صادق شروانی
نئی دہلی،03اپریل ،سماج نیوز سروس:برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی مودی حکومت نے یوں تو اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے قومی ادارے خالی پڑے ہوئے ہیں اور کئی اداروں کی بحالی یعنی بھرنے کے لیے سیاسی اور سماجی کارکنان کی جانب سے عدالت سے بھی گہار لگائی گئی ہے کہ ان اداروں کی جلد سے جلد مرکزی حکومت تشکیل کرے۔ مرکزی حکومت نے قومی اقلیتی کمیشن کی تشکیل دینے کے مقصد سے دو ممبران کو نامزد بھی کردیا ہے۔ جن میں تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والی منوری بیگم ہیں جو پہلے بھی حکومت سے کام کر چکی ہیں۔ تو وہیں پارسی طبقے سے ممبئی سے ورجش دیسائی کو نامزد کیا گیا ہے۔ حالانکہ ابھی چیئرپرسن وائس چیئرپرسن اور مزید ممبران کی تقرری ہونا باقی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ قومی اقلیتی کمیشن کی تشکیل کے لیے معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اس لیے حکومت کے پاس تشکیل کے علاوہ کوئی اور چارہ نظر نہیں آرہا ہے۔ اس معاملے پر ہمارا سماج کے نمائندے نے جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی اقلیتی صدر جمال صدیقی سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ نہ صرف قومی اقلیتی کمیشن بلکہ دیگر اداروں کی تشکیل کے لیے ہم نے گذشتہ دنوں مرکزی وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو سے بات کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ نہ صرف مسلمانوں سے وابستہ بلکہ تمام اقلیتی اداروں کی جلد سے جلد تشکیل دی جائے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ مرکزی اقلیتی امور کرن رجیجو کی طرف سے یقین دہائی کرائی گئی کہ وہ اس سلسلے میں تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ اور امید کرتے ہیں کہ بہت جلد ان اداروں کی حکومت ہند تشکیل دے گی۔ بی جے پی کے قومی اقلیتی صدر نے مزید بتایا کہ مرکزی اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو سے ملاقات کے دوران ممبئی سے بی جے پی اقلیت کے صدر ادریس ملتانی اور دیگر لوگ بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ آپ کو بتا دیں کہ مرکزی حکومت کے تحت چلنے والے حج کمیٹی آف انڈیا، سنٹرل وقف کونسل، قومی اقلیتی کمیشن، مولانا آزاد ایجوکیشنل فائونڈیشن اور بھارت میں لسانی اقلیتوں کا کمشنر (مختلف زبانوں کو فروغ دینے والاادارہ) وغیرہ ادارے خالی پڑے ہوئے ہیں۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے ان اداروں کی تشکیل کے لیے تیاری شروع کر دی ہے۔ جس کے تحت سب سے پہلے قومی اقلیتی کمیشن تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ اور اس کے لیے دو ممبران کی تقرری کر لی گئی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ قومی اقلیتی کمیشن نے کل سات ممبران ہوتے ہیں اور تمام ممبران حکومت کی جانب سے نامزد کئے جاتے ہیں جن میں چیئرپرسن اور وائس چیئرپرسن سمیت پانچ ممبران اور ہوتے ہیں۔ حالانکہ گذشتہ قومی اقلیتی کمیشن میں دو مرتبہ چیئرپرسن کے عہدے پر کسی مسلمان کی تقرری نہیں ہوسکی تھی۔ اس لیے اس مرتبہ لوگ اندازہ لگا رہے ہیں کہ قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرپرسن کا عہدہ مسلمان کے ہاتھ میں آسکتا ہے۔ عام طوپر جس پارٹی کی حکومت ہوتی ہے اس کے کارکنان افسران کے مقابلے اپنی پارٹی کے لوگوں سے کام کرانے میں خود کو زیادہ فٹ پاتے ہیں۔ اس لیے ان کا بھی مطالبہ ہے کہ ان اداروں کی جلد سے جلد تشکیل دی جائے۔ اگر گذشتہ قومی اقلیتی کمیشن کی بات کریں تو دو ٹرم کے لیے ریٹائر آئی پی ایس لال سنگھ پورہ چیئرپرسن رہے۔ جس میں سید شہزادی، مشچیل لیگو (بدھسٹ)، کے کے ڈیبو (پارسی)، جی نپہ غنڈے (جین) ، کرشچن طبقے سے گذشتہ کمیشن نے کسی کو نمائندگی نہیں مل سکی تھی۔ حالانکہ وائس چیئرمین کے عہدے پر عاطف رشید نے کام کیا تھا اور اس سے قبل وہ قومی اقلیتی کمیشن میں وہ ممبر کے طور پر کام کر چکے تھے۔ عام طور پر قومی اقلیتی کمیشن میں دو ممبران مسلمان ہوتے ہیں ایک شیعہ اور دوسرا سنّی طبقے سے ہوتا ہے۔ جیسے اس سے قبل قومی اقلیتی کمیشن کے مسٹر غیور الحسن چیئرمین تھے تب ممبر کے طور پر عاطف رشید اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔ حالانکہ کے کچھ لوگ منوری بیگم کو ممبر بنائے جانے پر یہ بھی اندازہ لگا رہے ہیں کہ اس مرتبہ جین کمیونٹی کے حصے میں چیئرپرسن کا عہدہ آسکتا ہے۔












