لبنان:یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کے لیے قائم عسکری اتحادنے اعلان کیا ہے کہ یمن میں کشیدگی میں کمی کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی فوجی سرگرمی سے فوری طور پر اور سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا۔اتحاد نے واضح کیا کہ یمن میں کیے جانے والے تمام اقدامات کا مقصد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مشترکہ کوششوں کو کامیاب بنانا اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے”کے مطابق اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رشاد العلیمی کی درخواست پر یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ درخواست میں حضرموت صوبے میں شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا، کیونکہ جنوبی عبوری کونسل سے وابستہ مسلح عناصر کی جانب سے شہریوں کے خلاف سنگین اور ہولناک انسانی خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔ترجمان کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے کشیدگی میں کمی کے لیے جاری مسلسل اور مشترکہ کوششوں کے تناظر میں یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں جنوبی عبوری کونسل کی افواج کا انخلا، کیمپوں کی ’درع الوطن‘ فورسز کے حوالے کرنے اور مقامی انتظامیہ کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل بنانا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کے منافی کسی بھی فوجی پیش قدمی سے بروقت اور براہِ راست نمٹا جائے گا تاکہ شہریوں کی جانیں محفوظ رہیں اور سعودی اماراتی کاوشیں کامیاب ہوں۔میجر جنرل ترکی المالکی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اتحادکی مشترکہ قیادت کا یمنی قانونی حکومت کے لیے حمایت کا موقف برقرار اور غیر متزلزل ہے۔ انہوں نے تمام فریقوں سے قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے، تحمل اور امن و استحکام کے تحفظ کے لیے پرامن حل کی کوششوں کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔یمن کے مشرقی صوبوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ اور مسلح فوج کے سینر کمانڈر رشاد العلیمی نے سعودی قیادت میں قائم آئینی اتحاد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمنی مسلح افواج کی مدد کرے تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے، ثالثی کے عمل کو تحفظ دیا جائے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے ضروری فوجی اقدامات کیے جائیں۔یہ مطالبہ انہوں نے قومی دفاعی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کے دوران کیا، جس میں صدارتی قیادت کونسل کے ارکان نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں حضرموت اور المہرہ صوبوں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، جہاں جنوبی عبوری کونسل کی جانب سے فوجی کشیدگی اور یکطرفہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ یمنی خبر رساں ایجنسی ’سبا‘ کے مطابق ان اقدامات کو یمن اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔قومی دفاعی کونسل نے رواں ماہ کے آغاز سے جاری اس کشیدگی کو عبوری مرحلے کے طے شدہ حوالوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، جن میں اقتدار کی منتقلی کا اعلان اور ریاض معاہدہ شامل ہیں۔ کونسل نے اسے ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت اور سعودی اماراتی ثالثی کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کشیدگی میں کمی کے لیے ان کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔












