنڈ خالی کر نے کے لئے وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے ذریعہ الٹی میٹم دیا جا رہا ہے۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ریاستی انتظامیہ اور حکومت بھی شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی کر نے کے بجائے مسلمانوں پر ہی شکنجہ کس رہی ہے۔وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو مہا پنچایت تو نہیں کر نے دی گئی مگر نفرت آمیز بیانات اور شرپسندی کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہیں کی گئی حالانکہ سپریم کورٹ اپنے حالیہ فیصلہ میں ریاستی حکومتوں کو یہ ہدایت دے چکا ہے کہ وہ نفرت آمیز بیانات اور شرپسندوں پر فوری ایف آئی آر درج کر کے مقدمہ قائم کریں تاہم اس ہدایت کے باوجود ریاستی حکومتیں ان معاملات میں ٹال مٹول کا رویہ اپنائے ہو ئے ہیں۔بات سپریم کورٹ کے عمومی حکم سے آگے نکل چکی ہے ۔نفرت آمیز بیانات اور ان بیان بازوں پر ایف آئی درج کر کے انہیں جیل رسید کرنا تو انتظامیہ کی پہلی ذمہ داری ہے ۔اس میں سپریم کورٹ کے حکم یا سرزنش کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے ۔لیکن اب عام طور پر یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ بغیر سپریم کورٹ کی مداخلت کے ایف آئی آر بھی درج کرنے میں پولیس آنا کانی کرتی ہے ۔دہلی میں خواتین پہلوانوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے باوجود پولیس نے مہینوں بر سر اقتدار حکومت کے ایک ایم پی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے گریز کرتی رہی ،بالآخر ان ریسلرز کو جنتر منتر پر دھرنا دینا پڑا لیکن جب اس سے بھی بات نہیں بنی تو عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج تو کر لی لیکن اس ایم پی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔جبکہ جنسی زیادتی اگر کسی نابالغ لڑکی کے ساتھ ہو تو پھر معاملہ بے حد سنگین ہو جاتا ہے لیکن اس کیس میں ایسا کچھ نہیں ہوا اور 15جون کو دہلی پولیس نے جو چارج شیٹ داخل کی ہے اس میں تو یہ سفارش کی ہے کہ نابالغ پہلوان بچی کا الزام بے بنیاد ہے اور ایسے شواہد نہیں ملے کہ ملزم برج بھوشن سنگھ کے خلاف پاکسو ایکٹ برقرار رکھا جائے ۔
عدالتی احکامات کو نظر انداز کر کے حکومت کے کارندوں کو کوئی گزند نہ پہنچانااب ملک کی پولیس اور انتظامیہ کاعام کردار ہو چکا ہے ۔ایسے میں اترا کھنڈ کے مسلمانوں کو انصاف مل جائے گا یہ کہنا مشکل ہے۔ اسی دوران مسلم پرسنل لا بورڈ کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بورڈ اتراکھنڈ کی حکومت سے مطالبہ کر تا ہے کہ وہ ریاست میں امن و امان کو قائم کرے، قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے اور شرپسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ ریاست کے ہر شخص کی جان و مال کی حفاظت کر نا ریاستی انتظامیہ اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔بورڈ کے نزدیک یہ ایک خوش آئند پہلو ہے کہ ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کی پی آئی ایل(PIL) پر فیصلہ دیتے ہو ئے اتراکھنڈ کے ہائی کورٹ نے آج اپنے فیصلے میں کہا کہ ریاست میں امن و امان اور قانون کی حکمرانی کو قائم رکھنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ کورٹ نے ریاست کے شہریوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ سوشل میڈیا پر کو ئی غیر ذمہ دارانہ پوسٹ نہ ڈالیں اور نہ ہی سوشل میڈیا ڈبیٹس میں کوئی ایسی بات کہیں جس سے ریاست کا ماحول متأثر ہو۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ریاست کے تمام پر امن شہریوں سے اپیل کر تا ہے کہ وہ ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو باقی رکھنے کے لئے میدان میں آئیں۔ حکومت اور انتظامیہ پر دبائو ڈالیں کہ وہ ہر حال میں امن و سلامتی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے۔
لیکن ملک کے مسلمان جانتے ہیں کہ مسلم پرسنل لا بورڈ جیسے کاغذی شیروں سے یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی ۔اور اس وقت جو حالات ہیں اس میں تو یہ ناممکن بھی ہے کیونکہ بجرنگ دل ہو یا وشو ہندو پریشد ان کا وجود سرکار سے الگ نہیں ہے ۔اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ سرکار کی مرضی کے خلاف ایسی مہم چلائیں ۔اور یہ سب جانتے ہوئے بھی اگر صرف اپیل کر کے فرض ادا کر دیا جائے تو اسے قابل ستائش قدم نہیں کہا جا سکتا جب تک عملی طور پر میدان میں نہ نکلا جائے۔لیکن سوال پھر وہی ہے کہ اس عملی اقدام میں مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتوں کے سامنے آئین ہند کا آئینہ لے کر کھڑا ہونا ہوگا ،لیکن ماضی کے کئی معاملات میں مسلم پرسنل لا بورڈ کو اس سلسلے میں ناکامی ہی ہوئی ہے ۔لہٰذا جملہ ملی تنظیموں کو اس سلسلے میں سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے اور یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ آخر اترا کھنڈ کے مسلمانوں کو ان کے آبائی گاؤں سے نکال باہر کرنے کی اس جرأت کے دور رس نتائج کس قدر سنگین اور غیر آئینی ہیں ۔
(شعیب رضا فاطمی )












