عراق:عراق کی پارلیمنٹ میں دو ہفتے قبل پیش کیے جانے والے پرسنل اسٹیٹس لا میں ترمیم کے مسودے پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل دیکھا جارہا ہے۔
بہت سی انسانی حقوق اور خواتین کی تنظیموں نے اس قانون کو کم عمری کی شادی کے لیے راہ ہموار کرنے اور دیگر معاملات کے حوالے سے خواتین کے حقوق کو کم کرنے کا الزام لگایا ہے۔
اس ترمیم کا مسودہ کل منگل کو پارلیمنٹ میں دوسری منظوری کے لیے پیش کیا گیا مگر پارلیمانی اجلاس میں اس پر ہنگامہ ہوا اور منظوری میں ناکامی ہوئی۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، قانونی ماہرین کی طرف سے تیار کردہ اور مذہبی حکام کی طرف سے جائزہ لی گئی ان ترامیم میں شادی کی قانونی عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے، لیکن 15 سال تک کی لڑکیوں کو والدین کی رضامندی اور بلوغت کے طبی ثبوت کے ساتھ شادی کی اجازت دی گئی ہے۔
سب سے نمایاں قانونی تبدیلیاں جنہوں نے تنازعہ کو جنم دیا ہے ان کا تعلق مذہبی حکام کو شخصی قانون سے متعلق معاملات پر فیصلہ کرنے کی اجازت دینے سے ہے۔ اس اقدام کے تحت بعض مکاتب فکر نو سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی شادی کی اجازت دیتے ہیں۔تاہم، سماجی تنظیموں نے ان ترامیم کی مخالفت کی، اور دارالحکومت بغداد کے تحریر اسکوائر میں پارلیمنٹ کے اطراف میں نعرے لگائے اور احتجاج کیا۔ سوشل میڈیا پر بھی وسیع پیمانے پر مہم چلائی جارہی ہے۔
یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کے بااثر شیعہ دھڑے، جنہیں علماء کی حمایت حاصل ہے، تنقید کر رہے ہیں کہ ریاست مغربی ثقافت کو فروغ دے رہی ہے۔
اس قانون کو زیادہ تر شیعہ قانون سازوں کی حمایت حاصل ہے جن کی پارلیمنٹ میں اکثریت ہے۔قابل ذکر ہے کہ 1959 میں جاری ہونے والے عراقی پرسنل اسٹیٹس قانون کو وسیع پیمانے پر ایک مضبوط بنیاد کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو کہ عورتوں اور بچوں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے، تاہم، اس میں کچھ بہتری لائی جا سکتی ہے۔












