صدام حسین فیضی
رام پور، سماج نیوز سروس: روایتی انداز میں امسال بھی جلوسِ محمدیﷺ نہایت جوش وخروش کے ساتھ اپنے قدیم مقام قلعہ معلی سے برآمدکیاگیا۔ صبح 9بجے جلوس محمدی گولے داغ نے کے بعد شروع ہوا۔یہ جلوس اپنی قدیم روایت کو برقراررکھتے ہوئے مزارحافظ شاہ جمال اللہ ؒ کے سجادہ نشین شاہ فہد احمد جمالی کی قیادت اور قاضی شرع مفتی سید فیضان میاں حسنی رضوی نوری کی سرپرستی میں نکلایا گیا۔ پورے علاقے میں پولیس فورس تعینات رہی۔راستہ بھر عاشقانِ مصطفی درود شریف، قل شریف، نعرہ تکبیر اور سلاۃ وصلام پیش کررہے تھے۔ اس پرنور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالستاررضوی نے جلوسِ محمدیﷺ کی مخالفت کرنے والوں کو کراراجواب دیا۔ انہوں نے کہاکہ جو لوگ اس وقت جلوسِ محمدی کی مخالفت کررہے ہیں انہوں نے پہلے خود بھی جلوس نکالاہے مگر اب عاشقانِ مصطفی کی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے اس لئے یہ لوگ کڑہن محسوس کررہے ہیں کیوں کہ یہ سب دیوبندی اور وہابی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ بڑا افسوس ہوتا ہے جو کہتے ہیں یہ ولادتِ نبی کا نہیں وفاتِ نبی کا دن ہے۔ شرم آنا چاہئے جو مصطفی کی ولادت باسعادت کو نہ مناکر گمراہ کن پروپیگنڈہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس دن کو 12وفات کے طورپرمناتے ہیں۔جگہ جگہ شیرینی اورتبرک تقسیم ہورہاتھا اور عاشقِ رسول ہاتھوں میں بینر اور جھنڈے لئے ہوئے اپنی محبت کااظہارکررہے تھے۔ یہ جلوس قلعہ معلی سے برآمد ہوکر صرافہ بازار، جامع مسجد، برتن بازار، گوئیاں تالاب ہوتاہوا دیر شام کو مزار حافظ جمال اللہؒ پر اختتام پذیرہوا۔ جلوس میں نظامت کے فرائض شاہد علی خاں جمالی انجام دے رہے تھے۔ آخر میں قاضی شرع مفتی فیضان الحسنی رضوی نے کہاکہ نبی کریمﷺ کی ولادت کا جشن نہ صرف زمین پر منایاجاتاہے بلکہ آسمانوں پر فرشتے بھی مناتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبِ مکرم ﷺ کو ساری دنیا کے لئے رحمۃ للعالمین بنایاہے۔ آپ نے دنیا سے تاریکی کو چھانٹ کراجالاپیدا کردیا۔خصوصی طورپر مولانا عارف جمالی اور اطہر جمالی پرکیف انداز میں نعت نبیﷺ گن گنارہے تھے تو فہد خورشید پرنور اندازمیں قرأت سے عاشقانِ مصطفی کا دل جیت رہے تھے۔ مولانا محمد رفیع رضوی تحسینی نے ولادتِ مصطفی کیسے منائیں اور کن چیزوں سے باز رہیں اس پر تفصیلی روشنی ڈالی۔قاضی شرع کی خصوصی دعاپر تقریب کااختتام دیر شام ہوا۔ اس جلوس میں سنی شیعہ تمام مذاہب کے لوگ موجودتھے اور وہ نبی کریمﷺ کی ولادت کاجشن منارہے تھے۔ واضح کردیں کہ جلوس کا ایک سراقلعہ کے دروازہ پر تھا تو دوسرا جوالہ نگرشہرسے پار تھا۔ سیکڑوں کی تعدادمیں انجمنیں آپس میں جڑرہی تھے اور جلوسِ محمدی کو بھاری کررہی تھیں۔آج کاجلوس انتہائی پر امن طورپر نکالاگیا جس کی چہار جانب ستائش کی جارہی ہے۔












